بلوچ طلباءکا احتجاج، گورنر پنجاب کو کس سے خطرہ

محمد اکرم چوہدری
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے بلوچ طلبا یونیورسٹی میں سکالر شپ اور کوٹہ ختم کیے جانے پر پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ وہ ملتان سے پیدل لاہور پہنچے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بلوچ طلباء پانچ چھ ہفتوں تک ملتان میں احتجاج کرتے رہے لیکن کسی نے بات نہیں سنی، اب یہ بھی ممکن نہیں کہ اس احتجاج کی کسی کو خبر نہ پہنچی، یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ چالیس دن کے احتجاج سے پہلے طلباء نے مناسب جگہ آواز بلند نہ کی ہو، احتجاج تو آخری راستہ ہوتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے جنون میں طلباء ملتان سے پیدل لاہور پہنچ گئے ہیں۔ اس سے زیادہ پرامن اور علم دوست احتجاج بھی شاید ہی کسی نے دیکھا سنا ہو گا۔ اس احتجاج کی خبر دیکھتے ہوئے چند ماہ قبل بلوچ رہنما عبدالقدوس بزنجو کے الفاظ یاد آتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ آپ ہمیں کہتے ہیں کہ بلوچی نہ بنیں آپ بتائیں آپ کب پاکستانی بنیں گے۔ بلوچستان کو اس کا حق نہیں ملتا، بلوچستان کے جوانوں کے پاس آگے بڑھنے کے یکساں مواقع نہیں ہیں۔ بلوچستان کو گلے سے لگائیں، بلوچستان کے لیے اپنے دروازے کھولیں۔ آج یہ احتجاج دیکھ کر نہایت دکھ ہوا ہے۔ حالات کچھ بھی ہوں کسی بھی یونیورسٹی میں تعلیم مشکل نہیں ہونی چاہیے، مہنگی نہیں ہونی چاہیے اور اپنے نوجوانوں کے لیے سستی اور آسان تعلیم کی فراہمی حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان کے موجودہ حالات اور وہاں ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے بلوچستان کے ساتھ یہ سلوک نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اتحاد پیدا کرنے اور دہائیوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لیے بلوچ نوجوانوں کو گلے سے لگانا چاہیے ان پر پنجاب کی یونیورسٹیوں کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔ پانچ چھ ہفتوں کا احتجاج اور ملتان سے پیدل لاہور کا سفر اگر حکمرانوں کا دل موم نہیں کر سکا اس سے بڑھ کر وہ پرامن رہتے ہوئے اور کیا کر سکتے ہیں۔ اس تعلیم دشمن فیصلے اور بلوچ نوجوانوں کو یونیورسٹی سے نکالنے اور انہیں ملتان سے پیدل لاہور آنے پر مجبور کرنے کے بعد ہم بلوچستان کو کیا جواب دیں گے۔ اس سے پہلے کہ اس احتجاج پر سیاست کا رنگ غالب آئے حکومت یہ مسئلہ حل کرے۔ اس تعلیم دشمن فیصلے کے دو پہلو نہایت اہم ہیں۔ یہ فیصلہ ہمیں دو طریقوں سے نقصان پہنچا سکتا ہے ایک تو بلوچستان میں پنجاب کے بارے نفرت پیدا ہو گی، دوسرا بلوچی نوجوانوں کو میں احساس محرومی پیدا ہو گی۔ ہم بلوچستان کی محرومیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان حالات میں ایسے فیصلوں سے دوریاں پیدا ہوں گی۔ آگے بڑھیں ان نوجوانوں کو گلے لگائیں، بلوچستان کا اس کا جائز حق دیں، بلوچوں کو تعلیم سے محروم نہ کریں۔
گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کہتے ہیں کہ حکومت کو صرف مہنگائی سے خطرہ ہے۔ انہوں نے کراچی واقعے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کردار کی تعریف کی ہے۔ انہی صفحات پر ہم مسلسل لکھ رہے ہیں کہ حکومت کو واحد خطرہ مہنگائی سے ہے اور حکومت اس خطرے سے نمٹنے کے لیے جس حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے اس سے ماسوائے مہنگائی میں اضافے کے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے ٹھیک نشاندہی کی ہے لیکن پنجاب میں اس حوالے سے مختلف وزارتوں کی کارکردگی پر بھی نہیں وزیراعظم عمران خان کو اعتماد میں لے کر حقیقت بیان کرنی چاہیے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اب قلت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے لیکن حکومت ابھی تک اس مسئلے کو سمجھنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ جس خطرے اور تباہی کی نشاندہی ہم گذشتہ ڈیڑھ برس سے کرتے آ رہے ہیں آج گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اس خطرے کو حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ تسلیم کیا ہے۔ بدقسمتی سے حکومت نے اس حوالے سے ماضی میں بھی کوئی کام نہیں کیا اور اب بھی سارا زور بیانات پر ہی ہے۔ مہنگائی کے بعد غذا کی قلت پیدا ہوئی تو حالات بے قابو ہو جائیں گے اور پھر قیامت کا منظر ہو گا کوئی کسی کو نہیں سنبھالے گا۔ ملک کو اس آگے سے بچانے کے لیے حکومت نے کچھ نہ کیا تو پھر کسی کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔
مہنگائی اور اشیا خوردونوش کی قلت کے حوالے سے لاہور سے نجلہ ملک نے ای میل کی ہے لکھتی ہیں کہ ”چودھری صاحب مہنگائی، اشیاء خوردونوش اور عام آدمی کے مسائل پر آپ مسلسل لکھ رہے ہیں۔ بنیادی طور یہ عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ اس حد تک سنجیدہ صورت اختیار کر گیا ہے کہ گلبرگ جیسے علاقے میں بھی آٹا نہیں مل رہا۔ اگر شہر کے دل میں یہ صورت حال ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہر کے دیگر علاقوں اور صوبے بھر میں اس حوالے سے عام آدمی کو کن مسائل کا سامنا ہو گا۔ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ آٹا اور چینی کی قیمتوں میں ناصرف مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اب ان چیزوں کی قلت بھی ہے۔ حکومت یہ مسئلہ حل نہیں کر سکی۔ آپ کے ہر دوسرے کالم میں اشیاء خوردونوش کے حوالے سے لکھا جاتا ہے ان کالموں میں سے حکومت ایک پر بھی عمل کر لے تو مہنگائی کے بے قابو جن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دھنیا، پودینہ اور سبز مرچیں بھی خریدنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دھنیا اور سبز مرچیں سبزی کے ساتھ مفت ملا کرتی تھیں اب صورتحال یہ ہے کہ بیس روپے کی تین ہری مرچیں ملتی ہیں۔ حکومت کچھ بھی کرے کھانے پینے کی اشیاءکی فراہمی کو تو یقینی بنائے۔”
گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے نزدیک بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ مہنگائی ہے لیکن اس خطرے کی کسی کو فکر نہیں ہے۔ کیونکہ حکومت وزراء کے تمام تر بیانات کے باوجود مہنگائی رکنے کا نام نہیں کے رہی۔ گذشتہ روز ہی کوئٹہ میں آٹے کی قیمت میں چار روپے فی کلو کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔ آٹے کی قیمت میں اس ریکارڈ اضافے کے بعد نانبائیوں نے تین سو بیس گرام کی روٹی کی قیمت تیس روپے کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ لاہور والوں کو مبارک ہو کہ یہاں بھی چینی مسلسل اضافے کے ساتھ سینچری مکمل کرنے کے بعد بھی ناٹ آو?ٹ ہے اور اس قیمت میں استحکام ہے جبکہ یوٹیلی اسٹورز پر بھی چینی نایاب ہو چکی ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح برقرار رہی تو حکومت یاد رکھے کہ اپوزیشن کو کچھ نہیں کرنا پڑے گا آٹا چینی حاصل کرنے کے لیے لائنیں لگیں گی، لوگ باہر نکلیں گے اور ملک دشمن عناصر اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ دہشت گرد متحرک ہو چکے ہیں نیکٹا اس حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال اور مشکل زندگی کا بہت قریبی تعلق ہے جب لوگوں کی ضروریات پوری نہیں ہوں گی تو وہ اس کے لیے کوئی بھی راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ افواجِ پاکستان کی بے پناہ قربانیوں سے ملک میں امن و امان بحال ہوا ہے۔ امن کی بحالی کے سفر میں شہداء کا خون شامل ہے ان قربانیوں کی حفاظت کے لیے عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی مہنگائی ختم کرے گی۔ وہ مہربانی فرما کر عوام کو یہ بتا دیں کہ ملک سے کرپشن کیسے ختم ہو گی، پاکستان کا پیسہ پاکستان کے لوگوں پر کیسے لگے گا، آج جن مسائل کا ملک کو سامنا ہے اس میں ان کی جماعت کا کیا کردار رہا ہے۔ ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور جو اس کے ذمہ دار ہیں وہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سڑکوں پر ہیں خود ان کی اپنی جماعت نے ملک کو مقروض کرنے اور اداروں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اگر انہیں عوام کا خیال ہے تو سندھ میں ان کی حکومت ہے وہاں رہنے والوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کر لیں انہیں کس نے روکا ہے۔ ایسے سیاسی بیانات سے تو کام نہیں چلے گا یہ واضح طور پر عوام کی توجہ تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے پاس اپنے خیالات پر عمل کرنے موقع موجود ہے اسے ضائع مت کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*