وفاقی حکومت کو اب گھر جانا ہی ہوگا،بلاول بھٹو ز رداری

ہنزہ /ناصر آباد/گلمد گوجال(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان والے سی پیک کے دروازے پر کھڑے ہوکر سوال کر رہے ہیں سی پیک کہاں ہے؟ اپوزیشن جماعتوں کو گلگت لتستان کے انتخابی عمل سے باہر کرنے کی کوشش دھاندلی ہوگی،سب جان لیں میں گلگت بلتستان سے کہیں نہیں جارہا، اگر گلگت بلتستان سے نکال کر مجھے صوبہ بدر کرنا ہے تو گرفتار کرنا ہوگا،جمہوری لوگ ہیں دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ،حکومت کو اب گھر جانا ہی ہوگا۔ہنزہ کے شہر ناصر آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ مین بابا جان کی سرزمین پر آیا ہوں ،میرا وعدہ ہے کہ میں بابا جان کو بھی انصاف دلاﺅنگا اور پی ایس ایف کے احمد ممتاز کو انصاف لگاﺅں گا جس کو مشرف دور میں ملٹری کورٹ نے سزا سنائی تھی،۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دیگی حق حکمرانی دیگی حق ملکیت دیگی اور حق روزگار بھی دیگی ،انہوں نے کہا کہ آپ کی خدمت کرنے والے اور آپ کے حقوق دینے والے شہید ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دیدی گئی ،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی شہید کیا گیا اور آپ کو اپنا صوبہ اور شناخت دینے والے آصف علی زرداری کو 11 سال جیل میں رکھا گیا تھا ،ہم جمہوری لوگ ہیں جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، ہم دھمکیوں سے نہیں ڈرتے اس دھرتی پر بسنے والوں سے ہمارا تین نسلوں کا تعلق ہے جو کبھی نہیں ٹوٹے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کچھ لوگ صوبہ دینے کے جھوٹے نعری کی آڑ میں آپ سے سبسڈی چھیننا چاہتے ہیں، آپ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیکر کامیاب کریں،پیپلزپارٹی ان کے سامنے دیوار بن کر رہے گی اور آپ کے حقوق غضب ہونے نہیں دیگی۔ بعد ازاں ہنزہ میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کے آپ کے حق کیلئے شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ،اس لیئے روڈ نہیں تو ووٹ نہیں ہے کی سوچ مناسب نہیں ، آپ اپنے ووٹ کا ضرورت استعمال کریں تاکہ آپ کا حقیقی نمائندہ آپ کے مسئلہ حل کرے ،آپ پیپلزپارٹی کو ووٹ دیں ،آپ مجھے ووٹ دیں ،آپ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ووٹ دیں ،آپ کے تمام مسائل ہم حل کروائیں گے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ مجھے یہاں کے عوام کے بہت مسائل بتائے گئے ہیں، سردیوں میں ایندھن کا مسئلہ ہوتا ہے جس کو دور کرنے کے ریاست کو اقدامات کرنی پڑتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہاں کوئلے کی شدید ضرورت ہے اس لیئے میں حکومت سندھ سے بات کر کے تھر کول سے سستا اور معیاری کوئلہ دلاﺅنگا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا میرا یہ تیسرا دورا ہے ،میں گلگت بلتستان کے چپے چپے پر گیا ہوں اس لیے یہاں کے عوام کے مسائل کا بخوبی واقف ہوں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا آپ سے تین نسلوں کا ساتھ ہے ،شہید ذوالفقارعلی بھٹو کا نواسا اور شہید بی بی کا بیٹا آپ سے ساتھ نبھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ میرے تین نعرے ہیں اور موقع ملا تو ان شااللہ ان تینوں باتوں پر پورا اتروں گا۔اپنے منشور کے تینوں نکات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہم یہاں کے نوجوانوں اور عوام کو حق روزگار دینا چاہتے ہیں، خاص کر سی پیک اور روڈ کے منصوبوں میں سب سے پہلے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کریں گے اور عوام کو تاریخی روزگار دیں گے۔انہوںنے کہاکہ ہمارا دوسرا نعرہ ہے کہ ہم گلگت بلتستان کے عوام کو حق ملکیت دلانا چاہتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کے غریب کسانوں کو زمین کا مالک بنایا اور اب میں چاہتا ہوں گلگت بلتستان کے عوام کو نہ صرف اپنی زمین کا مالک بناو¿ں بلکہ ان پہاڑوں میں چھپی معدنیات کا حق بھی دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کا منشور ہے اور ہم گلگت بلتستان کو صوبہ بنا کر یہاں کے نمائندوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بٹھانا ہے اور اس وزیراعظم کا انتخاب اس علاقے کے عوام کی مرضی سے ہوگا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں تاکہ آپ کو حق حاکمیت اور روزگار کے علاوہ سی پیک جیسے بڑے منصوبے میں آپ کو حصہ دیا جائے گا۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ آپ کے علاقے میں ایک نعرہ اٹھا ہے ‘نو روڈ، نوووٹ’ اس لیے ہم جیت کر روڈ کے مسئلے کو بھی حل کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر آزاد امیدوار حاجت محمد نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہو کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی ،۔تھور میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت کے عوام نے ثابت کردیا کہ حکومت کو اب گھر جانا ہی ہوگا، حکومت کی کوشش ہے کہ مجھے صوبہ بدر کردیا جائے تاکہ آسانی سے دھاندلی کی جاسکے، اپوزیشن جماعتوں کو گلگت بلتستان کے انتخابی عمل سے باہر کرنے کی کوشش دھاندلی ہوگی، ہم کسی کو گلگت بلتستان کے عوام کے ووٹوں پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 15 نومبر تک میں گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ ہوں، حکومت مجھے صوبہ بدر کرنے کےلئے عدالتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرسکتی ہے، مجھے امید ہے ہماری عدلیہ دھاندلی کے حق میں فیصلے نہیں دے گی، سب جان لیں میں گلگت بلتستان سے کہیں نہیں جارہا، اگر گلگت بلتستان سے نکال کر مجھے صوبہ بدر کرنا ہے تو گرفتار کرنا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنائیں گے، یہاں سے ہمارا 3 نسلوں کا رشتہ ہے۔انہوںنے کہاکہ میں گلگت بلتستان کے چپے چپے میں گھوم رہا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ مجھے بی بی شہید کا مشن مکمل کرنا ہے، ہم یہاں کے عوام کو ان کا حق دیں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہاں سے ہمارا تین نسلوں کا رشتہ ہے،سی پیک کے منصوبے میں مقامی افراد کو روزگار دیا جائے گا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا گرفتار ہو جاو¿ں گا لیکن گلگت کے عوام کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جاو¿ں گا، اور الیکشن سے آو¿ٹ کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دوں گا، الیکشن کے بارے میں اپوزیشن جماعتوں کے خدشات ہیں تاہم کسی بھی صورت دھاندلی کی قوتوں کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔بلاول نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حق حاکمیت، صوبہ اور تمام حقوق لے کر رہیں گے، بلاول کو الیکشن سے الگ کر کے من پسند نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں، پیپلز پارٹی کی قیات گلگت بلتستان کے چپے چپے میں عوام سے جا کر ملی، گلگت کے عوام پیپلز پارٹی کو چاہتے رہیں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ آج بزرگ پنشن کےلئے پریشان ہیں تو ڈاکٹر اور نرس بھی سراپا احتجاج ہیں، مزدور بھی احتجاج کررہا ہے تو تاجر بھی ناخوش ہے اور کسانوں کے احتجاج پر لاٹھی چارج کر کے انہیں شہید کیا جارہا ہے، ہم نے گلگت بلتستان کے عوام کو اس ظالم و نااہل کٹھ پتلی راج سے بچانا ہے۔جلسے سے قبل ہنزہ کا روایتی لباس پہنے ننھی بچیوں نے آیا شہید بی بی کی نشانی آیا ہے بلاول چھایا ہے بلاول کے نغمہ پر ٹیبلو پیش کیااس موقع پر پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر ,ڈاکٹر نفیسہ شاہ فیصل کریم کنڈی، حسن مرتضی،ڈاکٹر کریم خواجہ، شاہین کوثر ڈار، سادیہ دانش، ہدایت اللہ خان،نایاب لغاری بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری جب ہنزہ کے شہر ناصر آباد داخل ہوئے تو کئی مقامات پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا دونو ںکناروں پر کھڑے لوگوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے ان کا استقبال کیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*