بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ ماضی کے حکمران ہیں،عمران خان

Prime Minister of Pakistan Imran Khan

تربت(اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ ماضی کے حکمران ہیں، ماضی میں بلوچستان کے سیاسی رہنماﺅں نے بھی عوام کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی، ماضی میں سیاسی رہنماﺅں نے بلوچستان سے زیادہ لندن اور ایک سابق صدر نے بلوچستان سے زیادہ دبئی کے دورے کئے، موجودہ حکومت کے دور میں سیاسی مفاد سے بالاتر بلوچستان پر خصوصی توجہ اس لئے دی جا رہی ہے کہ یہ ترقی میں پیچھے ہے،کمزور طبقے کو سہولیات فراہم کئے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم بلوچستان میں بھی شروع کی جائے گی، موثر معاشی پالیسیوں کے باعث کورونا کے باوجود ملکی معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے، 17 سال بعد پہلی دفعہ کرنٹ اکاﺅنٹ پلس ہے، گذشتہ چار ماہ میں کوئی نیا قرض نہیں لیا، کورونا کی دوسری لہر سے پاکستان بھی متاثر ہو رہا ہے، حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا۔ وہ جمعہ کو یہاں جنوبی اضلاع کے عمائدین سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان ترقی میں اس لئے پیچھے رہ گیا کیونکہ بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ ماضی کے حکمران ہیں، ماضی میں بلوچستان کے سیاسی رہنماﺅں نے بھی عوام کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی، ماضی میں سیاسی رہنماﺅں نے بلوچستان سے زیادہ لندن اور دبئی کے دورے کئے اور بلوچستان پر جو توجہ دی جانی چاہیے تھی وہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کو اوپر لائے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، مدینہ کی ریاست حقیقی فلاحی ریاست تھی، چین نے 30 سال میں کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا، بہترین پالیسیوں کے باعث چین آج دنیا کی معاشی طاقت بن چکا ہے، چین دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے، سی پیک کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مغربی چین ترقی میں پیچھے تھا اور چین اسے سمندر سے جوڑنا چاہتا تھا تاکہ وہ بھی ترقی کرے، چین کے ساتھ اقتصادی راہداری ہمارے لئے ترقی کا زینہ بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مفاد سے بالاتر بلوچستان پر خصوصی توجہ اس لئے دی جا رہی ہے کہ یہ ترقی میں پیچھے ہے، اسے ملک کے دیگر صوبوں کے برابر لایا جائے گا، وزیراعظم کی حیثیت گھر کے سربراہ کی ہوتی ہے اور وہ تمام صوبوں کی مساوی ترقی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی یہاں پر موجود ہیں، انہوں نے بلوچستان میں یونیورسٹی اور ہسپتال میں سرمایہ کاری کی ہے، یہ بڑے بھائی کی طرف سے چھوٹے بھائی کے لئے امداد ہے، بلوچستان کی محرومیوں سے فائدہ اٹھانے والے اس لئے بھی کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ لوگوں میں یہ تاثر ابھرنے لگتا ہے کہ ہمیں کیا فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقی ہونے جا رہی ہے، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، بلوچستان چین سے منسلک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے تحت بلوچستان کے لوگ بھی مستفید ہو سکتے ہیں اور پانچ مرلے کے گھروں کی تعمیر کے لئے پانچ فیصد کی شرح سود پر قرضہ لیا جا سکتا ہے، قرض پر زائد شرح حکومت کی طرف سے ادا کی جائے گی، پی ٹی آئی حکومت نے پہلی دفعہ ملک میں ہاﺅسنگ سکیم متعارف کرائی ہے، احساس پروگرام کے تحت بھی دو سو ارب روپے مستحق افراد کو فراہم کئے گئے ہیں، پہلے ملکی تاریخ میں پہلے ایسا کوئی پروگرام شروع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی، انٹرنیٹ کی سہولیات سے نوجوان نسل کی ترقی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر نے تباہی مچا رکھی ہے، بھارت کی معیشت بھی کورونا کے باعث 73 سالہ تاریخ میں بری طرح متاثر ہوئی ہے، ساری دنیا میں کورونا کا عذاب آیا ہوا ہے، ا? کا شکر ہے کہ پاکستان کورونا کی پہلی لہر میں دنیا کے دوسرے ملکوں کی نسبت کم متاثر ہوا، کورونا کی دوسری لہر سے پاکستان بھی متاثر ہو رہا ہے، حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا، پاکستان جس طریقے سے کورونا کی صورتحال سے نمٹنے میں کامیاب ہوا، برصغیر کا کوئی بھی ملک اس طرح کورونا سے باہر نہیں نکلا، کورونا سے پہلے ٹیکس وصولی کا ہدف درست سمت میں جا رہا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے ٹیکس وصولی میں 900 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود ہم بلوچستان کی ترقی کے لئے پیکج دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت ترقی کر رہی ہے، 17 سال بعد پہلی دفعہ کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس ہے، گذشتہ چار ماہ میں کوئی نیا قرض نہیں لیا، سیمنٹ، سریا، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی ریکارڈ فروخت بھی مثبت اشاریے ہیں اور پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کا شمار ایشیائکی بہترین سٹاک مارکیٹس میں ہو رہا ہے۔ تقریب میں گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید، ارکان پارلیمنٹ اور عمائدین علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*