سینیٹ انتخابات سے ،متعلق صدارتی ریفرنس،پورے آئینی ڈھانچے کو جانچنا پڑےگا،چیف جسٹس

Chief Justice Gulzar Ahmed

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کےلئے دائر کردہ صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ کہا ہے کہ ہمیں پورے آئینی ڈھانچے کو جانچنا پڑےگا، عدالت مجموعی طور پر جائزہ لےکر ہی فیصلہ کرےگی جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے صدارتی ریفرنس کی مخالفت کر تے ہوئے کہاہے کہ صدارتی ریفرنس ناقابل سماعت ہے، ریفرنس پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے۔ پیر کوسپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد کے ساتھ جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل تھے۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان، ایڈووکیٹ جنرلز و دیگر لوگ پیش ہوئے۔یاد رہے کہ 4 جنوری کو سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کے معاملے پر پہلی سماعت کے بعد چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی و صوبائی اسمبلیز، الیکشن کمیشن، وفاقی و صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے تھے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل برائے پاکستان اور دیگر ایڈووکیٹ جنرلز کو اپنی تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ نوٹس اخبارات میں بھی شائع کیا جائے تاکہ جو اس معاملے پر رائے دینا چاہے وہ دو ہفتوں میں تحریری معروضات عدالت میں جمع کرائے۔پیر کو مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے وکیل کامران مرتضیٰ پیش ہوئے اور کہا کہ ہم تحریری معروضات جمع کرانا چاہتے ہیں، سپریم کورٹ دفتر ہمارا تحریری جواب وصول نہیں کر رہا، اس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ آپ تحریری جواب داخل کرا دیں جس کے بعد ان کی جانب سے تحریری معروضات جمع کروائی گئیں، جس میں صدارتی ریفرنس کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس ناقابل سماعت ہے، یہ ریفرنس پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے۔اس موقع سماعت کے دوران ایڈووکیٹ ملک قمر افضل اور مدثر حسن نے بھی مقدمے میں فریق بننے کی استدعا کی جسے عدالت نے قبول کرلیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر اور سابق چیئرمین ایوان بالا رضا ربانی نے کہا کہ بطور سینیٹر مقدمے میں فریق بننا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں ایک درخواست بھی دائر کی ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو فریق بننے کی اجازت ہے، تحریری جواب داخل کرائیں۔بعد ازاں جب کیس کی سماعت میں دلائل شروع ہوئے تو ایڈووکیٹ مدثر حسن نے کہا کہ میری دانست میں سینیٹ انتخابات خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہونے چاہیں، یہ پارلیمنٹ کا کام ہے، تاہم اس دوران وکیل قمر افضل نے کہا کہ میں اوپن اور خفیہ دونوں طریقوں کے انتخابات پر دلائل دوں گا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تحریری دلائل دے دیں لیکن پہلے یہ بتائیں کہ آپ ریفرنس کی حمایت کرتے ہیں یا مخالفت، جس پر قمر افضل نے کہا کہ میں حمایت کرتا ہوں لیکن میری رائے میں سپریم کورٹ اپنی تجاویز بھی دے سکتی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق سماعت کے دوران سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے صوبائی حکومت کے جواب جمع کرانے سے متعلق جب کہا گیا تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا سندھ حکومت کا جواب میٹھا ہوگا؟ جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔بعد ازاں بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگرچہ جواب جمع کرانے کے لیے 2 ہفتوں کی مہلت تھی آپ اس ہفتے جمع کرادیں۔اس موقع پر وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ میں نے جواب جمع نہیں کرایا لیکن جواب تیار ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ابھی عدالت میں جمع کرادیں، سارے جوابات آجائیں تو پھر معاملے کو دیکھتے ہیں۔چیف جسٹس کے ریمارکس کے بعد بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحس نے پوچھا کہ کیا قانون کے مطابق کوئی عام شہری آزادانہ سینیٹ الیکشن لڑسکتا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل کوئی قانونی قدغن نہیں، کوئی بھی شہری الیکشن لڑسکتا ہے، قومی اسمبلی کے الیکشن براہ راست ہوتے ہیں۔بعد ازاں اٹارنی جنرل نے تحریری معروضات جمع کرائیں اور کہا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے تحت قابل سماعت ہے، صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے اسکوپ سے متعلق ہے جبکہ سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے، مزید یہ کہ عدالت عظمیٰ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم پر اخبارات میں اشتہارات دیے گئے تھے۔اپنے دلائل کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر قانونی سوال پر سپریم کورٹ کی رائے لے سکتے ہیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے سوال قانونی یا عوامی مفاد کا ہے یا نہیں؟اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں بھی قوانین پر سپریم کورٹ سے رائے لی گئی ہے، کئی بار قانون سازی سے قبل صدر نے عدالتوں سے رائے لی، مزید یہ کہ عدالت ماضی میں بھی صدارتی ریفرنسز قابل سماعت قرار دے چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بھی صدارتی ریفرنس آیا تھا، عدالت نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا یا مسترد کرنے کی قرار داد منظور کر سکتی ہے۔خالدجاوید خان نے کہا کہ بھٹو ریفرنس کے علاوہ عدالت تمام ریفرنسز پر فیصلہ دے چکی ہے۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت میں بھی سینیٹ انتحابات اوپن بیلٹ سے ہوتے ہیں، سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہوتے تو الیکشن ایکٹ میں خفیہ ووٹنگ کا ذکر ہوتا۔انہوں نے کہا کہ صدارتی انتحابات کا مکمل طریقہ آئین میں درج ہے، صدارتی انتحابات آئین کے تحت خفیہ رائے شماری سے ہوتے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ آئین کے تحت کونسے انتخابات ہوتے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کئی انتحابات کا طریقہ کار آئین میں دیا گیا ہے، جن انتخابات کا طریقہ کار آئین میں نہیں وہ قانون کے تحت ہوں گے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں لکھا ہے کہ سینیٹ الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*