مشرق وسطی کا سلگتا ہو ا میدان

علی انوار
جیسے جیسے ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ کے قصر صدارت سے رخصتی کا وقت قریب آ رہا ہے اور دوسری جانب عرب ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دوڑ لگی ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اس کی ابتدا کی اور اب بحرین، سوڈان، اومان سمیت متعدد ممالک اسے قبول کر چکے ہیں بلکہ اسرائیلی وزیراعظم بحرین کے دورے کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔ خطے میں اس وقت ٹرمپ کے الیکشن ہارنے کے بعد بڑی گھمبیر صورتحال بن چکی ہے جس سے نمٹنا آنیوالے امریکی صدر جو بائیڈن کیلئے بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ کیوں کہ ایران نے ٹرمپ کی رخصتی پر سکھ کا سانس لیا ہے کیوں کہ ڈیمو کریٹ حکومت کے دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونیوالے امن معاہدے سے ٹرمپ حکومت نے خود کو الگ کر لیا تھا جس کی وجہ سے ایران پر گزشتہ چار سالوں میں کافی دباﺅ رہا۔
ٹرمپ حکومت کی خارجہ پالیسی ایران مخالف تھی اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ بڑا گہرا تعلق بن چکا تھا۔ٹرمپ کی مشرق وسطی کے متعلق صدی کی سب سے بڑی ڈیل ہی کی وجہ سے عرب ممالک دھڑا دھڑ اسرائیل کو شرف قبولیت بخش رہے ہیں۔ ٹرمپ کے جانے کے بعد جو بائیڈن اس سارے قضیہ کو کیسے نمٹائیں گے انکی خارجہ پالیسی کیا ہو گی، وہ اسرائیل کا ساتھ دیں گے یا عرب ممالک کو سپورٹ کرینگے، ایران کی سنیں گے یا سعودی عرب کے موقف کی حمایت کرینگے،یمن جنگ ختم ہو گی یا ویسے ہی جاری رہے گی۔
ٹرمپ جاتے جاتے جو بائیڈن کیلئے ایک گیلی پچ چھوڑ کر جا رہے ہیں جس پر بیٹنگ کرنا یا کھیلنا جو بائیڈن کیلئے آسان نہیں ہو گا۔کیوں کہ ایران ایک جانب یورنیم کی افزودگی میں اضافہ کر رہا ہے تو دوسری جانب اسرائیل آئے روز شام میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
رواں سال اب تک اسرائیل شام میں تیس سے زائد فضائی حملے کر چکا ہے جس میں سینکڑوں ایرانی جنگجو لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ایران اسرائیل کی یہ مخاصمت خطے میں کسی بھی وقت جنگ چھیڑ سکتی ہے کیوں کہ دوسری طرف امریکہ بھی افغانستان میں اپنی فوجیوں کی تعداد کو کم کر رہا ہے اور عراق میں بھی اسکے چند ہزار فوجی رہ گئے ہیں جو جلد وہاں سے نکل جائیں گے کیوں کہ عراقی پارلیمنٹ نے امریکی فوجیوں کے انخلا کیلئے قرار داد بھی پاس کر لی ہے اور دوسرا داعش بھی اب اُتنی طاقتور یا خوفناک نہیں رہی جتنی وہ اپنے آغاز میں تھی۔ یہ وہ سارے عوامل ہیں جس کیلئے جو بائیڈن کو اس خطے میں اپنی پالیسی ازسر نو مرتب کرنا ہو گی۔ ایک بات تو طے ہے کہ بائیڈن کی خارجہ پالیسی ٹرمپ سے یکسر مختلف ہو گی۔
کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نی اوباما کے دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونیوالا معاہدہ معطل کر دیا تھا تو اب یہ بات یقینی ہے کہ ڈیمو کریٹک حکومت جو بائیڈن کے دور میں دوبارہ اس معاہدے کو بحال کریگی یا اس پر کام کرنے کی کوشش کریگی تا کہ خطے میں جو جنگ کا ماحول بن چکا ہے اسے کم کیا جا سکے اور ایران اسرائیل کے درمیان جنگ کے منڈلاتے بادلوں کو ختم کیا جا سکے۔ دوسرا امریکہ کا اہم اتحادی نیٹو ممالک کا اتحاد جو ہر جنگ میں امریکہ کا بغل بچہ بنا رہا ہے اسے ٹرمپ کے دور میں وہ اہمیت نہیں ملی جو ماضی میں اسے دی جاتی رہی۔بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہا تھا کہ نیٹو کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی فوجی امداد یا فوجی معاونت کم کر دی جائے گی اور نیٹو کو اپنے مالی معاملات خود دیکھنے ہوں گے۔ جو بائیڈن نیٹو کو اہم اتحادی قرار دیتے ہیں اور بیس جنوری کو انکی حلف برداری کے بعد ان کی ترجیحات میں یہ نیٹو والا معاملہ بھی سر فہرست ہو گا۔ ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر جو بائیڈن اپنی انتخابی مہم پر بھی تنقید کر چکے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد بازی میں کیا جا رہا ہے۔اب دیکھنا ہو گا کہ جو بائیڈن اقتدار میں آنے کے بعد طالبان اور افغانستان کے معاملے سے کیسے نمٹتے ہیں۔جو بائیڈن نے انٹونی بلنکن کو اپنا وزیر خارجہ نامزد کیا ہے اور اس کے ساتھ ان کی معاونت کیلئے لنڈا تھامس گرین فیلڈ اور جیک سلیوان کو تعینات کیا ہے۔
یہ وہ ٹیم ہے جو گزشتہ بیس برسوں میں جو بائیڈن او راوبامہ کے ساتھ کام کر چکی ہے۔ جیک سلیوان تو ایران امریکہ کے درمیان 2015 میں ہونے والے معاہدے کے مرکزی کردار تھے۔ لنڈا تھانس گرین فیلڈ افریقی امور کی ماہر ہیں۔جو بائیڈن کی خارجہ امور کی اس تین رکنی ٹیم کے پاس وائٹ ہاﺅس میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے اس لئے کہا جا رہا ہے ۔
کہ اب امریکہ کی خارجہ2016 سے شروع ہو گی جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا۔ جو بائیڈن کی خارجہ ٹیم کا اصل امتحان مشرق وسطی کا میدان ہو گا کیوں کہ یہاں ایک جانب ایران،اسرائیل ایک دوسرے کے دشمن ہیں تو دوسری جانب عرب ممالک نے دوست کا دشمن دوست والے مقولے پرعمل کرتے ہوئے اسرائیل سے دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا ہے۔ اب جو بائیڈن کی تجربہ کار ٹیم ایران کو کیسے مذاکرات کی میز پر لائے گی یہاں انکی صلاحیتیں واضح ہو جائیں گی۔
کیونکہ ایران کہہ چکا ہے کہ جو بائیڈن آئے یا ٹرمپ ان انتخابات کا تہران کی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ ٹرمپ کے دور میں ہی ایران کے پاسدران انقلاب کے سربراہ قاسم سلیمانی امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔ان تمام تر حالات میں ایران کی پہلی شرط پابندیوں کا خاتمہ ہو گی کیوں کہ ٹرمپ نے ایران پر بڑی معاشی پابندیاں عائدکر رکھی ہیں جس کی وجہ سے اسکی معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے ان حالات میں امریکہ اگر ایران پر سے پابندیاں اٹھاتا ہے تو ہی خطے میں سلگنے والی آگ کم ہو گی وگرنہ مشرق وسطی کا یہ گورکھ دھندہ مزید الجھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*