معیشت اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں بہتری، رواں ماہ ڈالر 160 روپے سے نیچے آنے کا امکان

کراچی(کامرس ڈیسک) پاکستان کی معیشت اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں بہتری ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ رواں ماہ میں ڈالر 160 روپے سے بھی نیچے آجائے گا۔صدر فاریکس ایسوی ایشن ملک بوستان کے مطابق روشن ڈیجیٹل پاکستان اکاﺅنٹ سے بڑے پیمانے پر پاکستانی ملک میں پیسے بھیج رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں ڈالر کی قیمت میں چھ روپے سے زائد کمی ہو چکی ہے۔ ستمبر میں اکاﺅنٹ نوٹیفکشن کے وقت ڈالر 168 روپے کا تھا جو کہ کم ہو کر 162 کا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہفتے میں 100 ملین یومیہ آرہے تھے جو اب بڑھ کر 300 ملین روپے یومیہ ہوگئے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل کے اعلان کے بعد بڑے پیمانے پر لوگ ڈالر فروخت کر رہے ہیں لیکن خریداری کم ہے۔ منی ایکسچینج کاﺅنٹر پر یومیہ 10 سے 12 ملین ڈالر فروخت کے لیے ہیں جو حکومت پاکستان کو دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ افغان بارڈر اس وقت سر درد بنا ہوا ہے کراس بارڈر کی وجہ سے 10 سے 15 ملین ڈالر وہاں سے نکل جاتا ہے۔ چمن بارڈر سے جانے والوں کے لیے ڈالر کی حد کو کم کیا جائے یا سال کا کوٹہ مقرر کیا جائے۔ کورونا میں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ڈالر کی فروخت بہت کم ہوگی تھی۔صدر فاریکس ایسوی ایشن نے کہا کہ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اگست کے مہینے میں ریکارڈ پونے 3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر آئیں۔ گزشتہ دو ماہ سے بھی 2 ارب ڈالر ترسیلات زر آہی ہیں۔ ترسیلات زر کی یہی رفتار رہی تو یہ 30 ارب ڈالر کو بھی کراس کر سکتے ہیں۔ملک بوستان نے کہا کہ اس وقت 90 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے 23 ارب ڈالر ترسیلات زر بھیجتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*