”الٰہی خیر ہو“

سعید آسی
نئے سال کیلئے بھی ماہرین ارضیات و موسمیات اور سیاسی پنڈتوں نے دلگیر و نمناک حالات کی ہی پیشین گوئیاں کی تھیں سو ان پیشین گوئیوں کے مطابق ہی سال 2021ءکا سورج ہمارے لئے دکھوں اور آلام کے ٹوکرے اٹھائے ہوئے نمودار ہوا اور دنیا کا اتھل پتھل والا نقشہ بنتا ہوا نظر آیا۔ میرے لئے دو ذاتی دکھ میرے دو پیاروں کی یکے بعد دیگرے ازلی جدائی کے تھے۔ برادر رﺅف طاہر کے سانحہ ارتحال نے مجھے نڈھال کیا ہوا تھا کہ ہمارے بزرگ یٰسین وٹو بھی چار روز بعد ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔
وٹو صاحب تو ہمارے ایک طرح سے فیملی ممبر بن چکے تھے۔ خوشی غمی میں انکی شرکت کے ساتھ ساتھ گھر کے سارے اہم معاملات انکی مشاورت سے ہی طے ہوتے تھے۔ جب بھی کسی سخت گھڑی کا سامنا ہوتا تو یٰسین وٹو صاحب ہمارے گھر میں بیٹھ کر آیات قرآنی کا ورد اور خصوصی دعاﺅں کا اہتمام کرتے۔ میری بہو جویریہ شہباز کے ہاتھ کی پکی ہوئی شوربے والی مچھلی بہت رغبت سے تناول کیا کرتے۔ گھر آنے سے پہلے انکی پہلی شرط یہی ہوتی کہ جویریہ سے شوربے والی مچھلی کی ڈش تیار کرالو۔
کسی وقت جویریہ موجود نہ ہوتی تو وٹو صاحب کیلئے مچھلی والی ڈش کی تیاری کا فریضہ میری اہلیہ ثمینہ سعید سرانجام دیتی تو وٹو صاحب اسکی بھی یہ کہہ کر ستائش کرتے کہ یہ تو آپ دونوں کے ہاتھ کا کمال ہے۔ گھر آتے تو تمام اہل خانہ کے ساتھ گھل مل جاتے اور آفات و بلیات سے گھر کو محفوظ رکھنے کے وظائف خود بھی پڑھ کر پھونک مارتے اور میری اہلیہ‘ بیٹیوں اور بہوﺅں کو بھی یہ وظائف پڑھتے رہنے کی تلقین کرتے۔
بہت مجلسی آدمی تھے۔ ایک جہان ان کا گرویدہ تھا۔ علم الاعداد‘ پامسٹری اور ستارہ شناسی کے ماہر اور انسانی ذہنوں کو پڑھنے پر بھی ملکہ رکھتے تھے۔ چنانچہ سیاست دانوں‘ بیوروکریٹس‘ فنکار‘ دانشوروں میں یکساں مقبول تھے۔ میاں شہبازشریف اور چودھری پرویز الٰہی ان سے خاص انسیت رکھتے تھے‘ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان انکی ستارہ شناسی پر صاد کیا کرتے تھے اور ٹی وی اینکرز (میل‘ فی میل) کی تو گویا وہ جان تھے۔ اس طرح وہ فی الحقیقت جانِ جہان تھے۔ ایسی ہر دلعزیز شخصیت کا اچانک بیٹھے بٹھائے رخصت ہوجانا تو …ع ”عجب اک سانحہ سا ہوگیا“۔
وٹو صاحب ہمارے وقت ٹی وی چینل کے ابتدائی پروگراموں کا حصہ تھے۔ ”ڈاکٹر زوڈک“ کے ساتھ مل کر ایک لائیو ٹاک شو کا آغاز کیا اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ اسکے ساتھ ساتھ ان کا ہفتہ وار کالم نوائے وقت کے ادارتی صفحات پر اور ہفتے بھر کی پیشین گوئیوں پر مبنی کالم سنڈے میگزین کی تسلسل کے ساتھ زینت بنتا رہا۔ محترم انکے ساتھ خصوصی انس رکھتے تھے جن کے ساتھ انکی آفس میں اور گھر پر طویل نشستیں ہوتی رہیں۔
میرا ”پاکپتنی گرائیں“ ہونے کے ناطے بھی انکے ساتھ خصوصی تعلق رہا۔ انکے پاکپتن کے سیاسی خانوادے مانیکا وٹو فیملی کے ساتھ بھی فیملی جیسے ہی تعلقات استوار تھے اور سیاسی فہم و بصیرت کی بنیاد پر وہ ملک کی سلامتی اور اسکے مستقبل کیلئے فکرمند رہتے تھے۔
یہ ارضِ وطن (خدا اسے تاقیامت سلامت رکھے) بلاشبہ آج انتہائی سنگین خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ دنیا کے آبی ماہرین اور مسلمہ ادارے اگلے پانچ سال تک ہمارے لئے بدترین خشک سالی اور قحط کی گھنٹی بجا چکے ہیں۔ ہمارے زیرزمین پانی کی سطح اس وقت تین ہزار فٹ تک نیچے جا چکی ہے اور بتدریج پانی خشک ہونے کا عمل ہماری زرخیز دھرتی کو بہت تیزی کے ساتھ بے آب و گیاہ ریگستان میں تبدیل کرتا نظر آرہا ہے۔
اس وقت بھی عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کا شمار ایتھوپیا سے بھی بدتر قحط زدہ ممالک کی فہرست میں کیا ہے اور 2025ءتک پانی کے قطرے قطرے کو ترسنے والے پاکستان کا نقشہ تو ہمارے آبی ماہرین بھی کھینچ چکے ہیں۔
ہمارے شروع دن کے دشمن بھارت کی تو یہی منشاءہے کہ وہ اس ملک خداداد کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی سازشوں میں کوئی کسر نہ چھوڑے چنانچہ وہ ہمیں بدترین دہشت گردی کی بھی لپیٹ میں لاچکا ہے‘ ہم پر باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی بھی جلدی میں نظر آتا ہے اور ہم پر آبی دہشت گردی کا بھی پورا اہتمام کئے بیٹھا ہے۔
اس سال کا آغاز ہی بھارت نے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں کو بڑھاوا دے کر کیا ہے۔ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری کے گیارہ مزدور کان کنوں کا بہیمانہ اجتماعی قتل پاکستان کو دہشت گردی اور فرقہ واریت کی بنیاد پر کمزور کرنے کی گھناﺅنی بھارتی سازش ہی کا شاخسانہ ہے اور ایسی بھارتی سازشیں تو اب پوری دنیا پر کھل رہی ہیں اور دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے سفاک بھارتی ہاتھ روکنے کی متقاضی ہیں مگر ہم ہیں کہ ان سنگین حالات میں بھی ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ایک دوسرے کو مطعون کررہے ہیں‘ ایک دوسرے کی پگڑی اچھال رہے ہیں‘ ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہے ہیں‘ ”باتدبیر“ حکومتی اکابرین ملک میں در آنے والی ہر خرابی اور ہر برائی کا ملبہ سابق حکمرانوں (موجودہ اپوزیشن) کے سر تھوپنے کو ہی اپنی گورننس اور کارنامہ بنائے بیٹھے ہیں۔ ملک بھر میں بجلی کا اچانک بریک ڈاﺅن ہوتا ہے تو اسکی اصل وجوہات کا کھوج لگانے کے بجائے متعلقہ وزیر باتدبیر اسے بھی سابق حکمرانوں کی سسٹم کو درست نہ کرنے والی کوتاہیوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں جبکہ اپوزیشن کو ایسے سارے معاملات حکمرانوں کی نااہلیت کا پراپیگنڈہ کرنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں سو اس باہمی آپادھاپی کا یہ سال کوئی اچھا منظر بناتا تو نظر نہیں آرہا۔ خدا خیر ہی کرے۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*