”میرا کہا لکھ لو“

سعید آسی
پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر اس پارٹی کی قیادت کی جانب سے ملتان میں اپنے مرکزی جلسے کو اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے حکومت مخالف جلسے میں تبدیل کرنے کے فیصلہ پر پیپلزپارٹی کے جیالوں کو یقیناً تحفظات ہونگے۔ میرے اپنے بھی اس حوالے سے تحفظات ہیں مگر حکومت نے آمرانہ حکمرانیوں والی جبر کی ایسی فضا بنا دی ہے کہ ایک دوسرے سے نظریاتی اختلاف کو بھی حکومت مخالف سوچ میں نظرانداز کرنا گوارا ہونے لگا ہے۔
ملتان میں اپوزیشن کے اس جلسے کا کیا حشر ہوا یا کیا رونق لگی‘ اس کا اندازہ تو یہ سطور لکھے جانے کے بعد ہی ہو پائے گا مگر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کو پبلک اجتماع بننے سے روکنے کیلئے حکومتی انتظامی مشینری کی جانب سے ملتان سٹیڈیم کے اندر اور باہر جو حشر اٹھایا گیا اور اپوزیشن لیڈران جس انداز میں ان حکومتی اقدامات کو چیلنج کرتے نظر آئے۔ وہ پی این اے کی تحریک کے دوران میرے لکھے گئے اس شعر کی عکاسی تھی کہ…
قوم پر طاری ہوا ہے چھین لینے کا جنوں
اور پاگل پن میں ہے سرکار‘ الٰہی خیر ہو
آخر ایسی نوبت کیوں آئی کہ حکومت مخالفین کیلئے حکومت مخالف تحریک کے راستے نکالنا اور ہموار کرنا آسان ہوگیا ہے۔
اگر کسی بھی قسم کے تعصبات کی عینک اتار کر صورت حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ حکومت کی غریب مار پالیسیاں ہی درحقیقت اسکی اپوزیشن کے قالب میں ڈھل گئی ہیں اس لئے حکومت مخالف جماعتوں کو حکومت مخالف تحریک کا راستہ ہموار کرنے اور عام پبلک کو اس راستے پر ڈالنے کیلئے کوئی زیادہ تردد نہیں کرنا پڑا۔ پی ڈی ایم کے اب تک کے چار پبلک جلسوں میں عوام کی کرونا کے خوف کے باوجود بڑی تعداد میں شمولیت اور پھر علامہ خادم حسین رضوی کے جنازہ میں لاکھوں افراد کی ہم قدمی بھی حکومتی پالیسیوں کیخلاف عوامی ردعمل ہی کا اظہار تھا۔ بھائی صاحب! اب عوام اپنے ہر مسئلہ اور سسٹم کی ہر خرابی کا ملبہ سابق حکمرانوں پر ڈالنے کی پالیسی قبول کرنے کو تیار نہیں کیونکہ اب آپ کے اپنے اقتدار کے بھی اڑھائی سال پورے ہونے کو ہیں۔
اگر ان اڑھائی سالوں میں عوام کیلئے سابق حکمرانوں کے پیدا کردہ غربت‘ مہنگائی‘ روٹی روزگار کے مسائل کے حل کی کوئی سبیل نہیں نکل پائی اور یہ مسائل اب مجبور مقہور عوام کو عملاً زندہ درگور کرتے نظر آرہے ہیں اور موجودہ اقتدار کے اگلے اڑھائی سال کے عرصہ میں بھی ان مسائل کے حل کی کوئی امید نظر نہیں آرہی بلکہ حکومتی پالیسیاں عوام بالخصوص ملازم پیشہ طبقات کو قعرمذلت کی جانب دھکیلنے کا عندیہ دے رہی ہیں تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق عوام کے پاس زہر پھانکنے‘ اپنے بچوں سمیت کنوﺅں میں کودنے یا کھلی ڈکیتی اور رہزنی کے راستے اختیار کرنے اور اسی طرح اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کا چارہ بننے کے سوا اور کیا چارہ رہ جائیگا۔
اگر حکومت کا منشور عوام کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا ہو جو بقول وزیراعظم عمران خان‘ انکے اقتدار کے پانچ سال پورے ہونے تک عملی جامہ میں نظر آئیگا اور انکے اقتدار کا آدھا عرصہ گزرنے تک ہزاروں ملازم پیشہ طبقات اپنی ملازمتوں سے فارغ ہو کر بے روزگاری کی شرح میں شتربے مہار اضافہ اور خطِ غربت کا گراف مزید نیچے کو دھکیلنے کا باعث بن رہے ہوں تو وہ موجودہ اقتدار کے پانچ سال پورے ہونے تک ایک کروڑ نوکریوں کے سراب کے پیچھے کب تک بھاگتے رہیں گے۔
اسکے برعکس روزگار کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کا اظہار وفاقی وزیر فواد چودھری ان سفاکانہ الفاظ کے ذریعے کر رہے ہوں ۔
کہ ملازمتیں دینا حکومت کی ذمہ داری نہیں اور وفاقی مشیر خزانہ حفیظ شیخ اپنی اس رائے کے ذریعہ ملازمتوں پر مزید کلہاڑا چلانے کا عندیہ دے رہے ہوں کہ ملازمتوں کا موجودہ سٹرکچر قومی معیشت پر بوجھ بن چکا ہے تو جناب سہانے مستقبل والی ڈیڑھ کروڑ نوکریوں کے خواب دیکھتے عوام کو تو موجودہ نوکریاں بھی چھن جانے کا خوف ادھ موا? کر دیگا۔ حفیظ شیخ صاحب نے جس دن اپنی رائے کا اظہار کیا اس سے اگلے روز سٹیل مل سے ساڑھے چار ہزار ملازم بیک جنبش قلم بیٹھے بٹھائے فارغ کر دیئے گئے اور ایک ملازم یہ جانکاہ خبر سنتے ہی دل ہار کر اپنے خالق حقیقی کو جا پہنچا تو کیا باقی ملازمین کیلئے بھی ایسا ہی ماحول بنایا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ لاہور کی منفعت بخش میٹرو بس کے ملازمین بھی تین تین ماہ تک تنخواہیںنہ ملنے کے باعث بس سروس روک کر ہڑتال پر اتر آئے ہیں اور میڈیا پر جو افتاد ٹوٹی ہے۔
وہ ہم بیان کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں کیونکہ حکومت کو کسی بھی طبقے کا کوئی بھی احتجاج اپوزیشن کی کارستانی ہی نظر آتا ہے چاہے اسکی نوبت حکومت کی اپنی کسی بے تدبیری کے نتیجہ میں ہی کیوں نہ آئی ہو۔ حضور! حقیقت یہی ہے کہ…
کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور چھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں
آپ کسی کو دباتے‘ دیوار کے ساتھ لگاتے جائیں اور توقع رکھیں کہ وہ چوں چراں تک نہیں کرگا اور اپنے لئے ہر ظلم و جبر قبول کرلے گا تو کسی کی ایسی خوش فہمی کو محض اس کا وہم ہی قرار دیا جا سکتا ہے…
جیہڑا طعنیاں نال کھِلادے‘ اس دا کِنہے کھانا اے
جیہڑا کِسے نوں کجھ نہ سمجھے‘ کون اوہنوں سمجھا دے گا
جناب! اپنی سوچ بدلیں‘ اپنا چلن درست کرلیں‘ اپنی پالیسیوں پر نظر آنیوالے ہر عوامی اضطراب کو اپوزیشن کی کارستانی نہ سمجھیں اور عوامی فلاح کو مقدم بنالیں تو کسی حکومت مخالف تحریک کی نوبت آئیگی نہ اسے عوام میں پذیرائی حاصل ہوگی ورنہ ظفراقبال کی یہ پیشین گوئی ہی صادق آئیگی کہ…
زمیں زیر و زبر ہونے کو ہے‘ میرا کہا لکھ لو
کہ میں اس کے فشار زلزلہ پیما میں رہتا ہوں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*