”را “حمت نہ کرے،ہم حاضر ہیں

اسد اللہ غالب
آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بھارتی دہشت گردی کی نئی لہر کا پردہ چاک کیا ہے، مگر میں ا س معاملے کو کسی اور زاویئے سے دیکھتا ہوں۔یہ میں نہیں کہتا، ایک امریکی پراسییکیووٹر نے کہا تھا کہ پاکستانی لوگ ڈالروں کے لئے اپنی ماں کو بیچ دیتے ہیں۔ بات جھوٹ لگتی ہو تو پتہ کیجئے کہ ایمل کانسی کے ڈالر کس نے ڈکارے۔قوم کی بیٹی عافیہ کو کس نے بیچا۔افغان سفیر ملا ضعیف کو گوانتا نامو کس نے بھجوایا،ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے ڈالر کس نے کھائے، اور اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے والے کے ہاتھ کتنے ڈالر لگے۔میں پریشان ہوں کہ ایک اور شرمناک سودے کا ذکر کروں یا نہ کروں۔ میرا قلم تھر تھر کانپ رہا ہے،لرز رہا ہے مگر میجرنذیر نے بتایا کہ سعید آسی اور فضل حسین اعوان اپنے کالموں میں اس گھناﺅنے سانحے کا ذکر کر چکے ہیں کہ جب ایک بھارتی جا سوس کشمیر سنگھ پکڑا گیا تو اس کا ملٹری ٹرائل اس نے کیا تھا اور جب اسے موت کی سزا سنائی گئی تو کشمیر سنگھ نے بڑے اطمینان سے کہا تھا کہ میجر صاحب ا?پ مجھے موت کی سزا سنا رہے ہیں مگر ا?پ کا ملک مجھے یہ سزا نہیں دے پائے گا ، میجر نذیر صاحب نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ آپ کی قو م بکاﺅ مال ہے۔ اس نے کہا کہ جب اسے لاہور میں پکڑا گیا تواس سے قبل بھی فوجی انٹیلی جنس نے اس کا پیچھا کیا تھا مگر وہ اندرون شہر کے ایک گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر چلا گیا۔۔ گھر والوںنے چند ٹکوں کے عوض نہ صرف اسے پناہ دی بلکہ اپنی کنورای جوان بیٹی کے ساتھ بستر پر لٹا کر اوپر ایک چادر اوڑھا دی۔فوجی انٹیلی جنس بھی دیوار پھلانگ کر اندر آئی اور ایک ایک کمرے اور کونے کونے کی تلاش کر ڈالی مگر وہ مالک مکان کی بیٹی کے ساتھ لیٹا ہواتھا۔ گھر والوں سے باربار پوچھا گیاکہ یہ کون لوگ ہیں۔ گھر والوںنے باربار کہا کہ یہ میرا بیٹا اور بہو ہیں۔کیااب بھی آپ کو امریکی پراسیکیوٹر کے طعنے پر شک ہے اسی کشمیر سنگھ نے اسلام قبول کرنے کا ڈھونگ رچایا اور جب اسے خیر سگالی کے طور پر رہا کیا گیا تو ایک وفاقی وزیر انصار برنی اسے اپنی جھنڈے والی کار میں بٹھا کر خود واہگہ لے گیا۔کشمیر سنگھ نے جیسے ہی زیرو لائن پار کی تو اس نے ست سری اکال کا نعرہ لگایا اور کہا کہ اس نے پاکستانیوں کو دھوکہ دینے کے لیے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند۔نواز شریف نے نو بار جنرل باجوہ کااپنی تقریر میں نام لے کہا کہ آپ کو حساب دینا ہو گا جواب دینا ہو گا مگر بھارت نے توپوں کے نو سو گولے اندھا دھند داغے اور جنرل باجوہ سے حساب مانگا ،جواب مانگا۔بھارت اور نواز شریف ایک دوسرے کی کیوں مدد کو آے ہیں۔بھارتی گولہ باری سے مکان تو کیا پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو رہے ہیںا ورو ادی نیلم خاک سیاہ ہو گئی ہے۔ کتنے زخمی ہوئے کتنے شہید ہوئے کسی پاکستانی کو ان سے کوئی غرض نہیں کسی کو غرض ہے تو صرف یہ کہ گلگت کاالیکشن کیسے جیتنا ہے اور بھارت کو یہ کہنے کا موقع کیسے دینا ہے کہ ادھر تم ادھر ہم۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے تین سوسترا ور پینتیسں اے ہٹائی اور پاکستانی سیاست دانوں کے منہ سے رال ٹپک رہی ہے کہ و ہ گلگت بلتستان ہنزہ اور شمالی علاقوں کے حسن پر کیسے ڈاکہ ڈالیں اور کشمیر پر بھارتی قبضے کو سند جواز بخشیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستانی سیاست دان اس قدر ان پڑھ ہیں کہ انہیں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جموں و کشمیر کی پوری ریاست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے متنازعہ ہے،اس علاقے میںجموں ہے، وادی سری نگر ہے لداخ ہے۔ کارگل ہے گلگت ہے۔ بلتستان ہے ، ہمزہ ہے اور پورا شمالی علاقہ ہے۔ یہاں کے عوام نے ابھی تک اپنی قسمت نہ بھارتی سیاسی جماعتوں کے حوالے کرنے کے لئے ووٹ دیا ہے نہ پاکستانی سیاسی جماعتوںکو اپنا علاقہ ہتھیانے کی اجازت دی ہے۔کسی وقت استصواب ہو گا تواس علاقے کی قسمت کا فیصلہ ہو گا مگر لالچ کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ان دنوں پاکستان میںدہشت گردی کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں حالانکہ پاک فوج کی قربانیوںکے صلے میں ہم نے دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیا تھا اور یہ دنیا میں ایک مثال تھی مگر جب دہشت گرد ہمار ی صفوں میں موجود ہوں گے جو ہمارے اشاروں پر اپنے آپ کو بم بنا لیتے ہیں تو پھر دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہو گا۔ ہاں ایک فارمولاہے کہ شہبا ز شریف کہیں کہ دہشت گرد پنجاب کومعاف رکھیں اور پرے پرے رہیں، دہشت گر د اتنے تابع دار اور وفا شعار اور نمک حلال ہیں کہ انہوںنے ایک دن بھی اس حکم کے خلاف قدم نہیں اٹھایا۔ وہ خیبر پختون خواہ کونشانہ بناتے ہیں،۔ کراچی کونشانہ بناتے ہیں اور بار بار بناتے رہے ہیں ، بلوچستان کونشانہ بناتے ہیںا ور بار بناتے ہیں مگر پنجاب سے پرے پرے رہتے ہیں اور یہ جو کنٹرول لائن پر گولہ باری میں یکا یک اضافہ ہوتا ہے تو یہ اس وقت ہوتا ہے جب نواز شریف کی فوج سے ان بن ہو تو بھارت کی توپیں ان کے اشاہ ابرو کو سمجھ جاتی ہیں۔نواز شریف نے اپنی تقریر میں با بار کہا کہ جنرل باجوہ آپ کو جواب دینا پڑے گا۔ مگر نواز شریف سے بھی کوئی پوچھے کہ یہ جو وادی نیلم میں مارے گئے، ان کے خون ناحق کا جواب تمہیں دینا ہو گا، بھارت نے ایک بار پاکستان کو توڑا مگر پھر اسے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیںہوئی۔میاںنواز شریف میلی آنکھ اورمیلے لفظوں سے جنرل باجوہ کو مخاطب کرتے ہیں۔اور ان کی زبان میں لکنت نہیں آتی۔ ترکی میں ناکام فوجی انقلاب پر نواز اور شہباز نے ترک عوام کو سلام پیش کیا تھا اور انکے حاشیہ بردار کالم نویسوں نے دھمکیاںلگائی تھیں کہ پاکستان میں فوج کی مداخلت کی صورت میں ترکی والا حشر نشر کیا جائے گا۔بھارتی” را“ کاہے کو زحمت کرتی ہے۔ ہم خود بھارت کے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کے لئے حاضر ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*