محکموں کی محکمانہ کار کر دگی بہتر اور فعال بنانے کی ضرورت ہے، جام کمال

Mir Jam Kamal Khan

کوئٹہ(خ ن)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل امور کے جائزہ اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کے موقف کو حتمی شکل دینے کے لئے منگل کے روز اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ عمر خان جمالی،پارلیمانی سیکریٹریز محترمہ بشریٰ رند، دھنیش کمار، چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔ سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے اجلاس کو مشترکہ مفادات کونسل کے ایجنڈے میں شامل امور، سفارشات اور تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سی سی آئی کا آئندہ اجلاس 11نومبر 2020ءکو منعقد ہوگا جس میں چار نکاتی ایجنڈا شامل ہے۔ اجلاس میں بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز سے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ اس پراجیکٹ کے لئے وفاقی حکومت سے دو یا تین سال کے لئے بجٹ مختص کرنے کا کہا جائے گا تاکہ اس پراجیکٹ کو فعال کیا جاسکے۔ اجلاس میں توانائی کے متبادل ذرائع سے متعلق پالیسی 2019ءاور کھاد سبسڈی پیکج میں بلوچستان کے شیئر مختص کرنے سے متعلق ایجنڈا سی سی آئی اجلاس میں پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں نیپرا کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2018-19ئ، اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2019ءسے متعلق محکموں کی تجاویز، اوگرا آرڈیننس 2020ءمیں ترامیم، این سی ایچ ڈی پراجیکٹ، ونڈ فال لیوی، 1991ءکے ارسا معاہدے، محکمہ صحت اور بہبود آبادی کے عمودی پروگرامز، ایل این جی، پی ایس کیو سی اے اور پراونشل فوڈ اتھارٹی سمیت دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ایجنڈا سے متعلق سی سی آئی کے اجلاس میں بھرپور اور مدلل موقف اپنایا جائے گا۔ اجلاس کے دوران محکمہ توانائی کو بلوچستان کے سرد شہروں میں سولر گیزرز کے رحجان کو فروغ دینے کے لئے بھی تجویز پیش کی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک محکمے مضبوط نہیں ہوں گے ان کی کارکردگی موثر طور پر سامنے نہیں آسکے گی، ہمیں محکموں کی محکمانہ کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے انہیں موثر طور پر فعال بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت ہر فورم پر بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور مفادات کو ہر صورت مقدم رکھے گی اور مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں صوبے کے وسیع تر مفاد کے مطابق موقف اپنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ سیکریٹریز کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام امور کا وسیع تناظر میں جائزہ لینے کے لئے خود کوتمام قانونی اور تکنیکی پہلو¶ں سے آگاہ رکھا جائے تاکہ خاطر خواہ نتائج کا حصول ہو اور صوبے کے حقوق کا تحفظ بہتر انداز سے کیا جاسکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*