مہنگائی کے کم ہونے کے متضاد دعو ے

اس وقت پا کستا ن میں مہنگائی عر وج پر پہنچ گئی ہے لیکن اس کے با و جو د تعجب کی با ت یہ ہے کہ ایک جا نب وزیر اعظم عمر ان خان دعو ی کر رہے ہیں کہ آنے والے دنو ں میں مہنگائی کم ہو جا ئے گی انہو ں نے مشکل حا لا ت میں ملکی معیشت کو بہتر ی کی جا نب لے جا نے کی بھی با ت کی ہے اور کہا ہے کہ معا شی ٹیم کی کو ششو ں سے صنعتی پہیہ چلنے لگا ہے حکومت نے پو ری تو جہ مہنگائی میں کمی اور معیشت کی بہتر ی پر مر کو ز کر دی ہے مر یم نو از نے این اے 120 کے ضمنی انتخا ب پر ڈھا ئی ار برو پے خر چ کئے تھے دوسر ی جا نب آئی ایم ایف نے اپنی ایک ر پو رٹ میں کہا ہے کہ پا کستان میں مہنگائی اور بیر و ز گا ری میں مز ید اضافہ ہو گا جی ڈی پی کی شر ح منفی سے بہتر ہو کر ایک فیصد ہونے کی تو قع کے با و جو د رو اں بر س پا کستا ن میں مہنگائی کی شر ح 10 اعشا ر یہ 2 فیصد اضا فہ ہو گا اس طرح 2021 ءمیں پا کستا ن میں بے رو ز گا ری کی شرح 4 اعشا ریہ 5 فیصد سے بڑ ھ کر 5 اعشا ر یہ ایک فیصد ہونے کا بھی خد شہ ہے۔
ملک بھر میں بڑ ھتی ہوئی مہنگائی کے با رے مذکو رہ متضا د دعو ے قا بل غو ر ہیں کیو نکہ ایک جا نب ملک کے وزیر اعظم عمر ان خان آنے والے دنو ں میں مہنگائی کم کر نے کی با ت کر رہے ہیں اور اس کے سا تھ سا تھ ملکی معیشت کی بہتر ی کی بھی با ت کی ہے اور دوسر یجا نب آئی ایم ایف نے مہنگائی اور بیر و زگا ری میںمز ید اضا فہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔
ایسی صو ر تحال میں پا کستا ن کے عو ام جو اس وقت شد ید معا شی مشکلا ت کا شکا رہیں کی پر یشا نی میں مز ید اضا فہ ہو رہا ہے ا ن کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے وزیر اعظم عمر ان خا ن جو ریا ست کے آئینی سر بر اہ ہیں بھی مہنگائی کے با ر ے میں ایسا بیا ن یا اس کا نو ٹس لے رہے ہیں جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مہنگائی کوئی اور بڑ ھا رہا ہے جس کا وزیر اعظمعمر ان خان کو بھی علم نہیں ہے وہ رو ٹین میں اس با رے ایک بیا ن جا ری کر دیتے ہیں جس میں وہ مہنگائی کی مذمت کرتے ہیں اور اس ان میں کسی اور کو ذمہ دا رٹھہر ا تے ہیں۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو اس سلسلے میں ٹھو س مو قف اختیا ر کر تے ہوئے اخبا ری بیا نا ت یا نو ٹس لینے کی بجا ئے اس پر عملی طو ر پر اقد اما ت کر نے چاہئیں جو کہ نہا یت ہی ضروری ہیں کیو نکہ اس وقت ملک میں مہنگائی اپنے عر و ج پر ہے اور جو بڑ ھتی جا ری ہے اس لیے تما م معا ملا ت کو وز یر اعظم عمر ان خان کو خو د ہینڈ ل کر تے ہو ئے اس پر عملی طو ر اقد اما ت کی متعلقہ ادا رو ں کو ہد ا یت کر نی چا ہیئے جہا ں تک آئی ایم ایف کا مہنگا ئی کے با ر ے بیا ن ہے اس پر بھی حکومت کو نو ٹس لینا چا ہیئے کیو نکہ اس سے جہا ں ایک جا نب عو ام میں مز ید پر یشا نی پھیلنے کا امکا ن ہے جبکہ دوسر ی جا نب یہ آئی ایم ایف کی جا نب پا کستان کے اند رو نی معا ملا ت میں مد ا خلت کے متر ادف اقد ام ہے اس کو ایسے بیا نا ت سے گر یز کر نا چا ہیئے اور اس با ر ے اپنی پا لیسی کو پا کستان پر مسلط نہیں کر نی چا ہیئے بلکہ وزیر اعظم عمر ان خان کو بھی اس سلسلے میں آئی ایم ایف کو ایسے بیا نا ت جا ری کرنے سے رو کنا چا ہیئے اس کےپا کستان کے سا تھ جو معا ملا ت ہیں وہ اپنی جگہ لیکن ایسے بیا نا ت یہا ں کے عو ام کو مز ید پریشا ن کر رہے ہیں اس لیے اس کو ایسا کرنے سے گر یز کرنا چا ہیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*