صرف ڈائیلاگ کی ضرورت ہے!!!

محمد اکرم چودھری
ان دنوں ملکی سیاست میں صرف اور صرف شدت نظر آرہی ہے۔ جارحانہ انداز نمایاں ہے، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں فراخدلی کا مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ملکی سیاست میں یہ رویہ کچھ نیا نہیں ہے۔ میں انیس سو اٹھاسی سے انیس سو ننانوے کا زمانہ بھی نہیں بھولا اس وقت بھی ہمارے سیاستدانوں کا رویہ ایسا ہی تھا۔ وہی انداز، وہی بے صبری، وہی کم ظرفی، وہی غیر ضروری باتیں، وہی الزامات، وہی منفی سوچ، وہی اقتدار کی سیاست، وہی ذاتی مفادات کی فکر، وہی کرپشن کی داستانیں، وہی عدم برداشت، وہی ٹانگیں کھینچنے کا سلسلہ سب کچھ وہی ہے۔ وہی جلسے جلوس، وہی نفرت انگیز بیانات ہیں۔ صرف کچھ لوگ بدلے ہیں، کچھ دنیا چھوڑ گئے، کچھ سیاست سے الگ ہو گئے یا کچھ تھوڑے سنجیدہ ہو گئے اس کے علاوہ تو کچھ نہیں بدلا سب کچھ وہی ہے جو میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی وطن واپسی سے جنرل پرویز مشرف کی آمد تک دیکھتا رہا ہوں۔ سب کچھ دہرایا جا رہا ہے۔ اس وقت بھی کسی نے صبر کا مظاہرہ نہیں کیا، کسی نے سیاسی رواداری نہیں دکھائی۔ سب اپنی اپنی باری کے لیے پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کو ہر وقت کھا جانے کے لیے تیار رہتے تھے۔ آج بھی وہی صورت حال ہے فرق صرف یہ ہے کہ اظہار خیال کے ذرائع بڑھ گئے ہیں۔ اخبارات کے بعد ٹیلیویڑن چینلز آئے پھر سوشل میڈیا لمحوں میں پیغام کو ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن گیا۔ اخبارات اور ٹیلیویڑن چینلز آج بھی سیاست دانوں کی ترجیحات میں شامل ہیں لیکن جو بات اخبارات اور چینلز کے ذریعے عوام تک نہ پہنچ سکے اس کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جاتا ہے۔ان دنوں سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا پر توجہ دیے ہوئے ہیں، حکومت بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے نقطہ نظر کو عام کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔ یوں اپنے خیالات کو عام کرنے کے ہر ذریعے پر محنت کی جا رہی ہے۔ انیس سو اٹھاسی سے آج تک انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔ سفر کے ذرائع بہتر ہو گئے، رابطے کے ذرائع میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ خبر کا چوبیس گھنٹے کے لیے انتظار ختم ہو کر سیکنڈز تک آچکا ہے۔ کھانے پینے کا معیار بلند ہوا، لباس بدل گئے اگر کچھ نہیں بدلا تو سیاستدانوں کا رویہ نہیں بدلا، سیاسی جماعتوں کی سوچ نہیں بدلی، زبان نہیں بدلی، لہجہ نہیں بدلا ورنہ تو بہت کچھ بدل چکا ہے۔ کاش ملک میں آنے والی ان تبدیلیوں میں ہمارے حکمران طبقے کی سوچ بدل جاتی ان کے کام کرنے کا طریقہ بدل جاتا، کاش کہ اس بدلتے دور میں سیاست دانوں میں برداشت اور رواداری بھی آجاتی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ آج بھی بدمزاجی شائستگی پر غالب ہے اور ایک دوسرے پر ذاتی حملے کیے جاتے ہیں، طعنے دیے جاتے ہیں اور انہی رویوں پر قائم رہنے اور خود کو نہ بدلنے کے راستے پر چلتے چلتے نوے کی دہائی کے ا?خر میں اختتام جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء پر ہوا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کی کیا اب ایک مرتبہ پھر ہم کسی مارشل لاء کی طرف بڑھ رہے ہیں۔موجودہ سیاسی حالات اور سیاست دانوں کا طرز عمل یہ بتا رہا ہے کہ انہوں نے ماضی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کا کوئی موقع پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ حزب اختلاف حکومت کو وقت نہیں دینا چاہتی تو حکومت حزب اختلاف کو برداشت کرنے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ فریقین میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں اور وہ کسی بھی صورت مصالحت یا مفاہمت کا راستہ نکالنے کے حق میں نہیں ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف میں کئی معاملات پر اختلاف ہو سکتا تھا لیکن ملک تو سب کا ہے اس بات پر تو کسی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ملک کی بہتری پر تو سب کا اتفاق ہے، ملکی سلامتی پر تو سب کا اتفاق ہے، ملکی دفاع پر تو سب کا اتفاق ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ سب ذاتی اختلافات کو بھلا کر صرف ملک و قوم کے لیے ذاتی اختلافات کو بھلا کر مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ سیاسی اختلافات بھلے قائم رہیں، سوچ بھی مختلف ہو سکتی ہے، کام کرنے کا انداز بھی ایک سا نہیں ہو سکتا۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے فکر مختلف ہو سکتی ہے لیکن ملک و قوم کی بہتری تو سب کی مشترکہ سوچ ہے اگر سب اس سوچ پر اور ملکی ترقی کے عظیم مقصد کے لیے ایک ہو جائیں تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی آ سکتی ہے۔ سختی کی جگہ نرمی پیدا ہو سکتی ہے۔ نفرت انگیز بیانات کے بجائے محبت کا پیغام عام ہو سکتا ہے، تہذیب بدتہذیبی کی جگہ لے سکتی ہے، تحمل مزاجی عدم برداشت ہر حاوی ہو سکتی ہے۔ ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔ دوریاں قربتوں میں بدل سکتی ہیں لیکن یہ سب کیسے ممکن ہو گا۔قارئین کرام اس تلخی کے خاتمے کا راستہ صرف اور صرف بات چیت ہے، ڈائیلاگ ہے، پھر ڈائیلاگ ہے اور پھر ڈائیلاگ ہے۔ تمام مسائل کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جلسے جلوسوں سے، مظاہروں سے، الزامات سے، قومی رازوں کو فاش کرنے سے، کسی کو ہدف بنانے سے یا پھر مسلسل منفی مہم چلانے سے کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ اگر کچھ تبدیل کرنا ہے تو اسٹیک ہولڈرز کو مثبت بات چیت کا آغاز کرنا ہو گا۔ مل بیٹھیں گے تو راستہ نکلے گا، رنجشیں ختم ہوں گی، خیالات کے تبادلے سے غلط فہمیاں دور ہوں گی۔ اگر انتخابی نظام کو شفاف بنانا ہے تو یہ ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہے، اگر قانون و انصاف کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے تو اس کے لیے بھی بات چیت کرنا ہو گی، اگر ریاست کے دیرینہ مسائل حل کرنے ہیں تو بات چیت کا آغاز کرنا ہو گا۔ اگر پارلیمنٹ کی عزت و توقیر میں اضافہ یقینی بنانا ہے تو بات چیت کا آغاز کرنا پڑے گا۔ اگر انتخابی عمل کو سب کے لیے قابل قبول بنانا ہے تو یہ بات چیت کے بغیر کیسے ممکن ہے، اگر ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہے اس کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نظام کو بہتر بنانا ہے تو قانون سازی بات چیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اگر کرپٹ افراد کو انتخابی عمل سے باہر کرنا ہے سیاست کو حقیقی خدمت کا ذریعہ بنانا ہے تو ڈائیلاگ کرنا پڑے گا۔ پارلیمنٹ اور جمہوریت کو بچانے کے لیے بھی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے کے لیے بھی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے بھی مذاکرات کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ کو باوقار بنانے کے لیے بھی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔قارئینِ کرام کامیاب وہی ہو گا جو سب کو ساتھ لے کر چلے گا، جو ضد اور انا کا قیدی بنا رہے گا وہ خود کو بھی تباہ کرے گا اپنی سیاسی جماعت کا بیڑہ غرق کرے گا اور ملک و قوم کا نقصان بھی کرے گا۔ ملک کو اندرونی و بیرونی طور پر بے پناہ مسائل کا سامنا ہے بیرونی مسائل حل کرنے کے لیے بھی بات چیت کرنا ہو گی۔ دشمنان پاکستان ہمارے سیاسی عدم استحکام پر نظر رکھے ہوئے ہیں وہ ان حالات سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ان دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی بات چیت کی ضرورت ہے۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے اور ان کا توڑ کرنے کے لیے بھی مختلف قوتوں سے ڈائیلاگ کرنا پڑے گا۔ اگر ہمارے سیاستدان خواہ وہ حکومت کا حصہ ہیں یا پھر وہ اپوزیشن میں ہیں جب تک بات چیت کا آغاز نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہوں گے اور اگر وہ بات چیت کا آغاز نہیں کریں گے، مثبت اور تعمیری نشستیں نہیں کریں گے ایسے ہی عدم برداشت اور جارحانہ بیانات جاری رہیں گے تو اس رویے سے ناصرف وہ جمہوریت کے ساتھ دشمنی نبھا رہے ہیں بلکہ پارلیمانی نظام کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*