وفاقی حکومت کا 31اکتوبر سے 6نومبر تک ہفتہ عشق رسول منانے کا اعلان

اسلام آباد ( آئی این پی)وفاقی حکومت نے جشن ولادت مصطفی کے سلسلے میں 31 اکتوبر سے 6 نومبر تک ہفتہ عشق رسول منانے کا اعلان کردیا۔ اس بات کا اعلان وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ نبی کریم کی ذات کے ساتھ ہمارے تعلق اور نسبت کو اگلی نسل تک پہنچانا یہ ان ناپاک عزائم کا انتہائی مثبت اور موثر جواب ہوگا جو فرانس اور دیگر ممالک گستاخانہ خاکوں کی شکل میں مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امورپیر نور الحق قادری نے کہاکہ اظہار شکر کے ساتھ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ جمعہ سے اگلے جمعہ تک ہفتہ عشق رسول کے عنوان سے منانے کا کابینہ نے فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ سیرت طیبہ کو اجاگر کرنے کے لئے حکومت پوری کوشش کرے گی ہفتہ عشق رسول بنانے کا مقصد فرانس اور دیگر ممالک میں ہوئی توہین رسالت پر ردعمل دینا ہے تعلیمی اداروں میں تقریری مقابلے سوالات اور سیمینار کئے جائیں گے۔ جبکہ وزارت خارجہ مذہبی امور اپنی سطح پر اقدامات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ان اقدامات کے علاوہ ہے جو وزیراعظم یا وزارت خارجہ یا سفارتی چینلز اپنے طریقے سے کریں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بذات خود تمام اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت کو ایک خط لکھیں گے جس میں اس طرح کی گستاخانہ کوششوں کو روکنے کے لیے اقدامات پر تجاویز کی گزارش کریں گے تاکہ ایک متفقہ لائحہ عمل سے آگے بڑھا جاسکے۔ وزیر اعظم سربراہان مملکت کو خطوط لکھیں گے اورکچھ سربراہان کے ساتھ وزیر اعظم فون پر بات کریں گے وزیر اعظم مشاورت کرکے مستقل حل نکالنے کی کوشش کریں گے اور پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کریں گے اور ان سے مشورہ کریں گے کس طرح اس طرح کی جسارت کو ناکام بنایا جاسکتا ہے اور فرانس میں جو کچھ ہوا اس کا کس طرح جواب ہونا چاہیے۔شیخ الازہر مصر نے مسلم قانونی ماہرین کی طرف سے کیس کرنے کی تجویز دی ہے۔ وزیر اعظم توہین رسالت روکنے کے لئے عالمی سطح پر قانون بنوانے کی جدوجہد کریں گے اسلامی ممالک سے ملکر عالمی کنونشن کی بات کی جائے گیوزیراعظم چاہتے ہیں کہ اسلامی دنیا کو قائل کیا جائے کہ ہم ایک ایسا بین الاقوامی قانون لائیں جس پر ا?زادی اظہار رائے کے حدود و قیود بیان ہوں۔ جب ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہو تو کیا وہ بھی آزادی رائے کے زمرے میں آتا ہے یا یہ کچھ اور ہے؟نورالحق قادری کے مطابق یہ تو لوگوں کے دلوں اور روح کو مجروح کرنا ہے اور اس پر بھی بین الاقوامی کنونشن کے لیے بین الاقوامی سطح پر اسلامی ممالک کے سربراہان سے بات کی جائے گی۔ امام کعبہ۔ شیخ الازہر نجف کے علمی مراکز سمیت عالمی مسلم رہنماو ں سے رابطہ کریں گے ہم ویٹی کن سٹی میں پوپ کے ساتھ بات کریں گے یورپ و امریکہ میں انصاف پسند مذہبی طبقات کو ساتھ لیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*