” اقبال کی ریاست“

ڈاکٹر احمد سلیم
ہم سب علامہ اقبال کو شاعر مشرق اور پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ بلکہ اب تو آہستہ آہستہ ہم اپنی درسی کتب میں انکا یہ تذکرہ بھی کم سے کم کرتے جا رہے ہیں۔ہمارے قومی شاعر تو وہ بلا شبہ ہیں لیکن اگر ہم انکی تعلیما ت کا مکمل فہم اور فراست کے ساتھ مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ در اصل وہ ایک شاعر سے بڑھ کر بہت کچھ تھے۔ اور ان کو بس ایک شاعر کا درجہ دے دینا عین انصاف نہیں۔ در اصل علامہ اقبال ایک مفکر، سیاستدان، فلسفی اور سماجی اصلاح پسند بھی تھے۔ انہوں نے جہاں ایک فرد یعنی ایک مسلمان کو ایک ” مرد مومن“ بننے کی راہ دکھائی وہاں ایک اسلامی ریاست اور امت کا نظریہ بھی پیش کیا۔ ”اقبال کی ریاست “ میں ہمیں اسلام کے سائے میں قانون کی حکمرانی، عدل، انصاف ، سماجی برابری اور انسانی حقوق سمیت وہ سب ملتا ہے جس کے لیے ہم تو ترس ہی رہے ہیں ، مغرب بھی کوشش کر رہا ہے۔ اقبال کے کلام میں قدیم عربی اور فارسی ادب کے حوالے تو ملتے ہیں لیکن ان کے فہم کا سب سے بڑا ذریعہ قرآن مجید ہے۔اگر کہا جائے کہ وہ ایک عالم دین اور مفسر قرآن بھی تھے تو غلط نہیں ہو گا۔ کیونکہ اقبال کا کلام اللہ تعالیٰ کی عطا کے سوا کچھ نہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیمات کے لیے لیکچرز کے علاوہ جس طریقہ کار کو استعمال کیا یا جس زبان میں ان کی تعلیمات نے برصغیر کے ایک ایک کونے تک رسائی حاصل کی وہ ” شاعری کی زبان“ تھی لیکن انکی شاعری میں قرآن کی تفسیر بھی مل جاتی ہے۔علامہ اقبال مسلمان مرد مومن، مسلمان ریاست اور مسلم امہ کی طاقت پر مکمل یقین رکھتے تھے اور انکا پیغام در اصل تمام دنیا کے مسلمانوںکے لیے تھا۔ اسی لیے انہوں نے اپنی زیادہ شاعری کے لیے فارسی زبان کا انتخاب کیا کیونکہ اس زمانے میں فارسی نہ صرف تمام بر صغیر کے مسلمانوں کی زبان تھی بلکہ ایران، افغانستان ترکی سمیت اسلامی دنیا کے بڑے حصے میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ علامہ اقبال کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا، لیکن انہوں نے بہترین دنیاوی تعلیم بھی حاصل کی۔ لندن سے بیرسٹری اور جرمنی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی سماجی اور سیاسی جد و جہد کا آغاز کیا۔1926 میںپنجاب سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1930 میں ا?پ نے پاکستان مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کی۔ اسی اجلاس میں انہوں نے پہلی مرتبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا خیال پیش کیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی برس تھا جب 1930 میں قائداعظم برصغیر کی سیاست سے مایوس ہو کر واپس انگلستان جا چکے تھے اور اپنا تمام وقت وکالت کودے رہے تھے۔ ایسے میں1932 میںتیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے دوران علامہ اقبال نے قائد اعظم سے متعدد ملاقاتیں کی اور انہیں برصغیر میں واپس آکر مسلم لیگ اور مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے کے لیے راضی کرنے میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔ علامہ اقبال ہی تھے جنہوںنے بر صغیر کے مسلمانوں کو دعوت اور تعلیم دی کہ وہ ” ملا کے اسلام“ کی بجائے قرآن اور اسلام کی تعلیمات کے سائے میں جدید علوم حاصل کریں اور انہیں یہ سمجھایا کہ جدید تعلیم کے بغیر نہ توبرصغیر کے مسلمان ترقی کر سکتے ہیں اور نہ دنیا کے مسلمان اپنی منزل پا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ سبق بھی دیا کہ مسلمان سیاسی جد و جہد بھی کریں، لیکن اقبال کی تعلیمات میں خا ص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی سمجھایا کہ دین اور سیاست کو الگ نہیںکیا جا سکتا۔ ” جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“۔( لگتا ہے انہوں نے یہ سبق آج کے حالات اور سیاست کے بارے میں دیا تھا)۔ اقبال نے جہاں ” فرد“ کی اہمیت سمجھائی اور کہاکہ ” افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر“ وہاں اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے انداز میں قومی اور ملی اتحاد کا سبق بھی دیا۔ ان کے بقول فرد کی خوہشات، جذبہ اور ارادے اس وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں جب تک وہ اپنی ملت کے دائرے میں ہوں۔ ملت کے دائرے سے باہر نکل گئے تو پھر کامیابی کا امکان نہیں۔” فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں“۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اقبال کا کلام اور فلسفہ تمام ادوار کے مسلمانوںکے لیے ہے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اقبال کے دور کے مسلمانوں پر عرصہ درازسے انگریز حکمران تھا اور وہ غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اقبال نے ایک بار پھر ان مسلمانوںمیں یہ سوچ اور شعور پیدا کیا کہ باوجود اس بات کے کہ وہ اس وقت غلام ہیں ان کے پاس مضبوط مذہبی اور معاشرتی اقدار موجود ہیں اور انہیں اس سب کے لیے مغرب کی جانب دیکھنے یا انگریز سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو مختلف زبانیں اور روایات رکھنے کے باوجود مذہب کی بنیاد پر اکٹھا ہونے کے لیے راستہ بھی دکھایا اور یہ بھی سمجھایا کہ بس یہی راستہ انکی اصل منزل کی جانب جاتا ہے۔ باقی سب راستے سراب اور فریب ہیں۔اقبال کی تعلیمات کے مطابق فرد ہو یا معاشرہ، ریاست ہو یا مسلم امہ، عزت نفس ، خود احساسی اور خود انحصاری کے بغیر نہ تو حقیقی ترقی ممکن ہے اور نہ دنیا میں کوئی مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سب کے ساتھ اقبال جمہوریت کے قائل تھے مگر انکی جمہوریت مغربی جمہوریت سے کوسوں دور ” اسلامی جمہوریت “ ہے جس میں افراد کو اپنے حکمران چننے کا اختیار تو ہے لیکن ان حکمرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ریاست پر حکومت کے تمام اصول اور قوانین قرآن اور حدیث اور اسلامی تعلیمات سے اخذ کریں۔ اسی لیے علامہ اقبال ہمیں جگہ جگہ اسلامی جمہوریت کی وکالت کرتے ہوئے ملتے ہیں تو ساتھ ہی مغربی جمہوریت کی مذمت کرتے بھی نظر آتے ہیں اور جاگیردانہ نظام اور وراثتی سیاست اور حکومت کی شدید مخالف بھی۔ افسوس کا مقام ہے کہ قیام پاکستان کے صرف تہتر برس بعد ہم مصور پاکستان کو صرف ایک شاعر کا درجہ دے کر اس عظیم شخصیت کی اصل تعلیمات اور فلسفہ بھول چکے ہیں۔ ایک جانب ہم بطور فرد خود انحصاری کی بجائے دوسروں کا سہارا تلاش کر رہے ہیں تو دوسری جانب بطور قوم دیگر اقوام عالم کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں نہ صرف ان سے قرضہ امداد چاہئیے بلکہ نظام بھی ان سے ہی ادھار لینا ہے۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ سب سے بہترین سیاسی، سماجی،معاشی اور معاشرتی نظام ہمارے دین کی شکل میں پہلے ہی ہمارے پاس موجود ہے۔ بس اسکو اونچے طاقوں سے اتار کر اپنے ملک اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نظام کے علاوہ کسی درآمد شدہ نظام میں ہمیں کوئی کامیابی نہ تو ملی ہے نہ مل سکتی ہے۔ اسی لیے آج ہم اتنے تجربات کرنے کے باوجود امن، استحکام اور ترقی سے دور ہیں۔ دیگر اقوام پر ہمارا انحصار وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھتا جا رہا ہے اور ہم دینی اور دنیاوی، ہر دو میدانوں میں تنزلی کا شکار ہے۔ موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے ” قومی شاعر“ پر صرف تقریری مقابلے کرنے کی بجائے ان کی تعلیمات میں موجود عالم دین، سیاستدان اور ماہر عمرانیات سے بھی رہنمائی حاصل کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*