گاجر غریب کا سیب

تحریر: محمد عثمان حمید
گاجر دنیا بھر میں ایک مقبول ترین سبزی ہے،جو بہت زیادہ کھائی اور اُگائی جا تی ہے۔گاجر ایک ایسی سبزی ہے،جو پھلوں میں بھی شمار ہوتی ہے۔گاجر کا انگریزی نام کیرٹ (Carrot) ہے۔گاجر میں کیروٹین (Carotene) ہوتی ہے،جو ہمارے جسم میں جا کر حیاتین الف (وٹامن اے) بن جاتی ہے۔گاجر کا آبائی وطن افغانستان ہے،لیکن اب یہ پوری دنیا میں کاشت کی جاتی ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر کے کاشت کار جدید اور پیداواری عوامل اپنا کر عوام کو سستی گاجر فراہم کر سکتے ہیں۔گاجر کے پتے سونف یا شاہترہ کے پتوں جیسے ہوتے ہیں۔اس میں دھنیے اور سویے کی طرح چھتر میں پھول لگتے ہیں،جن کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ان سے خوشبو آتی ہے۔گاجر کی جڑ ایک انگلی سے ڈیڑھ فیٹ تک لمبی ہوتی ہے۔
اس کی بہترین قسم وہ ہے،جو سرخ،شیریں وشاداب اور کم ریشے والی ہوتی ہے۔
اس کا رنگ نارنجی،گلابی،سرخ،گہرا بھورا یا سیاہ تک ہوتاہے۔طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق گاجر سرطان کی رسولیاں بننے کے عمل کو روک دیتی ہے۔ گاجر میں شامل خاص اجزاءجسم میں پیدا ہونے والے سرطان کے عوامل کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔گاجر کے سبز پتے غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ان میں لحمیات (پروٹینز)،معدنیات(منرلز)اور حیاتین(وٹامنز)وافر مقدارمیں پائی جاتی ہیں۔
غذائی اعتبار سے گاجر حیاتین الف حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔گاجرمیں موجود کھاری اجزاءخون کو صاف کرتے اور پورے جسم کی نشوونما کرتے ہیں۔یہ جسم میں تیزابیت اور کھار کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔گاجر کے رس کو کرشماتی رس کہا جاتا ہے۔یہ نہ صرف بچوں کے لئے صحت بخش ہوتا ہے،بلکہ بڑوں کو بھی بہت فائدہ دیتا ہے۔گاجر کا رس آنکھوں کو توانائی دیتا اور جلد کو تازگی و شادابی بخشتا ہے۔
کھانا کھانے کے بعد ایک گاجر چبا کر کھانے سے منہ میں غذا کے ذریعے پہنچنے والے جراثیم ہلاک ہو جاتے ہیں۔یہ دانتوں کو صاف کرتی اور ان کی درزوں سے غذا کے اجزاءنکال دیتی ہے۔ گاجر کھانے سے مسوڑوں سے خون رسنا بند ہو جاتا ہے اور دانتوں کا انحطاط رک جاتا ہے۔
گاجر کا دیگر استعمال:گاجر کو مختلف طریقوں سے کھایا جاتا ہے۔اسے سلاد کی صورت میں کچا کھایا جاتا ہے۔اسے اُبال کر بھی کھایا جاتا ہے اور سالن کے طور پر بھی کھاتے ہیں۔اس کا سوپ اور رس دنیا بھر میں مقبول ہیں،لیکن یہ کچی حالت میں زیادہ مفید ہوتی ہے۔گاجر پکانے پر اس کے صحت بخش اجزاءبڑی مقدار میں ضائع ہو جاتے ہیں۔سلاد میں گاجر ایک مفید جزو ہے۔گاجر کا اچار مرچ،نمک اور رائی ملا کر بنایا جاتاہے۔یہ بہت مزے دار اور ہاضم ہوتا ہے،معدے کو طاقت دیتا ہے اور جگر وتلی کے امراض دور کرنے میں موثر ہے۔
کھانا کھاتے وقت اس اچار کی تھوڑی مقدار پیٹ کے لئے بہت مفید ہے۔دل کے امراض اور خفقان (دل بہت تیز دھڑکنے کی بیماری) سے نجات پانے کے لئے گاجر کو بھوبھل میں دبا کر گرم کر لیا جاتا ہے۔پھر اسے کاٹ کر رات کو شبنم میں رکھ دیتے ہیں۔صبح کو کیوڑا اور چینی ملا کر مریض کو کھلائیں تو بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔گاجر کا حلوا عام طور پر گلابی رنگ کی تازہ گاجروں سے بنایا جاتا ہے۔
یہ حلوا ایک سے ڈیڑھ چھٹانک سے زیادہ نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ زیادہ مقدار میں کھانے سے وہ دوا نہیں رہتا،بلکہ غذا بن جاتا ہے۔
ہاضمے کی خرابیاں:گاجر خوب چبا کر کھانے سے لعاب دہن میں اضافہ ہوتا ہے اور ہاضمے کا عمل تیز ہو جاتا ہے،اس لئے کہ یہ معدے کو ضروری خامرے (انزائمز)،معدنی اجزاءاور حیاتین مہیا کرتی ہے۔گاجر روزانہ کھانے سے معدے میں زخم نہیں بنتے اور ہاضمے کی بیماریاں لاحق نہیں ہوتیں۔گاجر کا رس آنتوں کے درد،بڑی آنت کی سوزش،معدے کا زخم اور بدہضمی دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔
قبض:گاجر کے رس میں اگر پالک کا رس ملا کر اس میں تھوڑا سا لیموں کا رس شامل کرکے پیا جائے تو قبض کی شکایت جاتی رہتی ہے۔پالک کا رس آنتوں کی خرابیاں ختم کرتا ہے۔مذکورہ رس تیار کرنے کے لئے 250ملی لیٹر گاجر کے رس میں 50ملی لیٹر پالک کا رس ملانا چاہیے۔
اسہال:گاجر کا رس اسہال کے مرض میں ایک عمدہ قدرتی علاج ثابت ہوتا ہے۔یہ پانی کی کمی دور کرتا اور سوڈیئم،پوٹاشیئم،فاسفورس،کیلسیئم، سلفر اور میگنیزیئم کا نقصان پورا کرتا ہے۔(جار ی ہے)
گاجر کا رس آنتوں کی سوزش سے محفوظ رکھتا ہے۔گاجر کا رس روزانہ پینے سے بیکٹیریا کی نشوونما رک جاتی ہے۔قے روکنے کے لئے بھی یہ رس بہت فائدہ مند ہے۔
بچوں کے لئے تو یہ رس بے حدمفید ہے۔اسہال سے چھٹکارے کے لئے آدھا کلو گاجروں کو 150 ملی لیٹر پانی میں اتنا اُبالیں کہ یہ نرم ہو جائیں۔پھر پانی کو نتھار لیں اور اس میں تھوڑا سا نمک ڈال کر اسے ہر آدھے گھنٹے بعد مریض کو پلائیں۔چند گھنٹوں میں بہتری کے آثار نظر آنے لگیں گے۔
پیٹ کے کیڑے
گاجر بچوں کے پیٹ کے کیڑے خارج کرنے کے لئے بہت مو?ثر ہے۔
ایک چھوٹی پیالی کدوکش کی ہوئی گاجریں صبح کے وقت کھانے سے پیٹ کے کیڑے تیزی سے خارج ہو جاتے ہیں۔
گاجر کا مربا
گاجر کے مربے کے بارے میں اطبا نے لکھا ہے کہ یہ جلد ہضم ہو جاتا ہے۔استسقا (ایک مرض جس میں پیاس بہت لگتی ہے۔اس میں پیٹ بڑھ جاتا ہے اور پورا جسم ڈھیلا اور سست ہو کر پھول جاتا ہے)کے مریضوں کو یہ مربا کھانا چاہیے،کیونکہ اس سے انھیں بہت فائدہ پہنچتا ہے۔
بہتر ہے کہ یہ مربا شہد میں بنایا جائے۔گاجر کے پتوں کو کچل کر ضماد کرنے سے آکلہ(منہ آنا)جاتا رہتا ہے۔تمام اطبا گاجر کو جلد ہضم ہونے والی سبزی بتاتے ہیں۔کچی گاجر کو اگر زیادہ کھایا جائے تو پیٹ پھول جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسے استسقا کی دوا میں شامل نہیں کیا جاتا۔
کھانے کا طریقہ و احتیاط
گاجر اور مولی وہ سبزیاں ہیں،جنھیں کھانے سے پہلے خوب دھو لینا چاہیے اور خشک کرکے کھانا چاہیے۔
یہ سبزیاں زیادہ مقدار میں کھانے سے ریاح پیدا کرتی ہیں۔
خصوصیات و فوائد
گاجر جگر کے سدے کھولتی ہے اور جسم کو طاقت دینے میں لاثانی سبزی ہے۔مثانے اور گردے کی پتھری گاجر کا رس روزانہ پینے سے ٹوٹ کر خارج ہو جاتی ہے۔گاجر کا حلوا جسم کو طاقت دیتا ہے۔دل کے امراض میں مفید ہے۔روزانہ گاجر کے رس کا ایک گلاس پینے سے دل کا عارضہ لاحق نہیں ہوتا۔
گاجر میں تمام سبزیوں سے زیادہ غذائیت ہوتی ہے۔کچی گاجر کھانے سے بینائی میں اضافہ ہوتا ہے۔گاجر جسم میں خون کی کمی دور کرتی ہے۔گاجر چہرے کا رنگ نکھارتی اور حسن میں اضافہ کرتی ہے۔گاجر کھانے سے پیشاب کی جلن سے نجات مل جاتی ہے۔دودھ دینے والے مویشی گاجریں کھانے سے دودھ زیادہ دیتے ہیں۔گاجر کھانے سے دماغی پریشانی جاتی رہتی ہے۔یہ دماغ کو تازگی بخشتی ہے۔یرقان کے مریض کو گاجر کے رس میں مصری ملا کر آدھا گلاس ایک ہفتے تک پلانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*