ٹھنڈے دل سے غور کریں

جمیل اطہر قاضی
وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں پاکستان سرٹیفکیٹ لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ معاشی اصلاحات سے متعلق ہماری کوششوں کی بدولت 17 برس کے بعد حالیہ سہ ماہی میں ہمارا کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس چلا گیا ہے۔ پاکستانی برآمدات میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے اورسوائے انتہائی ضروری اشیائ کے درآمدات میں کمی ہوئی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آمادہ کیا جائے گا کہ وہ اپناروپیہ پاکستان میں رکھیں، سابقہ حکومتوں کے قرضوں کا بوجھ نہ اٹھاناپڑتا تو اب تک ملک معاشی طورپر خوش حال ہو چکا ہوتا۔ معیشت میں بہتری لانے کے لئے اب ہماری توجہ برآمدات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے پر مرکوز ہے۔کورونا وبائ کے معیشت پرزبردست منفی اثرات مرتب ہونے کے باوجود معیشت میں بہتری آنا ہماری خوش قسمتی ہے۔گندم اورچینی کا بحران آئندہ پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ وطن عزیز کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں اورسال بھر سے جاری کوروناوائرس کے پھیلاﺅ سے پاکستانی معیشت کو ہونے والے ناقابل تلافی نقصانات کے باوجود پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہونا یقیناً باعث اطمینان ہے ،خاص طور پر یہ کہ 17 سال بعد کرنٹ اکاﺅنٹ کا خسارہ سے نکل کرپلس میں چلے جانا معیشت کی بہتری کے لئے حکومت کی مثبت کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جن معاشی پالیسیوں کے باعث معیشت میں بہتری آئی ہے انہیں نہ صرف جاری رکھاجائے بلکہ ان میں مزید بہتری لائی جائے۔اس حوالے سے غیر پیداواری اخراجات میں کفایت شعاری سے کام لینا اورارباب اختیار کو طرز زندگی میںسادگی لاناایسے سنہری اصولوں پر عمل درآمد مزید مفید ثابت ہو سکتا ہے جو کہ وزیر اعظم کا بھی ویڑن بھی ہے۔معیشت میںبہتری کے آثار نمایاں ہونے میںجہاں بہتر پالیسی سازی کاخاصا عمل دخل ہے وہاں وزیر اعظم کاذاتی طورپر پ±رعزم اور مسلسل متحرک رہنا بھی قابل ستائش ہے کہ ملک میں جاری کورونا کی مسلسل تباہ کاریوں کے باعث پاکستانی معیشت جس طرح زبوں حالی سے دو چارہوئی ،اس مالی خستہ حالی سے نجات کے بعد معیشت میں بہتری کے اس تسلسل کوبرقرار رکھنے میں درا?مدات میںمزید کمی اور برآمدات میںاضافہ معیشت کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم کی جانب سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فعال بنانے کا عزم بھی خوش آئند ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری جتنی فعال ہو گی اتنا ہی نہ صرف بے روز گاری کا خاتمہ ہوگا بلکہ برا?مدات میں اضافہ یقینی ہو سکے گا۔ کسی بھی ملک کی معیشت میں استحکام اورترقی کے لئے زر مبادلہ کے ذخائر بنیادی کردار ادا کرتے ہیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر کاحجم جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی ملک کی تجارتی پالیسی کو بہتر اورآسان خطوط پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
خاص طورپر بیرونی اور اندرونی قرضوں کی ادائیگی کے وقت مالی مشکلات کا سامنا نہیں ہوتا مزید یہ کہ ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں آسانی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے مسلسل دلچسپی اور متعلقہ حکام کو متحرک رکھنا قابل تحسین اقدام ہے کہ اس اقدام کو جتنا موثر بنایاجائے گا اتنی معیشت تیزی سے ترقی کرے گی۔ وطن عزیز کا ایک بڑامسئلہ ملک میں ضروری غذائی اجناس کی مصنوعی کمی اورمہنگائی کاجن بوتل میں بند نہ ہونا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کا یہ عزم کہ ملک میں چینی اور گندم کا بحران پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا ، قابل تحسین ہے۔ اگر عوام کو درپیش غذائی بحران اور مہنگائی کا تدارک یقینی بنا دیا جائے تو عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور مایوسی بلا تاخیر ختم ہو سکتی ہے۔ لازم ہے کہ وزیراعظم عمران خان مسائل کے حل کے لئے متعلقہ وزارتوں کی کار کردگی بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ کہ اگر متعلقہ حکام اس حوالے سے اپنی آئینی ، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کوبطریق احسن انجام دیں تو درپیش مسائل کی شدت میں جلد کمی آ سکتی ہے۔ عوام میں مسائل حل نہ ہونے پر مایوسی میں اضافہ کی بڑی وجہ وزیروں، مشیروں کاحقیقی ذمہ داریوں کو پش پشت ڈال کر سیاسی مقابلہ بازی کا حصہ بننا ہے کہ حکمرانوں کی یہ روش ان کے حلف کی پاس داری سے متصادم ہی نہیں،حکمران پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بھی بن رہی ہے۔اس روش سے ملک میںسیاسی تناﺅ بھی بڑھ رہا ہے جو ارباب اختیار کے لئے دعوت فکر ہے کہ وہ اصلاح احوال کے لئے اپنا سیاسی قبلہ درست کر نے پر توجہ دیں۔چینی کی قیمت نئی بلندی پر 115روپے کلو ہوگئی ، ادارہ شماریات
سیاسی مسائل کے حل کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہے۔ بہتر یہی ہے کہ موجودہ سیاسی تناﺅ کوختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیاجائے اور تمام اہم قومی امور پربامقصدبحث کی جائے کہ مسائل حل کرنے کایہی جمہوری راستہ ہے اوریہی حالات کا تقاضا ہے اور یہی راستہ ہمیں اس حقیقی تبدیلی سے روشناس کر انے کا باعث بن سکتا ہے جو وزیر اعظم کا ویڑن ہے۔اس سلسلے میں ارباب اختیار اوراپوزیشن میں مثالی ریلیشن شپ کا قائم ہونا ہی قومی مفاد میں ہے جس پر ارباب اختیار کو توجہ دینی چاہیے کہ پارلیمانی طرز حکومت میں اختلاف رائے کی بنیاد پر اپوزیشن کو دیوار سے لگانا نہ صرف جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ رجحان معاشی ترقی کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ملک میں افہام وتفہیم کی سیاست ہی درپیش مسائل کا واحد حل ہے کہ حکمرانوں کا احتساب کے نام پر اپوزیشن رہنماﺅںکو چور اور ڈاکو کہتے چلے جانا نہ صرف سیاسی آداب کے منافی ہے بلکہ انتشار کا باعث بن رہا ہے۔حکمران اگر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو یہی سیاسی انتشار نہ صرف ان کے لئے درد سر بنا ہوا ہے بلکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
حکمران اگر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو یہی سیاسی انتشار نہ صرف ان کے لئے درد سر بنا ہوا ہے بلکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*