وفاقی کابینہ کی صنعتوں کیلئے توانائی سپورٹ پیکیج کی منظوری

اسلام آباد(آئی این پی)وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے صنعتوں کیلئے توانائی سپورٹ پیکیج ، گلگت بلتستان کی عدالتوں میں ججز کو پریزائیڈنگ آفیسر زکے اختیارات تفویض کرنے ،پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو) کے بورڈ آف ڈائرےکٹرز کی تنظیم نو ،جموںوکشمیر اسٹیٹ پراپرٹی بجٹ اور ٹیلی کام اپیلیٹ ٹربیونل کے قیام کی منظوری دیدی جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وباءکی دوسری لہر پر کہاکہ کورونا صورتحال کے پیش نظر احتیاط لازمی ہے مگر حکومت کاروبار کو بند نہیں کرے گی تاکہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ ملکی معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑی ہوگئی ہے،چھوٹی صنعتوں اور دیگر کاروبار کو اضافی بجلی پر یکم نومبر سے 25فیصد رعایت دی گئی ہے تاکہ معاشی سرگرمیاں مزید تیز ہوں، اپوزیشن کے بیانیے سے ملک کے اداروں اور ریاست کے مقام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، ایاز صادق سے متعلق پوسٹرز ہم نے نہیں لگائے، انہوں نے خود عوام کا غم و غصہ اپنے طرف راغب کیا ، گندم اور چینی بحران پر حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی کا کردار شرم ناک رہا،سندھ حکومت نے گندم کی زیادہ سپورٹ پرائس رکھ کر شر پھیلانے کی کوشش کی،18ویں ترمیم لانے کا بھی یہی مقصد تھا،پیپلزپارٹی جو ایک وقت میں وفاقی جماعت تھی ان لوگوں نے پیپلزپارٹی کو علاقائی جماعت بنا دیا۔ منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔کابینہ نے الیکشن اصلاحات پر تفصیلی غور کیا۔ وزیر اعظم نے ہمیشہ کی طرح اس بات پر زور دیا کہ انتخابات شفاف ہونے چاہیں۔ مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین نے کا بینہ کو آگاہ کیاکہ اس ٹاسک فورس کے 5ستمبر 2018 کے قیام کے بعد 16 اجلاس ہوئے اور 50 مشاورتی سیشنز منعقد کیے گئے۔ کابینہ نے ایس ای سی پی کے قوانین کے مطابق پوسٹل لائف انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف دائریکٹرز میں نامزدگیوں اور تبدیلیوں کی منظوری دی۔ ٹیلی کام سیکٹر سے متعلق ہائی کورٹس میں زیر التوا کیسز کو جلد نمٹانے اور ہائی کورٹس پر بوجھ کم کرنے کی خاطر کابینہ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن ) ایکٹ 1996 کے تحت ٹیلی کام اپیلیٹ ٹربیونل کے قیام کی منظوری دی۔ کابینہ نے جموںوکشمیر اسٹیٹ پراپرٹی بجٹ کی منظوری دی ۔ یہ بجٹ جموں و کشمیر حکومت کی ان شہری اور زرعی ملکیتوںسے وصول کردہ کرایہ سے بنایا جاتا ہے جو پاکستان میں موجود ہیں ۔کابینہ نے گلگت بلتستان کی عدالتوں میں سینئر سول ججز اورایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز کو پیکا 2016قانون کی دفعہ 44کے تحت پریزائیڈنگ آفیسر زکے اختیارات تفویض کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو) کے بورڈ آف ڈائرےکٹرز کی تنظیم نو کی منظوری دی اورمحترمہ فرح آغا کو بورڈ میں تعیناتی کی منظوری دی۔یہ فیصلہ حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت سرکاری کمپنیوں کے بورڈز کو خودمختار اور سیاسی اثر و رسوخ سے پاک بنایا جائے۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ 21اور 29اکتوبر2020 کو منعقدہ اجلاسوںمیںلیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی سفارشات کے بعد صنعتوں کے لیے توانائی سپورٹ پیکیج کی منظوری دی اور ٹیرف طے کرنے کے لیے معاملہ نیپرا کو بھیجنے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے کہاکہ اس پیکیج سے صنعتوں کو فروغ ملے گا ، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع میسر ہوں گے اور معیشت مزید مستحکم ہو گی۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کابینہ کو کوو یڈ وباءکی تازہ ترین صورتحال کے بارے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ کرونا صورتحال کے پیش نظر احتیاط لازمی ہے مگر حکومت کاروبار کو بند نہیں کرے گی تاکہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد پاکستان کی معیشت دنیا کی دیگر معیشتوں زیادہ متحرک ہے اور اپنے پاﺅں پر کھڑی ہوگئی ہے۔ مختلف شعبوں میں معاشی سرگرمیاں بھی ہو رہی ہیں، جس میں تعمیرات سب سے زیادہ متحرک ہے، اس کے علاوہ سیمنٹ، سریا وغیرہ کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح معیشت کے دوسرے پہلووں میں بھی بہتری آئی ہے، شرح نمو بھی مثبت ہے اور برآمد بڑھی ہیں، ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی بڑی تیزی آئی ہے یہاں تک نئے آرڈرز لینے کی گنجائش بھی نہیں ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے تھے کہ ان سرگرمیوں کو مزید سہولیات دینے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں چھوٹ دی جائے، چھوٹی صنعتوں اور دیگر کاروبار کو اضافی بجلی پر یکم نومبر سے 25فیصد رعایت دی گئی ہے، اسی طرح پیک اور اور آف پیک اور کے دونوں ٹیرف کو ایک کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آف پیک اور 7سے 11بجے کے علاوہ تھا جس میں تمام صنعتیں 7بجے تک چلتی تھیں جبکہ پیک اوورز کے ریٹ زیادہ ہوتے تھے اب اس کو ختم کردیا گیا ہے اور کوئی پیک اوور اور سلیب نہیں ہوگا، اس طرح ان صنعتوں کو بھی موقع دیا گیا کہ جو تیسری شفٹ میں بھی کام کرنا چاہتی ہیں تاکہ انہیں آسانی ہو۔انہوں نے کہا کہ بجلی میں رعایت سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کو بھی چھوٹ ملے گی، ان ساری چیزوں کا مقصد یہی ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے اور ملک میں خوش حالی ہوگی اور روزگار کے مواقع ملیں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت جو کچھ کرسکتی ہے وہ کر رہی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔سیاسی حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس وقت پی ڈی ایم کے نام سے متحرک ہے اور ایک ایسے بیانیے کو لے کر چلی جو اس ملک کے اداروں اور ریاست کے مقام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، اس اپوزیشن کو یہ واضح ہوگیا کہ ان کے پاس کوئی پتہ نہیں، آخری پتہ ایف اے ٹی ایف پر کھیلا جس میں ناکام ہوئے اور انہیں معلوم ہے حکومت پر دباﺅ ڈالنے کے لیے ان کے پاس کوئی پتہ نہیں رہا۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی ماضی میں کارکردگی سے ملک کو نقصان پہنچا اور ہمارے بہترین دماغ بیرون ملک گئے اور وہاں پر خدمات انجام دیتے ہیں، اسی طرح ملک میں میرٹ کا نظام تباہ کردیا۔انہوں نے کہا کہ ایاز صادق کہہ رہے ہیں پوسٹرز لگ گئے ہیں لیکن پوسٹرز ہم نے نہیں لگائے، خود انہوں نے عوام کا غم و غصہ اپنے طرف راغب کیا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے سال کے شروع میں کووڈ سے متعلق اقدامات پر کنفیوژن پھیلایا، اگر انکی بات مانتے تو خوانخواستہ ہمارا حال بھی ہمسائیوں جیسا ہوتا، اسی طرح گندم اور چینی کے معاملے پر حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی کا کردار شرم ناک رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے وقت پر گندم جاری نہیں کی جس کی وجہ سے طلب اور رسد میں مسئلہ پیدا ہوا اور گندم کے اس مسئلے کی ذمہ دار حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی ہے۔گندم کی سپورٹ پرائس مقرر کرنے کا اختیار صرف وفاق کے پاس ہے،سندھ حکومت نے گندم کی زیادہ سپورٹ پرائس رکھ کر شر پھیلانے کی کوشش کی۔18ویں ترمیم لانے کا بھی یہی مقصد تھا،پیپلزپارٹی جو ایک وقت میں وفاقی جماعت تھی ان لوگوں نے پیپلزپارٹی کو علاقائی جماعت بنا دیا۔چینی آتا بحران پر سندھ حکومت کا کردار شرمناک ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*