آرٹیکل6کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو سرعام پھانسی دی جائے، سردار اختر مینگل

sardar akhtar mengal

اسلام آباد (آئی این پی)بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ آرٹیکل6کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو سرعام پھانسی دی جائے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر قرارداد کی بجائے آرٹیکل چھ کے تحفظ کی قرارداد لانی چاہیے،کوئٹہ اور کراچی کے جلسوں میں اردو کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی۔ تمام زبانوں کو احترام کا درجہ ملنا چاہیے، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اتنا چھا جائے گا مگر آج ایوان کی کارروائی دیکھ کر یقین ہو گیا کہ پی ڈی ایم چھا گیا ہے،مزار قائد کی بے حرمتی کی ہم نے مذمت کی، کیا 70سالوں میں بابائے قوم کے خوابوں کی بے حرمتی نہیں کی گئی؟کیاقائد اعظم نے اس ملک میں مارشل لائ،ڈی ایچ اے،بلوچستان میں مسنگ پرسنز اور مسخ شدہ لاشوں کا خواب دیکھا تھا؟۔بدھ کوقومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق ہم بل لائے تھے، وہ بل ایوان کے حالات کی وجہ سے بار بار موخر ہوتا رہا، آج وہ بل ایجنڈے پر تھا مگر پیش نہیں ہوسکا،آج حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کا تقدس برقرار رہنا چاہیے کاش یہ ہمیں پہلے دن سے خیال ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر نے پی ڈی ایم کے کوئٹہ میں ہونے والے جلسے سے متعلق ایک قرار داد پیش کی،جس میں کہا گیا کہ جلسے میں ملک کو توڑنے کی باتیں کی گئیں جس کی میں وضاحت کرتا ہوں۔شاہ احمد نورانی کے فرزند پر آزاد بلوچستان کے نعرے کا الزام لگایا گیا ہے جنہوں نے پاکستان کے لئے کام کیا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قرارداد کی بجائے آرٹیکل چھ کے تحفظ کی قرارداد لانی چاہیے۔ اس قرارداد سے واضح ہوا ہے کہ حکومت تسلیم کر رہی ہے کہ ملک میں مارشل لا نافذ ہے،آزاد بلوچستان کے نعرے ہیربیار مری جو خیر بخش مری کے بیٹے ہیں‘ اکبر بگٹی کے صاحبزادے‘ ڈاکٹر اللہ نذر جیسے لوگ لگا رہے ہیں‘ جن کے والدین اس ایوان کا حصہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام زبانیں اور قبائل قابل احترام ہیں۔ کوئٹہ اور کراچی کے جلسوں میں اردو کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی۔ تمام زبانوں کو احترام کا درجہ ملنا چاہیے۔ آئین پاکستان زبانوں کی ترویج اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے تھے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اتنا چھا جائے گا مگر آج ایوان کی کارروائی دیکھ کر یقین ہو گیا کہ پی ڈی ایم چھا گیا ہے،تمام زبانیں اور قبائل ہمارے لئے قابل احترام ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آئین پاکستان کی چھوٹی شقوں کی خلاف ورزی تو یاد آتی ہے مگر جب پورے آئین کو روندا جاتا ہے تو ہمارے جذبات کہاں سوئے ہوئے ہوتے ہیں، کیا آرٹیکل 6 ہمیں آئین کے تحفظ کی گارنٹی نہیں دیتا،میرا مطالبہ ہے کہ جس نے بھی آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کی ہے چاہے وہ سویلین ہو،ملٹری یا جوڈیشری سے ہو ،اسے سرعام پھانسی دی جائے، ہم اسے سپورٹ کریں گے، چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہم یاد رکھتے ہیں مگر پورے آئین کی ہماری نظر میں کوئی عزت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا ایک خط کے ذریعے ہم آئین کو تبدیل نہیںکر سکتے ہیں، جزائر صوبوں کی ملکیت ہیں،بلوچستان اور سندھ کے جزائر کے ایک انچ پر بھی کسی دوسرے کا حق نہیں،یہ جزائر ماہی گیروں اور وہاں ہزاروں سالوں سے رہنے والے لوگوں کے ہیں،مگر آج نہ صرف جزائر پر قبضے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ بلوچستان میں زرعی زمینوں پر ڈی ایچ اے کے نام پر حکومتی تحویل میں لی جارہی ہیں۔ کہا گیا کہ مزار قائد کی بے حرمتی کی گئی، ہم نے اس کی مذمت کی، کیا 70سالوں میں بابائے قوم کے خوابوں کی بے حرمتی نہیں کی گئی؟قائد اعظم نے اس ملک میں مارشل لاءکے خواب دیکھے تھے کیا؟ کیا انہوں نے ڈی ایچ اے کے خواب دیکھے تھے؟ کیا انہوں نے دیکھا تھا کہ ہم پاپا جونز کے پیزے کھائیں گے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قائداعظم کے خواب کے مطابق ملکی اکائیوں کو ان کے برابر کے حقوق دیئے جاتے،بانی پاکستان نے یہ خواب نہیں دیکھا تھا کہ بلوچستان میں ملٹری آپریشنز کئے جائیں گے،بانی پاکستان نے یہ خواب بھی نہیں دیکھا تھا کہ بلوچستان سے ہزاروں لوگوں کو غائب کر دیا جائے گا، قائداعظم نے یہ بھی خواب نہیں دیکھا تھا کہ مسخ شدہ لاشیں ان کے ورثاءکے سامنے پھینکی جائیں گی،ہم نے مسنگ پرسنز کی فہرستیں حکومت کو دی تھیں بتائیں ان کا کیا بنا؟ اگر حکومت کچھ کرتی تو میں آج اپوزیشن میں نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ ہوتا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*