حکومت بند گلی میں؟؟؟؟

محمد اکرم چودھری
بلوچستان میں حکومت مخالف اتحاد میں تیزی آ رہی ہے۔ اختر مینگل کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے بعد یہ دیوار پر لکھا ہوا تھا کہ جب کبھی وہ حکومت سے راہیں جدا کریں گے، اتحاد سے نکلیں گے تو اس کے بعد ان کا پہلا ہدف بلوچستان کی صوبائی حکومت ہو گی۔ حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کے بعد بھی انہوں نے کچھ انتظار بہرحال ضرور کیا ہے اور آخر کار انہوں نے وہ کام شروع کر دیا ہے جو سیاست کے بے رحم کھیل میں ہمیشہ کھیلا جاتا رہا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب اختر مینگل پاکستان تحریکِ انصاف سے اتحاد ختم کر چکے ہیں تو وہ کس بنیاد پر صوبائی حکومت کی حمایت کریں۔ صوبے میں سیاست ان کا حق ہے بالکل ویسے ہی جیسے تحریکِ انصاف کے ساتھ اتحاد کرتے وقت انہوں نے اپنا سیاسی وزن ان کے حوالے کر دیا تھا اب انہوں نے اسے مخالف دھڑے میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اختر مینگل کو بند گلی میں بھیجنے والے وہ معاشی جادوگر ہیں جن سے نا معیشت سنبھلی ہے نا مہنگائی پر قابو پا سکے ہیں نا کسی سے بات چیت کی اہلیت رکھتے ہیں، نا حالات سمجھنے اور بہتر فیصلوں کی قابلیت رکھتے ہیں، نا ان کی تحریک انصاف کے لیے کچھ خدمات ہیں نا ہی عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ تک پہنچانے میں ان کا کوئی حصہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے آج حکومت بند گلی میں پہنچ چکی ہے۔ اختر مینگل کو اس حد تک جانے میں پاکستان تحریکِ انصاف نے مجبور کیا ہے، حکومت نے اپنے اتحادیوں کے لیے بھی کچھ نہیں چھوڑا جو اپنے اتحادیوں کے ساتھ وعدے نبھانے میں ناکام رہیں وہ حزب اختلاف کے ساتھ کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔اختر مینگل کی حکومت سے علیحدگی اور بلوچستان حکومت کے لیے مشکلات سے پاکستان تحریکِ انصاف کے مسائل میں اضافہ ہو گا ان مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ صرف اور صرف تحریکِ انصاف ہے۔ویسے بلوچستان میں یہ سیاسی تبدیلی بھی پی ٹی آئی کے لیے ایک سبق ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس سبق کے بعد اپنا رویہ تبدیل کرے گی یا پھر سب کو تجاوزات سمجھنے کی حکمت عملی پر کام کرتی رہے گی۔پاکستان تحریکِ انصاف کا عالم یہ ہے کہ کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے سوا دو سال میں لوگوں کو استعمال کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ یہ کسی سے ملتے نہیں ہیں، کسی سے بات نہیں کرتے، کسی کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں، جب کہیں پھنستے ہیں تو لوگوں سے ملتے ہیں، وعدے کرتے ہیں لیکن مشکل سے نکلنے کے بعد سب کو بھول جاتے ہیں۔ ایک دو دن کا ریلیف لینے کے بعد کوئی وعدہ پورا نہیں کرتے۔ ان رویوں کے بعد لوگوں کو آپ پر اعتماد نہیں رہا۔ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل وعدہ خلافی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماو?ں کی کسی بات کو کسی بھی سیاسی جماعت میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا ہے وہ لوگ جنہیں عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں جن پر کرپشن کے الزامات ہیں جنہوں نے ملک و قوم کو لوٹا اور نقصان پہنچایا ہے عام آدمی انہی کو اپنا مسیحا سمجھ رہا ہے اس کا کریڈٹ بھی پی ٹی آئی کو جاتا ہے کہ جنہیں عوام نے مسترد کیا ہے آج وہ دوبارہ انہیں پکار رہے ہیں۔
اپوزیشن سے بات کرنا تو دور کی بات ہے تحریکِ انصاف تو اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی بات چیت کی اہلیت نہیں رکھتی۔ بجلی، گیس، پھل، سبزیاں، ادویات، ٹرانسپورٹ، آٹا، چینی، دالیں، گھی سب کچھ مہنگا ہو گیا۔ حکومت مہنگائی پر قابو نہیں پا سکی جو کہ اس کے زیر اثر ہے پھر یہ مخالف سیاسی جماعتوں کو کیسے منائے گی۔ ان حالات میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ حکومت یقینی طور پر ایک بند گلی میں داخل ہو چکی ہے۔ نا اس بند گلی سے حکومت نکل سکتی ہے اور نا ہی ان میں بند گلیوں سے نکلنے کی صلاحیت ہے۔
بالخصوص گذشتہ چار برس میں پی ٹی آئی نے جتنے افراد کو ضرورت پڑنے پر ساتھ ملایا اور سیاسی طور پر استعمال کرتے ہوئے کام لینے کے بعد ہتک آمیز رویہ اختیار کیا نتیجہ یہ نکلا ہے کوئی بھی حکومت کو اس مشکل سے نکالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔نظام میں شامل قوتیں بھی مستقبل کی طرف دیکھ رہی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی بدانتظامی سے صرف عام آدمی ہی متاثر نہیں کو بلکہ اس نے تمام طبقات کو متاثر کیا ہے۔ اسٹیک ہولڈرز زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں۔ اب کوئی ان کے لیے کیا کر سکتا ہے ماسوائے کوئی زیادہ سے زیادہ غیر جانبدار ہو جائے اور مستقبل قریب میں یہ ممکن ہے کہ اسٹیک ہولڈرز غیر جانبدار ہو جائیں کیونکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے سب سے مقدم اور سب سے اہم ریاست ہے اگر ریاست خطرات میں ہو تو وہ ان خطرات کا مقابلہ کریں کسی کو بچانے کی کوشش کرنے کے بجائے وہ ریاست کو درپیش مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔ اس صورتحال میں پاکستان تحریکِ انصاف کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا اب یہ اس بند گلی میں کتنا وقت گذارتے ہیں۔
یہ دیکھنا ہو گا لیکن اس گلی سے نکلنا ممکن نظر نہیں آتا۔ کیونکہ اسٹیک ہولڈرز کو اندرونی و بیرونی طور پر اتنے مسائل کا سامنا ہے کہ وہ حکومت پی ٹی آئی کی مدد کے لیے دستیاب نہیں ہیں البتہ یہ ضرور ہو گا کہ سفارتی سطح حکومت کو درپیش مسائل میں اپنا کردار ادا کریں۔ ملک و قوم کی بہتری کے لیے اہم معاملات میں ساتھ دیں لیکن وہ جو آل آﺅٹ سپورٹ کہا جاتا ہے وہ اب کہیں سے نہیں مل سکتی۔ بیرونی طور پر حکومت کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں۔ دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں۔ پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی ہر مشکل وقت میں مدد کی ہے، پاکستان نے ان کے ساتھ بہت تعاون کیا ہے لیکن یو اے ای اور سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری کا راستہ اختیار کیا۔ دونوں کا جھکاﺅ بھارت کی طرف ہوا لیکن پاکستان نے اس پر کوئی سخت ردعمل دینے یا اس عمل میں رکاوٹ بننے کے بجائے دونوں کو اپنا فیصلہ کرنے میں آزادی دی باوجود اس کے کہ پاکستان کے سعودیہ کے ساتھ دیرینہ معاشی اور فوجی تعلقات ہیں اور پاکستان نے سعودیہ کے دفاع کے لیے ہمیشہ گرانقدر خدمات انجام دی ہیں لیکن سعودیہ اور یو اے ای نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بناتے ہوئے پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اس کے بعد پاکستان نے بھی مستقبل کی صف بندیوں کو دیکھتے ہوئے اپنا راستہ چنا اور سی پیک میں روس کو شامل کیا، ترکی اور ملائشیا کو سپورٹ کیا یوں پاکستان ایک نئے بلاک میں سفر کرنے لگا اس عمل میں چین ہمیشہ کی طرح پاکستان کا اہم اتحادی رہا جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا سعودیہ اور متحدہ عرب امارات بھارت جو کہ پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور لاکھوں معصوم کشمیریوں کا قاتل ہے اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے دونوں برادر ممالک نے بھارت کو اہمیت دی۔ یہ جھکاﺅ ہر لحاظ سے پاکستان کے مفادات کے خلاف تھا۔ ناصرف مفادات کے خلاف تھا کہ قومی وقار کے بھی منافی تھا لیکن پاکستان نے مزاحمت یا رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔ اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایک مختلف راستے پر چل نکلے ہیں۔ یو اے ای اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر چکا ہے اور سعودی عرب کے شاہ محمد بن سلمان سے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کی ملاقات کی خبریں گرم ہیں ان خبروں کے بعد دونوں ممالک میں موجود پاکستانیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ صرف اور صرف دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں مختلف سوچ کے ذریعے آگے بڑھنا ہے۔ یو اے ای اور سعودیہ کا یہ طرز عمل نہایت نامناسب اور حقائق کے منافی ہے۔ ہر ملک اپنے مستقبل اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے دوستوں کا انتخاب کرتا ہے جیسا کہ سعودیہ اور یو اے ای نے کیا اگر اس کے جواب میں پاکستان نے اپنے فیصلے کیے ہیں تو ان پر کسی کو ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
بالخصوص محمد بن سلمان کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ، مذہبی، سفارتی اور فوجی تعلقات کو اگر وہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے آگے بڑھائیں گے تو مستقبل میں انہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر وہ یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ انہوں نے اپنا دفاع اب بھارت اور اسرائیل کے ذریعے کرنا ہے تو یہ بات الگ ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر انہیں کسی دوسرے ملک کی خاطر پاکستان سے تعلقات خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آخر کار سب اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں تو پھر دیرینہ تعلقات کو نظر انداز کرنے کے بجائے کم از کم اچھے دوستوں کی طرح آگے بڑھیں کیونکہ یہ تینوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔
ممکن ہے مستقبل میں یہ سوچ بدل جائے اور سعودیہ اور یو اے ای کو پھر پاکستان کی ضرورت پڑے، پالیسی میں تبدیلی آ جائے اس لیے بہتر یہی ہے کہ دونوں ممالک میں بڑی تعداد میں مقیم پاکستانی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی معیشت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہماری وزارت خارجہ کو بھی متحرک رہنا پڑے گا یہ وقت معمول کی سفارتکاری کا ہرگز نہیں ہے یہ ضروری نہیں کہ نئے تعلقات بنانے کے لیے دیرینہ تعلقات کو ختم کیا جائے۔ اس لیے شاہ محمود قریشی اور ان کی ٹیم کو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ڈیجیٹل ورلڈ سے نکل کر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*