پولیس اصلاحات۔۔۔۔۔

چودھری عبد الغفور خان
کائنات اپنی ارتقائی مراحل سے گزر کر شاید اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے۔ مختلف زمانوں میں کارو بارِ زندگی چلانے کیلئے انسان مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اصلاحات کے کبھی فطری کبھی قانونی اور کبھی آئینی عمل سے گزر تا رہا ہے اور انسانی ضروریات ایجاد کی ماں کا رول ادا کرتی رہی ہیں۔ کسی بھی معاشرے کو اپنی اخلاقی ، قانونی اور آئینی حدود میں رکھنے کیلئے مختلف ادوار میں ذمہ دارانِ وقت نے اپنی بہترین حکمتِ عملی کے ساتھ انسان کو اپنی حدود میں رکھنے کیلئے مختلف فورسز بنائیں تاکہ انسانیت کے اوپر حیوانیت کا غلبہ آنے کی صور ت میں اسے روکا جا سکے اور کاروبار ِ مملکت کو چلایا جا سکے۔ ان تمام فورسز میں پولیس فورس کا ہر معاشرے میں اہم رول رہا ہے۔ کسی بھی سسٹم کو چلانے کیلئے پولیس فورس اندورنِ ملک میں امن و امان کو قائم رکھنے کیلئے اپنی رول ادا کرتی رہی ہے۔ میں اس بات کا چشم دید گواہ بھی ہوں کہ حاکمِ وقت اس فورس کو اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کیلئے بھی استعمال کر کے بذاتِ خود اپنی اور پولیس فورس کی بدنامی کا باعث بنے ہیںاور بعض اوقات پولیس سٹیٹ کا تاثر جنم لیتے لیتے اسی فورس نے اپنا خون دہشت گردی کی جنگ میں ملک و قوم کی نذر کر کے اپنے کردار کی حفاظت کی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ موجوددہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اہم فورس میں بہترین اصلاحات کے ذریعے اہم تبدیلیاں لائی جائیں۔ امریکن آرمی سے ملتے جلتے کپڑے کی یونیفارم والا مذاق نہیں ہونا چاہیے۔ میری نظر میں ہمارے ملک کے موسم کو دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ شاید اس فورس کو سزا دی گئی ہے۔ میں ہمیشہ دیکھتا رہا ہوں کہ ہر صوبہ پولیس یونیفارم کیلیے ایک بڑا بجٹ دیتا ہے اور شاید اس دفعہ پنجاب پولیس کیلئے 96 کروڑ کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ میں نے کم از کم 90فیصد پولیس والوں کو محکمے کی طرف سے دی گئی وردی پہنتے نہیں دیکھا ا س کا فائدہ شاید وردی بنانے اور بنوانے والوں کو زیادہ ہوتا ہے اور قومی خزانے کو بہت سالوں سے مسلسل نقصان ہوتا آرہا ہے اور اگر وزیر اعلیٰ کو فرصت ہو تو اس پر ضرور غور فرمائیں اور یہی رقم سپاہ کو وردی کیلئے تقسیم کر دی جائے تو مناسب ہوگا۔ پولیس کی بہت سی ضروریات اور مشکلات ہیں۔24 گھنٹے ڈیوٹی سب سے بڑا عذاب ہے۔
تھانوں میں پوری نفری نہ ہونا، تھانوں میں جوانوں کیلئے باقاعدہ لنگر خانہ ، واش روم، دھوبی ، حجام وغیرہ کا نہ ہونا کسی بھی انسان کا اخلاق بگاڑنے کیلئے کافی ہے۔ پولیس سسٹم کے اندر ہمیشہ لیکج دھوبی، حجام اور چھوٹے چھوٹے ہوٹلز پر ملازموں کو سہولتیں دینے سے ہوتی ہے۔ اکثر تھانوں کی گاڑیاں دھکا سٹارٹ یا خراب ہوتی ہیں۔ ا?فیسرز کی طرف سے ساری رات گشت کرنے کا حکم بغیر پیٹرول گاڑی چلانے کی صورت میں ملتا ہے۔ پولیس کی اپنی ورکشاپس میں پیسے دے کر گاڑی ٹھیک کروائی جاتی ہے بالکل جیسے چالان پاس کروانے کیلئے بھی پولیس والے اپنے پیٹی بھائیوں سے رشوت طلب کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی چوکی یا تھانے کی گاڑی خراب ہو تو کئی چوہدریوں کے ڈیروں پر پولیس والوں کو جاتے دیکھا ہے جو بالکل روٹین ہے۔ کوئی SHOٰ چوکی انچارج اپنی تنخواہ سے تیل نہیں ڈلوا سکتا جتنا تیل ملتا ہے وہ تھانے تک ختم ہو جاتا ہے۔
جب سٹیشنری تک پولیس والوں کو اپنی جیب سے لینی پڑے تو ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ان کی مجبوری کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ میں نے مجبوری میں پولیس والوں کو چھوٹی چھوٹی رشوت لیتے دیکھا ہے جو صرف زندہ رہنے کیلئے اور کبھی کبھی اپنے بچوں کے جوتے کتابیں ، سکول یونیفارم اور سکول کی فیس دینے کیلئے لی جاتی ہے اور اگر شکایت ہو جائے تو میں نے انہی ملازمین کو نوکری سے برخاست ہوتے بھی دیکھا ہے۔ جو کالی بھیڑیں اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کیلئے انسانیت کا خون پیتی ہیں وہ ناقابل معافی ہیں۔ سب سے بڑا جرم پولیس کے اندر سیاسی مداخلت ہے پولیس آفیسرز کو چاہیے کہ اپنی سپاہ کیلئے اپنے دروازے کھول دیں اور ٹرانسفر پوسٹنگز کیلئے اپنے ملازموں کو کسی سیاسی ڈیرے پر نہ جانے دیں۔ حکومتِ وقت فوری طور پر اقدامات کرے اور پولیس فورس کوفوری طورپر سڑکوں پر چلنے کے قابل گاڑیاں فراہم کریں تاکہ وہ کرائمز کا خاتمہ کر کے اپنا رول ادا کر سکیں۔
پولیس فورس ایک ڈسپلنڈ فورس ہے اس میں سیاسی مداخلت ہر صورت بند ہونی چاہیے اگر لاء اینڈ آرڈر یا کرائمز کنٹرول میں مسئلہ ہے تو ضرور پولیس چیف سے باز پ±رس ہونی چاہیے۔ جو آفیسر چین آف کمان توڑے اسے سخت سزا ملنی چاہیے ایسی سزا جو دوسروں کیلئے باعث عبرت ہو پولیس فورس کی ضروریات کو فوری پورا کر کے انھیں بہترین مثالی فورس بننے کا موقع فراہم کریں۔ کارکردگی کی بنیاد پر ترقی اور تنزلی ہونی چاہیے۔ ہر تھانے کے علاقہ مجسٹریٹ /جوڈیشل مجسٹریٹ کو تھانے کی حدود میں ہونا چاہیے تاکہ پولیس کا ٹائم بچایا جا سکے۔ ہر اسسٹنٹ کمشنر اپنے حلقے میں بیٹھے اور پولیس انتظامیہ کا آپس میں عوام کو سہولتیں دینے کیلئے قریبی رابطہ ضروری ہے۔پولیس فورس کی فیملی کو مد نظر رکھتے ہوئے انکے راشن کارڈز بننے چاہئیں اور انھیں کنٹرول ریٹ پر ضروریات زندگی دستیاب ہونی چاہئیں تاکہ فکرِ معاش سے نکل کر پوری توجہ اپنے کام پر دے سکیں۔ ہر پرائیوٹ اور سرکاری اسکول میں سیٹیں مختص ہوں تاکہ ان کو بچوں کی تعلیم سے متعلق فکر نہ ہو۔
قانون عوام کو سہولت دینے کیلئے ہے اسلئے سستا انصاف فراہم کرنے اور عوام کو سہولتیں دینے کیلئے لوگوں کیلئے آسانی پیدا فرمائیں۔ پولیس اور عوام کے درمیان رابطہ بڑھانا وقت کی ضرورت ہے اب وقت آگیا ہے کہ پولیس ٹاﺅٹوں کا داخلہ بند اور عوام کیلئے تھانے کچہریوں کے دروازے کھول دینے چاہئیں۔ اگرہم یہ چھوٹی چھوٹی اصلاحات لانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر دیکھیں ایک بڑی تبدیلی ا?پکے دروازوں پر دستک دے گی۔ اگر ہم سب حکمِ خدا وندی کے مطابق پیار ، محبت، رواداری سیکھ لیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہیں ہرا سکتی۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*