پاک وطن کے معزز لٹیرے

سکندر خان بلوچ
چند ماہ پہلے ایک ایسا خواب دیکھا جس نے میرے ہوش اڑا دئیے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ایسی جگہ پر پھر رہا ہوں جہاں کی زمین تو جانی پہچانی ہے مگر لوگ غیر مانوس ہیں۔ان کا لباس بھی مختلف ہے اور زبان بھی۔لوگ دفاتر میں تو ہیں مگر کام کوئی بھی نہیں کررہا۔سب کام خود بخود مشینوں اور کمپیوٹر پر ہورہا ہے۔
بازار گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اکثر دوکانیں بغیر دکانداروں کے چل رہی ہیں۔ ہر چیز کی قیمت لسٹ لگی ہے جس کو جو چاہیے خود تول کر قیمت وہاں رکھ کر چلے جاتے ہیں۔ میرے لئے یہ نیا تجربہ تھا جو یقیناً میرے لئے حیران کن تھا۔ میں نے اس سسٹم سے متاثر ہو کر ایک سودا تولتے ہوئے شخص سے پوچھا کہ اس طرح لوگ بے ایمانی تو نہیں کرتے؟اس نے آگے سے پوچھا۔”بے ایمانی؟ کس قسم کی بے ایمانی؟“ یعنی سودا زیادہ لے لیں اور قیمت کم رکھیں یا بالکل ہی نہ رکھیں“۔
میرا جواب سن کر وہ زور سے ہنسا۔اس نے ادھر موجود کچھ لوگوں کو بھی میرا سوال بتایا تو سب ہنسنے لگ گئے۔میں گھبرا گیا کہ شاید مجھ سے کوئی بہت بڑی غلطی ہو گئی ہو۔ان میں سے ایک نے پوچھا :” تم کس ملک کے رہنے والے ہو؟“میں نے جھجک کر جواب دیا ”پاکستان“۔ سب نے لفظ پاکستان دوہرایا اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہاں ہے یہ ملک ؟میں نے سامنے کیلنڈر پر دیکھا یہ سن 4030تھا۔ پاکستان کے نام پر سب تعجب سے ادھر ا±دھر دیکھنے لگے۔ا±ن میں سے ایک نے کہا میں نے آج صبح ٹی وی پر پاکستان کا نام سنا ہے۔آئیں سنتے ہیں صبح کی خبریں دوبارہ۔اس نے اپنی گھڑی کا ایک بٹن دبایا تو ایک بڑی سی سکرین سامنے آگئی جس پر صبح کی خبریں شروع ہو گئیں۔پہلی خبر ہی یہ تھی :” ہمارے سائنسدانوں اور ارکیا لو جسٹس نے اپنی سائنسی تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ ہماری موجودہ زمین کسی دور میں پاکستان کہلاتی تھی لیکن پاکستانی اتنے کرپٹ ،رشوت خور ،جھوٹے ،مکار اور حاسد تھے کہ انہوں نے اپنا ملک لوٹ کر خود ہی اسے تباہ کر دیا۔پھر ان پر اللہ کا ایسا عذاب آیا کہ ان کا ملک ہی ختم ہو گیا۔ ”میرے منہ سے بے ساختہ نکلا خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ اتنی دیر میں میری جاگ ہو گئی۔میرا جسم پسینے میں شرابور تھا اور میں سخت خوفزدہ تھا۔ا±ٹھ کر دو رکعت نفل ادا کئے اور اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر وطن کی سلامتی کیلئے دعا مانگی۔واقعی انسان بڑا ظالم ہے اور گناہ کی زندگی نہ صرف اسے راس آتی ہے بلکہ ایسی زندگی پر بڑا خوش ہوتا ہے۔ اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ ایسی زندگی خود اسکی تباہی کا موجب بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے باوجود انسان گناہ کی لذت کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا۔اس لئے قرآن پاک میں بار بار ایسی زندگی ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ماضی میں جن قوموں نے ایسی زندگی اپنائی اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو تباہ کر دیا۔ ہماری بد قسمتی دیکھیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔کم سے کم15لاکھ انسانوں کی قربانی دی گئی۔مقصد یہ تھا کہ یہاں اسلام کے مطابق پاکیزہ زندگی گزار ی جائے جو جھوٹ ،منافقت ،ہیرا پھیری اور لوٹ مار سے پاک ہو۔افسران اور سیاستدان خلقِ خدا کی خدمت کریں۔نیکی برف کی طرح ہوتی ہے جو ہمیشہ سب سے بلند چوٹی سے شروع ہوتی ہے اور پھر نیچے آی ہے۔ہمارے ابتدائی لیڈر ز تو بہت نیک اور ایماندار تھے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا لوٹ مار اور کرپشن بڑھتی گئی اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ کرپشن ٹاپ سے شروع ہوئی۔ ہمارے عظیم لیڈر جناب قائد اعظم نے تو اپنے وزرا کو قومی خزانے سے چائے کا کپ تک پلانے سے انکار کر دیا تھا۔جناب لیاقت علی خان صاحب گو کرنال کے نواب تھے لیکن یہاں آکر انہوں نے کچھ حاصل نہ کیا۔ جب وہ شہید ہوئے تو غالباً ان کی جیب میں فقط سترہ روپے تھے۔ انکی بنیان پھٹی ہوئی تھی۔ بنک میں کل تین سو روپے تھے۔ آج لیاقت علی خان کی برسی ہے جبکہ مالامال سیاست دان آج گوجرانوالہ میں جلسہ کررہے ہیں جشن کا سماں ہے۔ افسوس کہ آہستہ آہستہ ہماری قیادت کرپشن میں اس حد تک ڈوبی کہ انہوں نے ملک کو ہی کنگال کر دیا۔ حالت یہ ہے کہ ہمارے سابق صدر اور سابق وزیر اعظم پاکستان کے ا?ٹھ امیر ترین آدمیوں کی لسٹ میں شامل ہیں اور غیر ممالک میں وسیع جائیدادوں کے مالک ہیں۔ اور تو اور سابق وزیر اعظم کے ”ہونہار“کھرب پتی صاحبزادے اپنے آپکو پاکستانی ماننے سے بھی انکاری ہیں تو ایساخاندان پاکستان کی خدمت کیسے کریگا۔وہ تو پاکستان صرف حکمرانی کرنے کیلئے تشریف لاتے ہیں۔پریشانی یہ ہے کہ اس اسلامی ملک میں لوٹ مار اور کرپشن تو عام ہے۔ اس کرپشن کو اب تک روکا بھی نہیں جا سکا لیکن ہماری اور ہمارے ملک کی مزید بد قسمتی یہ ہے کہ کرپٹ لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ نہ تو عدالتوں سے انہیں سزائیں ملتی ہیں اور نہ ہی ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جا سکتی ہے۔ یہ لوٹ مار عرصہ دراز سے جاری ہے۔ان کیخلاف کیسز بھی بنے ہیں۔ثبوت بھی موجود ہوتے ہیں لیکن اول تو انہیں سزا ملتی نہیں اور اگر ملتی بھی ہے تو ہفتوں بعد ضمانتیں کرا کر باہر آجاتے ہیں اور پھر چھاتی نکال کر پھرتے ہیںیا ملک سے باہر چلے جاتے ہیں جہاں ملک سے لوٹی ہوئی دولت پر عیش کرتے ہیں اور تازہ دم ہو کر نئی حکمرانی کے لئے تشریف لے آتے ہیں۔ اسوقت تک عوام ان کی کرپشن بھول چکے ہوتے ہیں۔
یہاں آکر اپنی شاندار کارکردگی اور نئے حسین وعدوں کا سنہری جال اس طرح بچھاتے ہیں کہ عوام خود بخود اس میں پھنس جاتے ہیں۔ ویسے تو ہمارے کئی سیاستدانوں پر الزامات لگے ہیں لیکن سابق صدر اور سابق وزیر اعظم اس میدان میں سب سے بڑے شاہسوار ثابت ہوئے ہیں۔ اب تک پاکستان میں کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا جو ان سے کچھ واپس لے سکے اور نہ کوئی ایسا ملکی قانون ہے جو انہیں پابند کر سکے۔اگر با لفرض کچھ عرصے کیلئے یہ جیل میں بھی چلے جائیں تو قوم کو یہ عام حالات سے بھی بھاری پڑتے ہیں کیونکہ ان کی سیکورٹی جیل میں سہولیات ، چوبیس گھنٹے اے سی، ورزش ،نوکر تو یوں قوم کا لاکھوں روپیہ ماہانہ خرچ ہو جاتا ہے۔ یہ پیسہ غریب عوام کا ٹیکس ہے با دیگر الفاظ یہ ہر حال میں قوم پر بھاری پڑتے ہیں۔ آئیں اب کچھ اس میدان کے بڑے کھلاڑیوں کی مثالیں لیتے ہیں جو اخبارات سے لی گئی ہیں۔سب سے پہلے تو قرض لینا اور پھر معاف کرا لینا۔ پاکستانی سیاستدانوں کی عام عادت بن چکی ہے۔یہ قرض انہیں آسانی سے مل بھی جاتا ہے اور معاف بھی ہوجاتا ہے۔ عوام کی نظر میں قرض معاف کرانے والے اور معاف کرنیوالے دونوں قوم کے مجرم ہیں جنہیں چوراہوں پر پھانسی ملنی چاہیے۔
ایک اخباری خبر کے مطابق 2018تک 274ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے۔ اسکے علاوہ بھی54ارب روپے کے مزیدقرضے معاف کروا ئے گئے جس پر چیف جسٹس نے بھی اعتراض اٹھایا۔ سیاستدان، افسران اور ایم این ایز نے400ارب ڈالرز سوئس بنک میں جمع کرائے۔ ذاتی کرپشن کے ریکارڈ علیٰحدہ ہیں مثلاً مشہور زمانہ ڈاکٹر عاصم صاحب 462ارب روپے ڈکار گئے۔حسین لوائی صاحب 35ارب کھا گئے۔ 27ارب کراچی کے مئیر وسیم اختر صاحب ڈکارگئے۔شرجیل میمن صاحب صرف 6ارب کھا سکے۔
اگر اپنے ایم این ایز کی تنخواہ اور سہولیات پر نظر ڈالی جائے تو ہر ایم این اے پانچ سالوں میں حکومت سے1,60,000,000 وصول کرتا ہے تو یوں 534ایم این ایز 85,440,000,000 لیتے ہیں جبکہ ان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ اسی طرح ایم پی ایز ،سینیٹرز ،ججز حضرات ،جنرلز ،وزراکرام ،وزیر اعظم اور صدر پاکستان کی تنخواہ اور مراعات تصور سے باہر ہیں۔ یہ ا±س ملک کا حال ہے جو غریب ،مفلوک الحال اور قرضے میں ڈوبا ہواہے۔60فیصد عوام دو وقت کی روٹی کیلئے ترستے ہیں مگر یہ معزز لٹیرے عیش کرتے ہیں۔ پاکستان زندہ باہ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*