فرانس میں مسلم کمیونٹی کے تحفظات؟

تحریر : الیاس محمد حسین
فرانس شاید دنیا کا واحد ملک ہو گا جہاں سرکاری سرپرستی میں اسلاموفوبیا کو ہوا دی جا رہی ہے صدیوں سے فرانسیسیوں کا ہی وطیرہ ہے خلافت ِ عثمانیہ کے دور میں بھی نبی آخرالزماں کے گستاخانہ خاکوں پر مبنی تھیٹر میں ڈرامہ دکھانے کا اعلان کیا گیا لیکن مسلمانوں کے شدید ردِ عمل اور خلیفہ عبدالحمید کی طرف سے اعلان جنگ کے بعد مجبوراً فرانس کو یہ ارادہ ترک کرنا پڑااس کے باوجود فرانسیسی اپنی خباثت سے بارنہیں آئے اور جب بھی موقعہ ملتاہے مسلمانوںکی مقدس ہستیوں کے گستاخانہ خاکے بنائے جاتے ہیں اس میں میڈیا پیش پیش رہتا ہے اب تازہ ترین مسلم دشمنی کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔
فرانسیسی حکومت کی طرف سے مسلمان بچوں کو ‘شناختی نمبر’ الاٹ کرنے کے متنازع اقدام پر پوری دنیا میں غم و غصے کی نئی لہر کا آغازہوچکاہے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے مسلم کمیونٹی پر ‘چارٹر آف ریپبلکن ویلیو’ کے نافذ اور اس کے تحت مسلمان بچوں کے لیے خصوصی طور پر ‘شناختی نمبر’ آلاٹ کرنے کے متنازع اقدام سے نئی بحث چھڑ گئی جس سے مسلم کمیونٹی شدید تحفظات کا شکارہوگئی ہے ترک نیوز ایجنسی ‘انادولو’ کے مطابق فرانسیسی صدر نے فرانسیسی کونسل آف مسلم فتھ (سی ایف سی ایم) کو مذکورہ چارٹر کو قبول کرنے کے لیے 15 دن کی ڈیڈ لائن دی ہے۔اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں جس کی شدید مذمت کی جارہی ہے اس ضمن میں سی ایف سی ایم کے 8 رہنماو¿ں نے بدھ کے روز ایمانوئیل میکرون اور وزیر داخلہ جورالڈ ڈارمنین سے بھی ملاقات کی اور ان پرواضح کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کو فروغ ملے گا جو کسی طوربھی مناسب نہ ہو گا۔
دنیا میں اس سے پہلے بھی انتہاپسندی کی زدمیں ہے کرونا وائرس نے سینکڑوں ممالک کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیاہے ا ور متاثرین میں کروڑوں افراد شامل ہیں۔بی بی سی کی خبر کے مطابق سی ایف سی ایم نے ایک قومی کونسل برائے امام کے قیام پر اتفاق کیا جو فرانسیسی سرزمین پر رہنے والے تمام مساجد کے پیش اماموں،موذن۔علماء کرام اور خطیبوں کو سرکاری طور پر منظوری پیش کرے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں واپس لیا جا سکتا ہے جبکہ فرانسیسی صدر کے چارٹر میں کہا گیا کہ اسلام ایک مذہب ہے نہ کہ ایک سیاسی تحریک اور مسلم گروہوں میں ‘غیر ملکی مداخلت’ پر پابندی ہو گی۔
فرانسیسی حکومت کا کہناہے کہ ان اقدامات کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بنیاد پرستی کو روکا جائے لیکن انتہاپسندی کو روکنے کے نام پر ایسے اقدامات چارٹر میں شامل ہیں جس میں گھر پر تعلیم دینے پر پابندی ہوگی اور قانون کے تحت اسکول جانے والے بچوں کو شناختی نمبر دیا جائے گا تاکہ ان کی حاضری یقینی ہو اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے والدین کو 6ماہ تک جیل اور بھاری جرمانے بھی ہوسکتے ہیں۔
مسودہ قانون آئندہ ماہ فرانسیسی کابینہ میں زیر بحث آئے گا جس میں مذہبی بنیادوں پر سرکاری عہدیداروں کو ڈرانے والے افراد کے لئے سخت سزاﺅں کی تجویز بھی شامل ہے۔ ان نئے اقدامات پر پوری دنیا کے سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی جاری ہے مسلمانوںکو شدید تحفظات ہیں جو اس امرکا بین اظہارہے کہ فرانسیسی اسلام کی حقانیت تسلیم کرنے کی بجائے اس سے خوفزدہ ہیں۔
ادھر انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ ‘میکرون مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کررہے ہیں جو نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا،اسلامی سربراہان ِ مملکت،او آئی سی اور اسلامی سربراہ کانفرنس کا فرض بنتاہے کہ وہ تمام صورت ِ حال کے تناظرمیںفرانسیسی حکومت سے بات کرکے مسئلہ کا حل تلاش کرے کیونکہ اگر یہ بل پاس ہوگیا تو فرانس میں مسلمانوںکی حیثیت تیسرے درجے سے کم شہریوںجیسی ہوجائے گی اس لئے مسلم امہ کو خواب ِ غفلت سے بیدارہوناپڑے گا یہی حالات کا تقاضا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*