معروف اناج اور بیماریاں

سامعہ حسن
عرصہ قدیم سے اناج انسان کی غذا کا اہم ترین حصہ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مختلف شکلوں میں موجود ہیں،لیکن ان کی تمام اقسام کیمیائی ترکیب اور غذائی اہمیت کی حامل ہیں۔ بعض طبی ماہرین انھیں نشاستوں (کاربوہائیڈریٹس) سے بھرپور غذا تصور کرتے ہیں۔ اناج جسم کو وافر مقدار میں توانائی مہیا کرتے ہیں۔ سالم اناج حیاتین ب(وٹامن بی) کے تمام گروپوں پر مشتمل ہوتے ہیں،جو ہماری غذا میں اہم تصور کیے جاتے ہیں۔
اناج کے چار بنیادی حصے ہوتے ہیں،جن میں بھوسا،چوکر،گودا اور غذائیت والا حصہ شامل ہیں۔ اناج کی امتیازی خوبی ان کی چھوٹی جسامت،معمولی رطوبت اور سخت ہونا ہے۔ ذیل میں ان اناج کا ذکر کیا جا رہا ہے،جو عام طور پر زیادہ کھائے جاتے ہیں اور طبی اعتبار سے مفید اور شفا بخش ہیں۔
جو (Barley):یہ زبردست قسم کا غذائیت بخش اور جسم کی افزائش کرنے والا اناج ہے۔
یہ گندم جیسا نظر آتا ہے،لیکن ذائقے میں مختلف ہوتا ہے۔ اس میں لحمیات (پروٹینز) اور حیاتین ب مرکب (حیاتین بی کمپلیکس) کا مجموعہ پایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں کیلسیئم،فولاد،فاسفورس،ریشے، رطوبت اور نشاستے بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس سے تیار کیا جانے والا دلیا اور شوربا مرغوب پکوان تصور کیے جاتے ہیں۔ مغرب میں اسے شیرے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
نظام ہضم کی بے قاعدگیوں میں جو کا پانی مفید ثابت ہوتا ہے۔ جو کے پتلے دلیے کولسی یا لیموں کے رس کے ساتھ پینے سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔ یہ مثانے اور گردوں کی سوزش میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ جو میں بخار اور اس کی حدت دور کرنے کی تاثیر بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔
چاول (Rice):دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کی غذا کا بڑا اور اہم جزو چاول ہے۔
تقریباً ہر گھر میں ہفتے میں دو یا تین مرتبہ چاول ضرور پکائے جاتے ہیں۔ مشرق میں تو چاول کو جادو اثر اور صحت بخش غذا سمجھا جاتا ہے۔ چاول میں پایا جانے والا نشاستہ دیگر اناجوں سے مختلف ہے،کیونکہ اس میں لاپیکٹن (Lopectine)جیسا عنصر موجود ہوتا ہے،جس میں تیزی سے ہضم ہونے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اگرچہ چاول میں گندم کے برعکس لحمیات کا تناسب کم ہوتا ہے،لیکن یہ لحمیات اعلیٰ معیار کی ہوتی ہیں،کیونکہ اس میں آٹھ ضروری امینو ایسڈز پائے جاتے ہیں،جو دماغ اور اعصاب کو تقویت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بینائی پر بھی موثر اثرات مرتب کرتے ہیں۔
چاول نظام ہضم کی بے قاعدگیوں،مثلاً معدے کے زخم (السر)،غذائی نالی کی سوزش،اسہال،معدے و انتڑیوں کے سرطان اور ٹائیفائیڈ میں مثالی غذا تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ جلد کی سوزش اور گرمی و اشتعال کا خاتمہ کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے بھی چاول انتہائی مفید غذا سمجھے جاتے ہیں،کیونکہ ان میں کولیسٹرول اور نمک کے اجزاءکم ہوتے ہیں۔
گندم (Wheat):دنیا بھر میں سب سے زیادہ کھایا جانے والا اناج گندم ہے،جسے غذائیت سے بھرپور اور توانائی بخش مانا جاتا ہے۔ غذا کے طور پر گندم آٹے کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ سالم گندم کا ہر حصہ انسان کے بدن کو ضروری اجزاءفراہم کرتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے گلوٹین اور شکری مادہ(اسٹارچ)حرارت و توانائی فراہم کرتے ہیں۔
گندم میں موجود لحمیات بافتوں (ٹشوز) کی تعمیر و مرمت کا کام کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ دانتوں کے امراض،انحطاط اور درد سے نجات دلانے میں بہترین ثابت ہوتی ہیں۔ گندم کی گھاس کا رس عمدہ ماو¿تھ واش کا کام کرتا ہے۔ اس رس کی بدولت خون سے مسموم مادے کم ہو جاتے ہیں اور وریدوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ جلدی امراض میں بھی گندم کی گھاس کا رس لگانا مفید ثابت ہوتا ہے۔
مکئی (Maize):مکئی کا شمار اناجوں میں منفرد حیثیت رکھتا ہے،کیونکہ دیگر اناجوں کی نسبت مکئی میں شکر زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بہت آسانی سے ہضم ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھار اسے کھانے سے چھوٹی آنت کی صفائی ممکن ہو جاتی ہے۔ عام طور پر مکئی کو بھون کر روٹی کی صورت میں یا ا±بال کر کھایا جاتا ہے۔ مکئی انتڑیوں کو متحرک کرکے رطوبت جذب کرنے میں معاون ہوتی ہے۔ قبض میں مبتلا افراد کے لئے مکئی مفید ہے۔ اس میں حیاتین،فولاد، فاسفورس اور کیلسیئم بھی پائے جاتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*