مشکل وقت ،سے نکل کر ،ملک صحیح راستے پر چل رہا ہے، عمران خان

اسلام آباد(آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں گندم اور چینی کا بحران پیدا نہیں ہونے دیں گے، غلط وقت پر بارش سے فصل کو نقصان ہوا اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی 2 فصلیں تباہ ہوئیں جس کے نتیجے میں ملک میں تخمینے سے کم گندم پیدا ہوئی، چینی پر بدقسمتی سے ملک میں کارٹلائزیشن ہے،اس کے خلاف اقدامات کررہے ہیں،، ان دونوں مسائل کے سوا پاکستان کے تمام اشاریے مثبت ہیں،17سال بعد کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں چلا گیا ہے،اقتدار سنبھالا تو 20ارب ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ تھا،4ماہ سے پاکستان کے قرضوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو، مشکل وقت سے نکل کر ملک صحیح راستے پر چل رہا ہے، کئی ملکوں کے اندر بڑھتا ہوا اسلامو فوبیا تشویشناک ہے۔جمعرات کونیا پاکستان سرٹیفکیٹ لانچنگ کی تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم سے اوورسیز پاکستانی رقم بھی لاسکیں گے اور ریٹرن بھی اچھا ملے گا، اوورسیز پاکستانیوں کو قائل کریں گے اپنا پیسا پاکستان لائیں۔سمندر پار پاکستانی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ سمندر پار پاکستانی وطن سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں کو ملک پیسہ لانے کیلئے موقع دے رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ملک میں خوراک کی رسد متاثر ہوئی، غلط وقت پر بارش سے فصل کو نقصان ہوا اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی 2 فصلیں تباہ ہوئیں جس کے نتیجے میں ملک میں تخمینے سے کم گندم پیدا ہوئی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ چینی پر بدقسمتی سے ملک میں کارٹلائزیشن ہے، شوگر ملز مل کر قیمتوں میں اضافہ کردیتی ہیں، اس کے خلاف اقدامات کررہے ہیں، قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ اب آگے ایسا نہیں ہوگا، گندم اور چینی دونوں میں یہ مسائل نہیں آنے دیں گے، ان دونوں مسائل کے سوا پاکستان کے تمام اشاریے مثبت ہیں،17سال بعد کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں چلا گیا ہے۔ بہت محنت سے ہم نے برآمدات بڑھانے کی کوشش کی۔ ملکی معیشت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ فخر ہے 17سال کے بعد ہمارا کرنٹ اکاونٹس سرپلس پر گیا۔اقتدار سنبھالا تو 20ارب ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ تھا۔ کورونا کےد وران پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوئی۔ گزشتہ حکومتوں کا بوجھ نہ ہوتا تو ہمیں مزید قرضے نہ لینے پڑتے۔ 4ماہ سے پاکستان کے قرضوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ مشکل وقت سے نکل کر ملک صحیح راستے پر چل رہا ہے، تاہم خرچوں کو کم کرنے سے مشکلات آتی ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ گزشتہ حکومتوں کا بوجھ نہ ہوتا تو ہمیں مزید قرضے نہ لینے پڑتے، اگر پچھلے قرضوں پر سود نہ دینا پڑے تو ہم اس وقت اپنی آمدنی کو اخراجات سے اوپر لے آئے ہیں اور کسی قرضے کی ضرورت منہ پڑے، ہم نے پچھلے 4 ماہ میں ملکی قرضے میں کوئی اضافہ نہیں کیا، 17 برس بعد پاکستان کا کرنٹ اکانٹ خسارہ ایک کوارٹر میں سرپلس ہوگیا ہے اور روپے کی قدر بھی بہتر ہورہی ہے۔ فیصل آباد میں ساری ٹیکسٹائل انڈسٹری چل پڑی ہے۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں لیبر کی کمی ہوگئی ہے۔ ہم اپنے خرچوں سے آمدنی اوپر لے آئے ہیں، جو اچھی بات ہے۔ اللہ کا شکر ہے پاکستان اب درست راستے پر چل پڑا ہے۔ عمران خان نے اس موقع پر کئی ملکوں میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کئی ملکوں کے اندر بڑھتا ہوا اسلامو فوبیا تشویشناک ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*