اپوزیشن کا دوہرا معیار اور منافقت نہیں چلے گی،سینیٹر شبلی فراز

Shibli Faraz

اسلام آباد(آئی ا ین پی ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا دوہرا معیار اور منافقت نہیں چلے گی، مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی فیملی لمیٹڈ کمپنیاں ہیں، ان کے موسمی نظریاتی پن سے قوم واقف ہے، ان کا مفاد مہنگائی میں کمی اور قوم کی بھلائی نہیں اپنی کرپشن چھپانا ہے، معیشت اور اداروں کو تباہ کرنے والے، ملک کو لوٹنے والے، پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنے والے اب جمہوریت کے چیمپئن بن گئے ہیںِِ، ماضی میں ایک دوسرے پر چور چور کہنے والوں کو پنجاب حکومت رومال بھی دے تاکہ وہ اپنے چہرے چھپا سکیں، گوجرانوالہ سٹیڈیم بھرنے کے لئے انہوں نے آدھے سٹیڈیم پر سٹیج بنا دیا ہے، اپنے دور میں انہوں نے ووٹ کی عزت کا نہیں نوٹ کی عزت کا خیال کیا، ہم نے ملک کو چوروں کے چنگل سے نکالنا ہے، مولانا فضل الرحمن کا بیٹا جیت جائے تو ٹھیک ہے، خود ہار جائیں تو الیکشن غلط ہے، ۔پیر کو ایوان بالا میں پالیسی بیان دیتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کل ہماری بہادر افواج کے اہلکار شہید ہوئے ہیں، انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، 19 سال کی ایک روایتی جنگ سے کس طرح کامیابی کے ساتھ نبرد آزما ہوئے ہیں اور یہ سفر ابھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہائبرڈ وار جاری ہے اور اس کا بنیادی مقصد بے یقینی اور مایوسی پھیلانا ہے، یہ مایوسی اور بے یقینی ہمارے کے ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور یہ جنگ سرحدوں کی محتاج نہیں ہے، اس لئے اس جنگ سے لڑنے کے لئے ہمیں بحیثیت مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ شبلی فراز نے کہا کہ ایوان بالا میں اپوزیشن ارکان کی تقاریر میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ جیسے اس ملک میں کبھی ان کی حکمرانی نہیں رہی حالانکہ یہ پچھلے چالیس سے پچاس سال تک اس ملک میں حکومت کرتے رہے ہیں، یہ وہ پارٹیاں ہیں جنہوں نے ملک میں جمہوریت کی تشریح اپنے مفاد کے مطابق کی ہے، انہیں دو تہائی اکثریت بھی ملی اس وقت عوام کے فائدے کے لئے فائدے کے لئے ترامیم کرنے اور اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے 15 ویں ترمیم کے ذریعے اپنے آپ کو امیر المومنین بنانے کا پلان بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سوچ ہی جمہوری نہیں ہے، ان کی سوچ آمرانہ ہے، یہ دو خاندانوں کی پبلک لمیٹڈ کمپنیوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن جب ان کی پارٹنرشپ عمران خان نے اپنی 22 سالہ جدوجہد کے ذریعے توڑی تو انہیں ملک کے مفاد، جمہوریت اور ووٹ کی عزت کا بھی خیال آ گیا ہے لیکن اپنے دور حکومت میں انہوں نے ووٹ کی عزت کا نہیں نوٹ کی عزت کا خیال کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے منظم انداز میں اداروں کو تباہ کیا اور اپنے اپنے لوگوں کو وہاں بٹھایا تاکہ وہ ان کے سہولت کار بن سکیں، آج یہ واویلا کر رہے ہیں کہ معیشت کو کیا ہو گیا ہے، یہ وہی ملک ہے جس میں مختلف ادوار میں آپ کی حکومتیں رہی ہیں، آپ نے ملک کو غریب ہوتے ہوئے دیکھا، اداروں کو تباہ ہوتے دیکھا لیکن آپ کے اثاثے بڑھتے رہے، آپ نے پارلیمنٹ کو استعمال کیا، پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا، آج یہ لوگ جمہوریت کے چیمپئن اور نظریاتی بن گئے ہیں۔ انہوں کہا کہ ان کے موسمی نظریاتی پن سے قوم واقف ہے، پی ڈی ایم کے بینر تلے یہ آج جو اکٹھے ہوئے ہیں اس کا مقصد قوم کی بھلائی اور مہنگائی میں کمی نہیں ہے، ان کا مقصد یہ ہے کہ پھر اسی دور کو واپس لائیں جس نے اس ملک کو کہیں کا نہیں چھوڑا، اداروں اور معیشت کو تباہ کیا، یہ اپنی کرپشن چھپانے کے لئے آج اکٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ان کی سہولت کے لئے سینیٹی ٹائزر اور ماسک بھی فراہم کئے ہیں، میری پنجاب حکومت سے درخواست ہے کہ وہ رومال بھی انہیں فراہم کریں تاکہ یہ اپنے چہرے بھی چھپا سکیں کیونکہ یہ ماضی میں ایک دوسرے کو چور چور کہتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں سٹیڈیم بھرنے کا چیلنج دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ آپ نہیں کر سکیں گے لیکن آدھے سٹیڈیم میں سٹیج بنا کر اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ آج ایک ایماندار وزیراعظم کے خلاف تمام کرپٹ سیاستدان اکٹھے ہو گئے ہیں تاہم یہ عمران خان کی ثابت قدمی کو متزلزل نہیں کر سکتے کیونکہ ہم جس مشن پر نکلے ہیں ملک کو چوروں کے چنگل سے نکالنا ہے جنہوں نے اس ملک کی معیشت، اداروں اور اخلاق کو تباہ کیا ہے۔ یہ لوگ اب منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں ہیں، یہ ملک میں مہنگائی کا گلہ کرتے ہیں لیکن یہ انہی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، 40، 50 سال میں آپ نے اداروں کو تباہ کیا اور توقع رکھتے ہیں کہ ہم دو سال میں انہیں ٹھیک کر دیں گے تاہم اپنے اداروں کو اپنے مقام پر کھڑا کریں گے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی ہے تاہم اگلے دو چار ہفتوں میں صورتحال میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومت پر دبا ڈالا، نیب قانون کے لئے 34 ترامیم لے کر آئے جن کے تحت کرپشن کی تشریح اپنے لحاظ سے کرنا چاہتے تھے، ایسا ہونے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو دلاتے ہیں کہ اچھا وقت آنے والا ہے، یہ فیملی لمیٹڈ کمپنیاں جو اکٹھی ہوئی ہیں یہ صرف دو خاندانوں کے لئے کر رہے ہیں، سعد رفیق جیسے لوگوں کے لئے یہ نہیں کر رہے، یہ شاہی خاندان سمجھتے ہیں کہ اقتدار ان کا حق ہے اور اگر وہ الیکشن ہار جائیں تو واویلا شروع کر دیںکہ الیکشن ٹھیک نہیں ہوا، الیکشن کمیشن سے یہ اعداد و شمار حاصل کریں کہ انہوں نے کتنی پٹیشن دائر کیں اور پی ٹی آئی نے کتنی کی ہیں، ہم نے 16 سیٹیں 50 سے 2500 کے ووٹوں کے فرق سے ہاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے تو صدر کا الیکشن بھی لڑا، بیٹا الیکشن جیت جائے تو ٹھیک ہے، خود ہار جائیں تو ٹھیک نہیں ہے، یہ دوہرا معیار ہے، جب معاملات ان کی مرضی کے مطابق ہوں تو ٹھیک ہیں اور مرضی کے خلاف ہوں تو ٹھیک نہیں ہوتے، فیصلہ ان کے حق میں آئے تو عدالتیں ٹھیک ہیں، فیصلہ ان کے خلاف آئے تو یہ کہتے ہیں کہ عدالتیں ٹھیک کام نہیں کر رہیں، ایسا دوہرا معیار اور منافقت نہیں چلے گی، آنے والے دنوں میں ملک ترقی کی راستے پر گامزن رہے گا، آدھے سٹیڈیم کو سٹیج بنانے والوں نے اپنے آپ کو بے نقاب کر دیا ہے، یہ ناکام ہوں گے اور کبھی دوبارہ واپس نہیں آ سکیں گے، ان کی سیاست ختم ہو چکی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*