اداروں کے درمیان ڈائیلاگ وفاق کو مستحکم کرنے کا واحد حل ہے ، اپوزیشن ارکان سینیٹ

اسلام آباد( آئی این پی) سینیٹ میں اپوزیشن نے ایک مرتبہ پھر پارلیمنٹ میں اداروں کے درمیان ڈائیلاگ کی تجویز پیش کرتے ہوئے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مجوزہ ڈائیلاگ کو مسترد کر دیا ، جبکہ جزائر سے متعلق آرڈیننس پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ، اپوزیشن ارکان نے کہا کہ اداروں کے درمیان ڈائیلاگ وفاق کو مستحکم کرنے کا واحد حل ہے ،پارلیمنٹ نے پہلے بھی پہل کی ، فورم پارلیمنٹ ہے،ڈائیلاگ پارلیمنٹ نے شروع کرنا ہے ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈائیلاگ نہیں ہو سکتا اس کا فائدہ بھی کوئی نہیں ہے ، آئین کےساتھ کھلواڑ وفاق کے ساتھ کھلواڑ ہے،یہ حکومت چالیس کے قریب آرڈیننس جاری کر چکی ہے،حکومت آرڈیننس کی فیکٹری ہے ، جزائر پر وفاقی حکومت کی نظر ہے، جزیروں پر مقامی عوام کا حق ہے،جزائر کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس جزائر پر قبضہ کا آغاز تھا ، یہ جزائر کی بندربانٹ کے لئے کھڑے ہوئے ہیں، ملک برائے فروخت موجودحکومت کا بنیادی ایجنڈا ہے ،حکومت نے معیشت تباہ کردی، یہ ملک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا غلام بنارہی ہے، حکومت نے قرضہ لینے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم اور قائد ایوان سینیٹ سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ کوئی آرڈیننس جاری کیا جارہا ہے تو آئین کے مطابق ہے ،آرٹیکل 89نے ہمیں اجازت دی ہے، بلوچستان سے ہمیں لگاﺅ اور محبت ہے، بھارت کا غلیظ ایجنڈا ہے کہ بلوچستان کو کسی طرح پاکستان سے توڑاجائے،کوئی ایسی چیز جو حکومت غلط کررہی ہے توہمیں بتائیں، قومی یکجہتی اس حکومت کاایجنڈاہے،اپوزیشن نے یہ تاثردیا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے حقوق پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، پاکستان کا چپہ چپہ قیمتی اور عوام کی امانت ہے، ذخائر پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آئندہ سالوں میں برا حال ہو جائے گا، ذخائر کو ترقی دینے سے بڑے معاشی فوائد ہوں گے۔پیر کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا ، اجلاس کے دوران جزائر سمیت دیگر آرڈیننسوں پر بحث کی تحریک پراظہار خیال کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر نے کہ یہ حکومت چالیس کے قریب آرڈیننس جاری کر چکی ہے، قوم کے مفاد میں ایک بھی آرڈیننس نہیں ملے گا، چپکے سے ایک آرڈیننس جاری ہوا ،دو ستمبر 2020کو اس کا اجرا ہوا، جزائر کے آرڈیننس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے،بہت ہو چکا حکومت نے اتنی نفرتیں پھیلائیں آپ نے نفرتوں کی حد کر دی ، آپ ایک اور محاذ کھول رہے ہو، آپ ریاست کو کدھر لے کر جانا چاہتے ہو ،دو ستمبر کو جو آرڈیننس جاری کیا گیاہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسا فیصلہ نہ کرو، مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اہمیت دی جاتی اور ایسے ایشو پر بحث ہوتی، پارلیمنٹ ہی آئین بناتی ہے آئین میں ترمیم کرتی ہے پارلیمنٹ سے پالیسیاں جنم لیتی ہے،سینیٹ اجلاس ہماری ریکوزیشن پر ہو رہا ہے،اتنی قانونی سازی التوا کا شکار ہے،وزیراعظم ضرور سینیٹ میں آئیں، ہمیں یہاں بامعنی بات کرنی چاہیئے، ہمارے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے، گردشی قرضہ ابھی دو ہزار ارب ہے، سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ سی پیک کو ہمیں آگے چلانا ہے اس پرہماراکوئی اختلاف نہیں ہے، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر فروغ نسیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کتنے آرڈیننس لے کر آئی اور ن لیگ کی حکومت کتنے آرڈیننس لے کر آئی، جب 18ویں ترمیم ہو رہی تھی تو ایک طاقت ور کمیٹی بیٹھی، کاش اس وقت ایسی ترمیم کردیتے تو یہ نہیں ہوتا، فروغ نسیم نے کہا کہ کوئی آرڈیننس جاری کیا جارہا ہے تو آئین کے مطابق ہے ،18ویں ترمیم میں آرٹیکل 89اس طرح ہی رکھا گیا ہے،آرڈیننس کی لائف عارضی ہوتی ہے ،آرٹیکل 89نے ہمیں اجازت دی ہے، فروغ نسیم نے کہاکہ میں اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ ہوں، بلوچستان سے ہمیں لگاﺅ اور محبت ہے، بلوچستان پر ہمارا فخر ہے، بھارت کا غلیظ ایجنڈا ہے کہ بلوچستان کو کسی طرح پاکستان سے توڑاجائے ، فروغ نسیم نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بدو بنڈل آئی لینڈ پورٹ قاسم اتھارٹی کو دے دیا تھا، ہم ان کے دفاع میں ہیں کہ ذولفقار علی بھٹو نے صحیح کیا، فروغ نسیم نے کہا کہ یہ آرڈیننس لیپس کر گیا آریننس28 دسمبر کو لیپس کر گیا ہے، کوئی ایسی چیز جو حکومت غلط کررہی ہے توہمیں بتائیں، قومی یکجہتی اس حکومت کاایجنڈاہے، پارلیمنٹ کی توقیر ہونی چاہیے ، آپ کی طرف سے کوئی تجویز ہو ہمیں سفارشات دیں حکومت اس کوگلے سے لگائے گی اور فالو کرے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ حکومت آرڈیننس کی فیکٹری ہے ، یہ آرڈیننس لیپس ہوچکا ہے حکومت پھر سے کوشش کر رہی ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے کبھی نہیں کہا تھاکہ جزائر وفاقی حکومت کو دیئے جائیں، جزائر صوبوں کے ہیں سینکڑوں جزائر ہیں، جزائر پر وفاقی حکومت کی نظر ہے ، آرٹیکل ون کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے، سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ ایک طرف سندھ کی گیس بند ہے، یہ لوگوں سے بھاگتے ہیں، وزیر اعظم کھوکھلے ہو چکے ہیں ، لوگ ان کو سنجیدہ اب لے ہی نہیں سکتے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاںرضا ربانی نے کہا کہ لگتا ایسے ہے کہ ریاست نے اس بات کر فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ تمام تر فالٹ لائنز جو ملک کے اندر موجود ہیں ان کو اجاگر کیا جائے، اور اس کی کیا قیمت ہوگی اس کے کیا اثرات وفاق پر مرتب ہوں گے؟ اس کو مدنظر نہیں رکھا جارہا، انہوں نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ٹریڈ یونینز کو ختم کیا جارہا ہے ان کی قوت کو تقسیم کیا جارہا ہے، رضاربانی نے کہا کہ بھارت جیسے ملک پاکستان میں ان فالٹ لائنز کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، صوبائی خودمختاری کامسئلہ حل نہیں ہوا تھا ، ایک حد تک آگے بڑھا تھا 18ویں ترمیم کے بعد،، میاں رضا ربانی نے کہا کہ جب تک تمام ادارے اس بات پر رضامند نہیں ہوتے کہ جو اختیارات کی مثلث73 کے آئین میں دی ہوئی ہے اس پر عملدر آمد کیا جائے اسوقت تک یہ تمام باتیں بے سود ہیں کبھی آپ کسی کو استعمال کرتے ہیں ، میاں رضا ربانی نے کہا کہ آئین کےساتھ کھلواڑ وفاق کے ساتھ کھلواڑ ہے، ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے ، آئین کے تحت تین ادارے ہیں انتظامیہ ہے پارلیمنٹ اور عدلیہ ہے پارلیمنٹ نے پہلے بھی پہل کی ، فورم پارلیمنٹ ہے، پارلیمنٹ نے پہلی بھی پہل کی،کمیٹی آف ہول بیٹھی ، دیگر ادارے اسی ہال میں آئے یہاں پر بات ہوئی ،ڈائیلاگ پارلیمنٹ نے شروع کرنا ہے ،میں اس ڈائیلاگ کی بات نہیں کر رہا جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہے وہ ڈائیلاگ نہیں ہو سکتا اس کا فائدہ بھی کوئی نہیں ہے ، میںاداروں کے درمیان ڈائیلاگ کی بات کر رہا ہوں ، اداروں کے درمیان ڈائیلاگ وفاق کو مستحکم کرنے کا واحد حل ہے۔ سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاﺅس آف فیڈریشن ہے ،اڑھائی سال ہم نے الزامات میں گزارے ہیں ۔ قانون سازی کدھر ہے ، ہر چیز پر سیاست کی جاتی ہے ، انہوں نے کہاکہ اب ترقی کا وقت آگیا ہے ، اگلے پانچ سال بھی عمران خان کے ہیں ، پی ڈی ایم میں گیارہ جماعتوں نے اکٹھے ہوکر کیا کیا؟ انہوں نے قوم کا وقت ضائع کیا۔قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جزائر کامعاملہ انتہائی اہمیت کامعاملہ ہے، عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ یہ صوبائی معاملہ ہے، صوبوں کی رائے کو نظر انداز کرنا قومی یکجہتی کےلئے نقصان دہ ہو گا۔ قائد ایوان سینیٹرڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ یہ تاثر ابھرا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے حقوق پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، پاکستان کا چپہ چپہ قیمتی اور عوام کی امانت ہے، وفاقی حکومت صوبے کو پاکستان کی حیثیت کی نظر سے دیکھتی ہے، صوبہ مضبوط ہو گا تو وفاق ترقی کرے گا، جزائر پر فوری توجہ نہ دی جاتی تو آئندہ سالوں میں برا حال ہو جائے گا، ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے آبی حیات اور ماہی گیری کو خطرہ ہے، ان کو ترقی دینے سے معاشی فوائد ہوں گے، سب سے زیادہ فائدہ صوبہ سندھ کو ہو گا، سرمایہ کاری آئے گی اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، ریونیو صوبہ سندھ کے حصہ میں آئے گا، جزائر کی ترقی صوبائی حکومت کے قائدانہ کردار اور معاونت کے بغیر ممکن نہیں، اپوزیشن کی دعوت ہے کہ متفقہ لائحہ عمل بنائے جائیں تا کہ ذخائر اور ملک کی ترقی ہو۔سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ پاکستان بننے سے قبل بھی جزائر صوبوں کے تھے، وفاقی حکومت صوبوں سے لیز پر یا خرید کر صوبوں میں منصوبہ لگاسکتی ہے، جزائر کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس سراسر غلط ہے،300 سے زائد جزائر ہیں، یہ ان پر قبضہ کا آغاز تھا، فروغ نسیم مشرف کا ساتھی تھا، آئین کا درس نہ دے،یہ ڈی ایچ اے اور ریٹائرڈ جنرلوں کےلئے جزائر لے رہے ہیں، یہ جزائر کی بندربانٹ کے لئے کھڑے ہیں، ملک برائے فروخت موجودحکومت کا بنیادی ایجنڈا ہے ، یہ عالمی مافیا سے ملے ہوئے ہیں، وسائل پر قبضہ کو نہیں مانیں گے، اس آرڈیننس کو فوری طور پر واپس لیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جزیروں پر مقامی عوام کا حق ہے، وفاقی حکومت کا نظریہ ہے کہ وہاں کے جزائر کو ترقی دے رہے ہیں، یہ پرانے بادشاہوں کا نظریہ ہے، صوبوں نے اگر اس حوالے سے آرڈیننس کو مسترد کیا ہے تو ہم ان کے ساتھ ہیں، حکومت نے اقتصادی حالات خراب کر دیئے ہیں، حکومت ملک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا غلام بنارہی ہے، حکومت نے قرضہ لینے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے، وزیراعظم کہتے تھے کہ قرضہ لینے کے بجائے خود کشی کرلوں گا، حکومت نے اب تک اپوزیشن کے خلاف لڑنے کے بجائے کوئی کام نہیں کیا، سٹیل ملز سے 4500ملازمین کو آپ نے نکال دیا ہے، بریک ڈاﺅن کی وجہ سے سارا ملک اندھیرے میں ڈبودیا ہے، کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا، آپ نے کیا کیا، آج تک این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا، سابقہ فاٹا کے ساتھ کئے گئے وعدے کہاں گئے۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ جزائر کے معاملے پر سیاست نہ کی جائے، اپوزیشن دل کی بھڑاس نکالنے کے بجائے دلائل کے ساتھ بات کرے۔ سینیٹ کا اجلاس ( آج) منگل کو تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*