چینی کی قیمت 100 رو پے کلو سے اوپر جانے کا خد شہ

پاکستان شوگر ملز ایسو سی ایشن نے وزیر اعظم عمر ان خان کے نام لکھے گئے خط میں چینی کی قیمت ایک با ر پھر 100 رو پے کلو سے اوپر جانے کا خد شہ ظا ہر کیا ہے خط میں لکھا گیا ہے کہ گنے سے کی جانے والی ریکو ری انتہائی کم رہی ملک تقر بیاً 3 لا کھ ٹن چینی سے محر وم ہو ا خط میں وزیر اعظم عمر ان خان سے استد عا کی گئی ہے کہ وہ گنے کی مقر ر ہ وقت پر فر اہمی یقینی بنائیں حکومتی احکا ما ت کے مطا بق گر شنگ 30 نو مبر سے شر وع کی گئی اس کے نتیجے میں گنے سے کی جا نے والی ریکو ری انتہائی کم رہی حکومت نے یقین دہا نی کر ائی تھی کہ مڈل مین کا دخل نہیں ہو گا اور 200 رو پے فی من قیمت یقینی بنا ئی جائے گی تا کہ عو ام کو چینی 75رو پے فی کلو گر ام کے
منا سب ریٹ پر مل سکے۔
ملک میں ایک عر صے سے چینی کی قیمت بے لگا م ہوگئی ہے جس پر حکومت کا قا بو نہ کرنا افسو سنا ک
با ت ہے اگر حکومت ایک چیز کو کنٹر ول نہیں کر سکتی تو پھر وہ با قی معا ملا ت کیسے کنٹر ول کر ے گی اس سے پہلے چینی 55 روپے فی کلو گر ام سے بڑ ھ کر 100 رو پے سے زا ئد تک جا پہنچی تھی لیکن اس کے بعد وزیر اعظم
عمر ان خان کے نو ٹس لینے کے بعد یہ کم ہو کر 80 رو پے فی کلو تک ہو گئی تھی لیکن اب ایک با ر پھر اس کی قیمتو ں کو پر لگنے کا شد ید اند یشہ ہے جو 100 رو پے کلو سے اوپر
جا سکتی ہے جس کا اظہا ر پاکستان شو گر ایسو سی ایشن نے اپنے مذکو رہ خط میں کیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ چینی جیسی بنیا دی استعما ل کی شے جو ہر غر یب اور امیر آد می کی ضرورت ہے کے نر خ کنٹر ول کرنے میں بے حسی دکھا نا حکومت کے لیے بہت بڑ ا لمحہ فکریہ ہے موجو دہ حکومت نے اس معا ملے پر ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی ر پو رٹ حکومت کو پیش کر دی اور اس کو وزیر اعظم عمر ان خان نے پبلک بھی کیا اور اس میں ملو ث عنا صر جن میں وزیر اعظم عمر ان خان کے قریبی سا تھی جہا نگیر خان کا نا م آیا جس کا اعلان وزیر اعظم عمر ان خان نے بلا جھجک کیا جو کہ
بلا شبہ ان کا بہت بڑ ا کا ر نا مہ ہے لیکن اتنا کچھ ہونے کے با و جو د ایک عر صے سے اب تک چینی کی قیمتو ں پر کنٹر ول نہیں ہو پا رہا جو کہ بڑ ے افسو س کی با ت ہے۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم عمر ان خان کو پاکستان شو گر ملز ایسو سی ایشن کی جا نب سے لکھے گئے مذکو رہ خط کو سنجیدگی سے لینا چا ہیئے کیو نکہ اس میں تما م حقا ئق سے آگا ہ کر دیا گیا ہے اس کو سنجید گی سے لیتے ہوئے اس سلسلے میں احسن اقد امات کرنے چاہئیں تا کہ چینی کی قیمتو ں میں کمی آسکے اس سلسلے میں حکومت کو حکومت میںشا مل اور اپو ز یشن میں بیٹھے ایسے عنا صر کے خلا ف تا دیبی کا رو ائی کرنی چا ہیئے جو بر اہ را ست شو گر ملز سے وا بستہ ہیں یا ان کے اونر ز ہیں پاکستان چینی کی پید او ار میں خو د کفیل ملک ہے لیکن اس کے با وجو د چینی در آمد کرنا ایک سو الیہ نشان ہے اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر تحقیقا ت کر نی چاہیئے اور اس پر کسی بھی قسم کو کوئی کمپر و ما ئز نہیں کرنا چا ہیئے کیو نکہ اس کی
گنجا ئش با لکل نہیںہے۔
امید ہے کہ وزیر اعظم عمر ان خان ایک با ر پھر اس اہم مسئلے کا نو ٹس لیتے ہوئے اس کے حل کیلئے متعلقہ حکام کو وا ضح احکا ما ت جا ری کریں گے جس طرح انہو ں نے کمیٹی کے فیصلو ں کو پبلک کر کے جر ات مند انہ اقد ام کیا ایک با ر پھر ایسا ہی اقد ام کریں گے جو کہ انتہا ئی نا گز یر ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*