پاکستان کا بہترین بلدیاتی نظام لیکر آ رہے ہیں ،عمران خان

Prime Minister Of Pakistan Imran Khan

فیصل آباد (آئی ا ین پی ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری ایکسپورٹ بڑھنا شروع ہوگئی ہیں، حکومت کا کام صنعتکاروں کو سہولتیں فراہم کرنا ہے، مافیا نے گٹھ جوڑ کر کے چینی کی قیمت بڑھائی، جو جائز منافع کمائے اسے ٹیکس بھی دینا چاہیئے ، فیصل آباد میں ہائیکورٹ کے قیام کے مطالبے سے متفق ہوں، ہائیکورٹ ہر ڈویژن کی سطح پر ہونی چاہیئے، جو بلدیاتی نظام لیکر آ رہے ہیں یہ پاکستان کا بہترین بلدیاتی نظام ہوگا، میئر کے الیکشن براہ راست ہوں گے، ماضی کے تجربات سے سیکھ کر نیا بلدیاتی سسٹم لا رہے ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ عوام کو سہولتیں فراہم کرے، کرنسی کی قدر گرنے سے مہنگائی آتی ہے، جائز طریقے سے نفع کمائیں، چینی مافیا کی طرح منافع نہ کمائیں، جو جائز منافع کمائے اسے ٹیکس بھی دینا چاہیئے، حکومت کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا فیصل آباد میں برآمد کنندگان اور تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہر ڈویژن میں ہائی کورٹ ہونی چاہیے اور فیصل آباد میں انصاف کی جلد فراہمی کے اداروں کو نیچے تک سہولت فراہم کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان میں نیا بلدیاتی نظام لارہی ہے جس میں ماضی کے تمام بلدیاتی نظام کا موازنہ کر کے کہا گیا ہے، بلدیاتی نظام سے شہروں کی ترقی ممکن بنایا جا سکتا ہے، صوبے کے فنڈز سے کبھی بھی فیصل آباد جیسے شہر میں ترقی نہیں آ سکتی ہے، پوری دنیا میں شہر اپنے وسائل اور اپنے مسائل خود حل کرتے ہیں ان کی اپنے لئے پیسے خود جمع کرتے ہیں، فیصل آباد پاکستان سب سے مالدار شہر ہے لیکن ترقی کام کےلئے صوبائی حکومت کے فنڈز کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام میں میئر کا انتخاب ڈائریکٹ الیکشن ہو گا، میئر خود اپنی کابینہ بنائے گا، کابینہ میں تمام امور ماہرین کو شامل کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فیصل آباد کے لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ ایک دن مانچسٹر کہے گا کہ فیصل آباد ہمارے جیسے شہر ہوا کرتا تھا اور ہم سے آگے نکل گیا ہے کیونکہ بڑے انسان کو بڑی سوچ رکھنی چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت میں آئے تو سخت معاشی چیلنجز درپیش تھے،2018میں ہمیں 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کا سامنا تھا، 40ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کی وجہ سے معیشت دباﺅ میں تھی اور بدقسمتی سے روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر برقرار رکھ کر بہت نقصان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 70کی دہائی میں قومیانے کی پالیسی سے صنعتی ترقی کا عمل رک گیا جبکہ دوسری طرف چین نے کامیاب حکمت عملی سے 70کروڑ افراد کو غربت سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم منافع کمانے غلط کہیں گے تو ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا، جائز طریقے سے منافع کمانا کاروباری شعبے کاحق ہے جبکہ تحریک انصاف حکومت کی کوشش ہے کہ صنعتی ترقی کا عمل تیز ہو، ہمارے تمام اقدامات کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا ہے، ایف بی آر میں اصلاحات اور آٹومیشن کا کام بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کو مراعات دینے سے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور کورونا صورتحال میں ہم نے معاشی سر گرمیوں اور عوامی تحفظ میں توازن کو برقرار رکھنا تھا، اب ہمیں برآمدات میں اضافے کےلئے اپنی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کرنی ہے اور ویلیو ایڈیشن کے بغیر متعدد افرادی قوت ضروری ہے جبکہ روزگار کے مواقعوں کی فراہمی اور دولتکی پیداوار کےلئے صنعتی عمل اہم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ برآمدکنندگان اور کاروباری شعبے کو سہولتیں دینا حکومت کی پالیسی ہے اور اس کےلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں گے۔ انوں نے کہا کہ حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں سے فیصل آباد میں انڈسٹری کا پہیہ تیزی سے چل رہا ہے اور بعض شعبے میں افرادی قوت کی کمی ہو گئی اور نئے لیبر نہیں مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وباءکی بھی دوسری لہر آ چکی ہے اور صورتحال تشویشناک ہے، ہمیں ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا اور احتیاط کو لازمی کرنا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*