پہلے ہی جلسے سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، بلاول بھٹو

لالہ موسیٰ (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی، نالائق، سلیکٹڈ اور نااہل حکومت کو تسلیم کر نا پاکستانی عوام کے ساتھ ناانصافی ہو گی پہلے ہی جلسے سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، عمران خان کے ذہن میں اگر کچھ ہے تو وہ صرف پی ڈی ایم ہے، وزیر اعظم کہتے تھے احتجاج کر نے والوں کو کنٹینر ز اور کھا نا فراہم کرینگے آپ نے ہمارے راستوں میں کنٹینرز رکھ دیئے ہیں، وزیر اعظم بھوک ، بیروز گاری کو قید نہیں کر سکتے ،عوام70 سال سے جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو جواب دیں کہ پاکستان کی عوام غلام نہیں ،آزاد شہری ہیں،اگر عوام کے مینڈیٹ کو نہیں مانا گیا تو انتخابات کے دوسرے روز ہی اسلام آباد پہنچ کر احتجاج کریں گے۔ جمعرات کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے گوجرانوالہ میں ہونے والے جلسے کے لیے جاتے ہوئے لالہ موسیٰ میں پریس کانفرس کے دوران انہوںنے کہاکہ ’عمران خان کی ہر پریس کانفرنس اور تقریروں میں یہی موضوع ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کو ہراساں کیا جارہا ہے، ان پر مقدمہ بنائے جارہے ہیں اور گرفتار کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے تھے کہ احتجاج کرنے والوں کو کنٹینرز اور کھانا فراہم کریں گے، انہوں نے ہمارے راستوں میں ہی کنٹینرز رکھ دیے ہیں۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم بھوک، بیروزگاری کو قید نہیں کرسکتے اور گوجرانوالہ میں عوام کا سمندر آپ کو جواب دے گا کہ اس سلیکٹڈ کے جانے کا وقت آچکا ہے۔پیپلز پارٹی کے سربراہ نے کہاکہ عوام کو دعوت دیتے ہیں کہ پی ڈی ایم کا حصہ بنیں اور 70 سال سے جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو جواب دیں کہ پاکستان کی عوام غلام نہیں آزاد شہری ہیں۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ 2020 میں بھی غیر جمہوری کوششیں جاری ہیں، ایک جلسہ برداشت نہیں ہوتا۔گلگت بلتستان میں آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان میں پری پول دھاندلی کا آغاز کردیا گیا ہے، میں حکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ وہاں دھاندلی ہوئی اسے بالکل برداشت نہیں کریں گے۔انہوںنے کہاکہ میں خود جارہا ہوں وہاں اور ہر چیز کی خود نگرانی کریں گے اور اگر عوام کے مینڈیٹ کو نہیں مانا گیا تو انتخابات کے دوسرے روز ہی اسلام آباد پہنچ کر احتجاج کریں گے۔انہوںنے کہاکہ اگر جی بی میں دھاندلی ہوئی تو یہ سب سے بڑا قومی سلامتی کا مسئلہ ہے ۔ بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ گلگت بلتستان سی پیک کا گیٹ وے ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جاوید حسن کو نگر میں الیکشن سے پہلے اس کو نااہل قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ وہ پیپلز پارٹی کا امیدوار ہے ۔ انہوںنے کہاکہ میں خود گلگت بلتستان جاو¿نگا، اگر دھاندلی ہوئی تو گلگت بلتستان سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم 3 نسلوں سے پاکستان کی جدو جہد کر رہے ہیں، قیادت سے کارکنوں تک قربانیاں دے چکے ہیں، اب فیصلہ کرلیا ہے کہ اب ہمارے خون کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا اور جمہوریت کو بحال کرنا ہوگا اس ملک کے عوام کے مسائل حل کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ قومی اسمبلی و سینیٹ کا اجلاس طلب کرکے ملک کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ پارلیمان کو عزت نہیں دی جارہی، عمران خان صرف اس وقت تقریر کرتے ہیں جب میں وہاں موجود نہیں ہوتا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم عمران خان کو لانے والوں کے خلاف جدوجہد ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ ملک میں صاف و شفاف الیکشن ہو، فوج سرحدوں پر، عدلیہ کو ڈیمز بنانے کے بجائے عدالتوں میں ہونا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ہم پارلیمان کا احترام کرتے ہیں اور اسے گھر بھیجنا نہیں چاہتے تاہم ہم احتجاج کا طریقہ کار اپنانے پر یقین رکھتے ہیں اور اگر ہر طریقہ ناکام ہو تو ہم اس انتہائی قدم پر غور کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم عوام کا بیانیہ لے کر نکلے ہیں جس کے ساتھ ساتھ ہر جماعت کا اپنا منشور بھی ہے اور چاہتے ہیں کہ پر امن طریقے سے اس جدوجہد میں کامیاب ہوں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ امید ہے کہ عمران خان کے سہولت کاروں کو احساس ہوگا کہ جمہوریت، ملک، معاشرہ داو¿ پر لگا ہے اور اس کا حل صرف اور صرف جمہوریت ہے۔انہوںنے کہاکہ عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت کو گوجرانولہ کی سرزمین سے عوام کی آواز پہنچائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہو گی کہ اگر ہم اس کٹھ پتلی، سلیکٹڈ، نالائق اور نااہل حکومت کو تسلیم کر لیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ ہم تمام مسائل کا جمہوری طریقے سے حل چاہتے ہیں اور دھاندلی کی صورت میں احتجاج بھی ہمارا جمہوری، آئینی حق ہے جسے استعمال کر رہے ہیں۔اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ انشاءاللہ اسلام آباد جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، اس سے پہلے ہی یہ حکومت چلی جائے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*