معا ون خصو صی صحت کا دو با رہ لا ک ڈاﺅن کا خد شہ

وزیر اعظم عمر ان خان کے معا و ن خصو صی بر ائے صحت ڈا کٹر فیصل سلطا ن نے ملک میں کو رونا و ائر س کے بتدر یج بڑ ھتے ہوئے کیسز کے باعث ایک با ر دو با رہ ملک میں لا ک ڈا ﺅن کا خد شہ ظاہر کر دیا انہو ں نے کہا کہ کو رونا وا ئر س کے کیسز اس سطح پر نہ پہنچ جا ئیں جس کے بعد ہمیں پہلے کی طرح پا بند ی لگا نی پڑ ے اگر کو رونا کیسز کی تعد اد مقر رہ حد تک پہنچی تو کہیں انڈ سٹر یز ،کا رو با ری زند گی کے مختلف شعبہ جا ت کو بند یا پا نبد ی نہ لگا نی پڑ ے۔
ملک میں ایک با ر پھر کو رونا کیسز کا دو با ر ہ بڑ ھنا با عث تشو یش ہے اگر صو رتحال مز ید خر اب ہو ئی تو ملک کو ایک با ر پھر لا ک ڈا ﺅن کا سا منا کرنا پڑ ے گا جو کہ یقینا کسی کے بھی مفا د میں نہیں ہے اس سے جہا ں دیگر معا ملا ت خر اب ہو تے ہیں وہا ں دیہا ڑ ی دا ر غر یب عو ام زیا دہ متا ثر ہو تے ہیں کیو نکہ ا ن کا کوئی مستقل ذر یعہ معا ش نہیں ہو تا وہ جو دن کو محنت مز دو ری کر تے ہیں رات کو اپنے بچو ں کا پیٹ پا لتے ہیں پچھلی مر تبہ بھی جو لا ک ڈا ﺅن لگا یا گیا تھا اس میں یہی طبقہ بہت ہی زیا دہ متا ثر ہو ا تھا ا ن میں سے اکثر کے گھر و ں میں فا قے پڑنا شر وع ہو گئے تھے لیکن لا ک ڈا ﺅن کے باعث کو روناجیسی مو ذ ی وبا ءپر کا فی حد تک قا بو پا لیا گیا تھا لیکن اب حکومت کی جا نب سے آزا دی دینے اور عو ام کی طر ف سے احتیا طی تد ابیر کو چھو ڑ دینے کے بعد ملک میں کو رونا کے کیسز دو با رہ بڑھنا شر وع ہو گئے ہیں حکومت کی جا نب سے لا ک ڈا ﺅن اور پھر سما ر ٹ لا ک ڈا ﺅن لگانے اور متعلقہ ادا رو ں اور عو ام کے تعا ون سے ملک میں ہلا کتیں بہت کم ہو ئیں جو کہ اچھی با ت ہے جبکہ دیگر مما لک میں اس مو ذ ی مر ض کی وجہ سے ہلا کتیں بہت زیا دہ ہو ئی ہیں ہما رے ہا ں حکومت ،فور سز اور محکمہ صحت کے اہلکا رو ں نے فر نٹ لا ئن پر اس مو ذ ی مر ض کا بھر پو ر مقا بلہ کیا ابھی یہ مر ض پو ری طر ح ختم نہیں ہو ا تھا کہ عید الا ضحی اور اس کے بعد محر م الحر ام میں حکومت کی جا نب سے بہت زیا دہ نر می کی گئی جس سے لو گو ں نے رش بنا دی اس کے بعد عو ام نے احتیا طی تد ابیر اور ایس او پیز پر عمل در آمد بھی چھو ڑ دیا اور اس طر ح اس مو ذی مر ض نے دو با رہ سر اٹھا نا شر وع کر دیا ہے جو کہ یقینا تشو یشنا ک با ت ہے۔
اس لیے یہا ں ضر ور ت اس امر کی ہے کہ کو رونا وا ئر س کے دو با رہ حملے کونا کا م بنا نے کیلئے ایک با ر پھر حکومتی ادا رو ں اور خصو صاً عو ام کو با ہمی تعا ون سے کا م کرنا چا ہیئے جو کہ نہا یت ہی ضروری ہے اسی صو ر ت میں اس مو ذ ی مر ض پر دو با رہ قا بو پا یا جا سکے گا ایسا کرنا بہت ہی نا گز یر ہے بصو رت دیگر اس کے خطر نا ک تنا ئج بر آمد ہو سکتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*