ملک میں گندم اور چینی کی کوئی کمی نہیں

وفا قی کا بینہ نے ایک با ر پھر موقف اختیا ر کیا ہے کہ ملک میں گندم اور چینی کی کوئی کمی نہیں ہے اس لیے ان کی قیمتو ں میں کوئی اضا فہ نہیں ہو گا اس مقصد کیلئے وز یر اعظم عمر ان خان نے کا بینہ ار ا کین کو بتا یا کہ ممبر ان قومی اسمبلی کے اپنے حلقوں کے مسائل کے لیے ایک طر یقہ وضح کیا گیا ہے اس ضمن میں بر وقت مسائل حل نہ کرنے پر ضلعی انتظا میہ اور شکا یا ت سے متعلقہ محکمو ں کے افسر ان کے خلا ف کاروائی کی جا ئے گی کا بینہ نے ربیع فصل خصو صاً گند م کے لیے و ز یر اعظم امد ا دی پیکج کی منظو ری بھی دید ی۔
ملک میں گند م اور چینی کی کوئی کمی کا نہ ہونا اور اس کی قیمتو ں میں اضا فہ نہ کرنے کا مذکو رہ بیان عو ام کے سا تھ ایک بڑ ا دھو کہ ہے کیو نکہ یہ اب تک صر ف بیانا ت کی حد تک ہو رہا ہے اس کے حقا ئق دو ر دو ر تک نظر نہیں آرہے بلکہ یہ عوام کے لیے ایک دلا سہ ہے کیو نکہ اصل صو رتحال یہ ہے کہ اس وقت ملک میں چینی ایک عر صے سے ایک سو روپے سے زا ئد کلو فر و خت ہو رہی ہے اور یہی صو رتحال آٹے کی بھی ہے وہ بھی مہنگے دامو ں فر وخت ہورہا ہے بلکہ اس کی تو کوئی قیمت ہی مقر ر نہیں ہے ہر رو ز اس کی قیمت الگ ہو تی ہے اس وا ضح صو رتحال کے با و جو د وفا قی کا بینہ ،و ز یر اعظم اور وفا قی وز ر اءکی جا نب سے مذکو رہ جیسے بیا ن با ر با ر دہر انا کسی بھی طر ح صحیح اقدام نہیں ہے بلکہ یہ عو ام کو ریلیف دینے کی بجا ئے اسے تکلیف پہنچا نے کے متر اد ف ہے سب کچھ عیا ں طو ر پر نظر آرہا ہے لیکن اس کے با و جو د حکومت اور وفا قی کا بینہ کا اس سلسلے میں حقا ئق کو مسخ کرنا عوام کے سا تھ بہت بڑ ی زیا د تی کے متر ا د ف اقد ام ہے حکومت کو ایسا نہیں کرنا چا ہیئے اس سے قبل بھی انہی سطو ر میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ حکومت نے شو گر سیکنڈ ل کے لیے ایک کمیٹی بنا ئی تھی جس نے اپنی ر پو رٹ پیش کی تھی جو پبلک عا م کی گئی اور جس میں حکومتی ار ا کین اور پا کستان تحریک انصا ف کے سینئر سا تھی اور وز یر اعظم عمر ان خان کے قر یبی دوست جہا نگیر ترین کا نا م بھی آیا جس کو و ز یر اعظم عمر ان خان نے خو د پبلک کیا جو بلا شبہ ان کا جر ا ت مند انہ اور عو ام دوست اقد ام تھا انہو ں نے عو ام کے مفاد میں ایسا کر کے ثا بت کر دیا کہ وہ حقا ئق پر یقین رکھتے ہیں حا لا نکہ جہا نگیر تر ین کا پاکستان تحر یک انصا ف اور ا س کے بعد اس کی حکومت کے قیا م میں بہت بڑ ا کر دا ر ہے افسو س کی با ت یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے با و جو د چینی کی قیمت کم ہونے کی بجا ئے دن بد ن بڑ ھتی گئی جو 55 رو پے سے 110 رو پے کلو ہو گئی جو کہ قا بل مذمت اقد ام ہے۔
ا س تما م عمل میں تا جر وں اور ذخیر ہ اند وزو ں کا بھی بڑ ا عمل د خل ہے لیکن اس سلسلے میں متعلقہ اد ارے اپنے فر ائض صحیح طر یقے سے ادا نہیں کر رہے انہو ں نے بھی تا جر وں اور ذخیر ہ اند و زو ں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ غر یب عو ام کو بے شک بے در د ی سے دو نوں ہا تھو ں سے لو ٹیں۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ،و ز یر اعظم ،وفا قی وز ر ا ءاور وفا قی کا بینہ کو عو ام کو ریلیف دینے سے متعلق اقد ا ما ت کرنے چاہئیں وہ تو صر ف ا ب تک دلا سو ں اور یقین دہانیوں پر کام چلا رہے ہیں جو کہ صحیح اقد ام نہیں ہے اس سلسلے میں عملی اقد اما ت کر نے چاہئیں جوکہ نہا یت ہی نا گز یر ہیں کیونکہ عو ام نے پاکستان تحریک انصا ف کو بھا ری مینڈ یٹ دے کر منتخب ہی اس لیے کیا تھا کہ اس نے تبد یلی کا نعر ہ لگا یا تھا لیکن اب تک وہ اس پر عمل در آمد نہیں کر سکی اس کا ایسا نہ کرنا اس کے مفا د میں نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*