بہتری کا راستہ ہمیشہ آسان راستہ نہیں ہوتا،عمران خان

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوو¿ں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے مگریہ تباہی کا راستہ ہے،جب آپ کے ملک سے ڈالر زیادہ بڑی تعداد میں باہر جا رہے ہوں اور ملک میں کم ڈالرز آ رہے ہوں تو ملک کبھی خوشحال نہیں ہو سکتا، جس ملک میں تجارتی خسارہ 40ارب ڈالر ہو تو اس سے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر پڑے گا،ہماری ابھی تک وہی سوشلز کی سوچ ہے جس میں منافع کمانے کو جرم تصور کیا جاتا ہے، اگر سرمایہ کاری نہیں ہو گی تو ملک آگے کیسے بڑھے گا،اگر ہم اپنا ماحول ٹھیک کر لیں تو سب سے زیادہ اوورسیز پاکستانی ملک کو فائدہ پہنچائیں گے،مقامی سطح پرکارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے۔جمعہ کو وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)میں این اوویٹیو ہیلتھ ٹیکنالوجی کا افتتاح کر دیا ہے جس کے ساتھ ہی نسٹ سائنس پارک میں کارڈیک اسٹنٹ کی تیاری کا آغاز ہو گیا ہے۔یہ ملک میں پہلی سہولت ہے جوامراض قلب کے مریضوں کے لیے معیاری اسٹنٹس تیار کرے گی، اس موقع پر وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور ڈائریکٹر نسٹ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نوید زمان بھی موجود تھے۔اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ) سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران نے کہا کہ میں اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ دسمبر میں میرے آنے کے بعد سے اب تک نسٹ نے بہت اہم اور بنیادی چیز پیدا کی۔انہوںنے کہاکہ دنیا اور پاکستان میں سب سے زیادہ لوگ امراض قلب سے مرتے ہیں اور بدقسمتی سے یہ بہت مہنگا علاج ہے تو جو آپ نے مقامی سطح پر اسٹنٹس تیار کیے ہیں جس میں قیمتوں میں بہت بڑا فرق ہے جس نے ہمارا غیرملکی زرمبادلہ بچایا اور ہمیں زیادہ سے زیادہ غریب مریضوں کے علاج کا موقع دیا جو خوش آئند چیز ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ سوچ ہے، تبدیلی پہلے ذہن میں آتی ہے پھر زمین پر آتی ہے، میں نے گزشتہ دو سالوں میں ہمارا مائنڈ سیٹ دیکھا ہے اور ہماری حکومت جس طرح کام کرتی ہے اس میں کسی طرح کا کنکشن نہیں ہے پاکستان نے جانا کس طرف ہے، حکومت کا کیا کردار ہے، حکومتی اداروں کے آپس میں کیا رابطے ہونے چاہئیں، یہ سب فریکچر ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جو قوم اپنا ویژن طے کرتی ہے کہ ہمیں جانا کہاں ہے وہ ویڑن ہی دھندلا ہو چکا ہے، وہ واضح نہیں ہے اور جب وہ واضح نہ ہو تو حکومت کے اداروں کو بھی میں بھی یہ وضاحت نہیں رہتی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ کبھی بھی کوئی ملک آگے بڑھ ہی نہیں سکتا جس کی درآمدات برآمدات سے زیادہ ہوں، جب دو سال قبل ہم نے حکومت سنبھالی تو 60ارب ڈالر کی درآمدات تھیں اور 20ارب ڈالر برآمدات تھیں اور وہ بھی 25ارب ڈالر سے ہو کر آئی تھی یعنی پہلے سے کم ہو گئی، ایسے دنیا میں کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ جب آپ کے ملک سے ڈالر زیادہ بڑی تعداد میں باہر جا رہے ہوں اور ملک میں کم ڈالرز آ رہے ہوں تو ملک کبھی خوشحال نہیں ہو سکتا، ہر تھوڑی دیر بعد ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ڈالر کی کمی ہو جاتی ہے، ہمارے ذخائر ختم ہو جاتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جس ملک میں تجارتی خسارہ 40ارب ڈالر ہو تو اس سے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر پڑے گا، جب ذخائر کم ہوں گے تو روپیہ گرنا شروع ہو جائے گا اور روپیہ گرے گا تو مہنگائی آئے گی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ چین کی ترقی اس لیے ہوئی کیونکہ چینی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اپنی برآمدات کو ترجیح دینی ہے، وہ جیسے جیسے اپنی ایکسورٹ بڑھاتے گئے، ان کی دولت بڑھتی گئی، پوری حکومت کا کام برآمدات بڑھانا تھا تاکہ ملک میں زیادہ ڈالرز لا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ترکی میں جب وزیر اعظم طیب اردوان آئے تو ترکی کا بالکل ہمارے جیسا حال تھا، وہاں بھی انہیں ہر تھوڑی دیر کے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا تھا، ان کی جمہوریت میں خلل پڑتا رہتا تھا تو ترکی میں تبدیل لانے والے اردوان نے باقاعدہ منصوبہ بناتے ہوئے اپنی برآمدات بڑھائیں لیکن ہم نے کبھی کسی سے یہ نہیں سنا۔وزیراعظم نے کہاکہ 60 کی دہائی میں پاکستان درست سمت میں گامزن تھا، انڈسٹرلائزیشن کی جانب جا رہا تھا تاہم 70 کی دہائی میں مختلف سوچ آ گئی، نیشنلائزیشن آ گئی، پاکستان پر جمود طاری کردیا اور آج تک پاکستان اس سوچ سے نہیں نکل سکا۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بہت اچھا قدم ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے اسٹنٹس بنائیں گے، دنیا میں بہت کم ملک ایسے ہیں جو خود اسٹنٹس بنا رہے ہیں، جو ملک جوہری ٹیکنالوجی تیار کر سکے اس کے لیے تو بہت سی چیزیں آسان ہونی چاہیے تھیں۔انہوں نے کہا کہ سنگاپور ایک چھوٹا ملک ہے جس کی 300ارب ڈالر کی برآمدات ہیں اور ہمارے 22کروڑ لوگوں کے ملک کی 25ارب ڈالر کی برآمدات ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم غلط سمت میں گامزن ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری ابھی تک وہی سوشلز کی سوچ ہے جس میں منافع کمانے کو جرم تصور کیا جاتا ہے، اگر سرمایہ کاری نہیں ہو گی تو ملک آگے کیسے بڑھے گا۔عمران خان نے کہا کہ ہم مائنڈ سیٹ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملک میں سرمایہ کاری ہو، کاروبار چلے، پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں، وہ سب سے محب وطن پاکستانی ہے، جب وہ باہر کے معاشرے میں رہتا ہے تو اسے اپنے ملک کی زیادہ قدر ہو جاتی ہے اور اب اسلاموفوبیو کی وجہ سے پاکستان کی اور زیادہ قدر ہے، اگر ہم اپنا ماحول ٹھیک کر لیں تو سب سے زیادہ اوورسیز پاکستانی ملک کو فائدہ پہنچائیں گے۔انہوںنے کہاکہ جب تک ہم ڈالر نہیں بچائیں گے اور ہمارے پاس اضافی ڈالر نہیں ہوں گے، اس وقت تک ہمیں ہر تیسرے سال آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑےگا کیونکہ ہماری تجارت اور کرنٹ اکاو¿نٹ میں توازن نہیں ہو گا۔انہوںنے کہاکہ جب آپ جدوجہد کرتے ہیں تو آپ کے سامنے دو راستے آتے ہیں، ایک آسان راستہ اور ایک مشکل راستہ ہوتا ہے، وہی آپ کی کامیابی اور ناکامی کا راستہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی چیزیں جنہیں آپ اچھا سمجھتے ہیں وہ بری ہیں اور کئی چیزیں جنہیں آپ برا سمجھتے ہیں وہ آپ کےلئے اچھی ہیں جبک ہمارے پاس ہمیشہ آسان راستہ چننے کا اختیار ہوتا ہے کہ کون سارا وقت جدوجہد کرے۔انہوں نے کہا کہ سارے ڈاکو اکٹھے ہو کر کبھی کچھ کریں گے تو کبھی کچھ، ہمارے پاس بھی آپشن ہے کہ آسان راستہ لے لو، سمجھوتہ کر لو، انہیں معاف کردو، این آر او دے دو، آسان راستہ، زندگی آسان ہو جائے گی، آرام سے ہم بھی پارلیمنٹ میں تقریریں کریں گے اور تین چار سال گزر جائیں گے لیکن یہ تباہی کا راستہ ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ یاد رکھیں کہ جو آپ کی بہتری کا راستہ ہے وہ ہمیشہ آسان راستہ نہیں ہوتا، اس میں بڑے اور مشکل فیصلے کرنے پرتے ہیں اور وہی مشکل فیصلے آپ کو اوپر لے کر جاتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*