مصباح الحق کاچیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑ نے کا اعلان

لاہور(سپورٹس ڈیسک)مصباح الحق نے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں پر مزید توجہ دینے کے لیے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ مصباح الحق 30 نومبر تک اس عہدے پر کام جاری رکھیں گے کیونکہ نئے چیف سلیکٹر یکم دسمبر سے اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔مصباح الحق 19 اکتوبر کو زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کااعلان کرنے کے ساتھ ساتھ دورہ نیوزی لینڈ کے لیے قومی اسکواڈ کا انتخاب بھی کریں گے۔اسی طرح نئے چیف سلیکٹر کی پہلی اسائنمنٹ جنوبی افریقہ کے خلاف 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل ہوم سیریز کے لیےقومی کرکٹ ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا۔مصباح الحق نے پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کو گزشتہ ہفتے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے دوران اسلام آباد میں اپنے فیصلے سے متعلق آگاہ کردیا تھا۔مصباح الحق نے کہا کہ انہوں نے دونوں عہدوں کی ذمہ داری کو خوب انجوائے کیا تاہم گزشتہ 12 ماہ کاجائزہ لینے اور آئندہ 24 ماہ میں متوقع ورک لوڈ کو دیکھتے ہوئے وہ یہی مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور توجہ اب صرف ایک عہدے پر ہی خرچ کریں۔انہوں نے کہا کہ کوچنگ ان کا جنون ہے اور ان کا حقیقی مقصد بھی کھلاڑیوں کی ترقی اور ٹیم کی کامیابیوں میں اپنا حصہ ڈالنا ہے، گزشتہ سال تقرری کے وقت مجھے پہلے کوچنگ اور بعد میں سلیکشن کمیٹی کی سربراہی کا عہدہ دیا گیا، جسے احسن انداز میں نبھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔مصباح الحق نے کہا کہ وہ پی سی بی کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے میرے نظریے اور سوچ کی حمایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ گزشتہ چند عرصے سے دو عہدوں سے متعلق غوروفکر کررہے تھے، نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر اور کرکٹ ایسوسی ایشنز کے کوچز کے ساتھ گزشتہ دو ہفتوں میں کی گئی ملاقاتوں کے سلسلے نے بھی اس میں میری بہت رہنمائی کی، یقین ہے کہ اب ہمارے پاس ایک مضبوط نظام موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک چیف سلیکٹر کو پوری طرح کرکٹ ایسوسی ایشنز کی ٹیموں کے درمیان جاری مقابلوں کا جائزہ لینا ہوگا جبکہ آئندہ 24 ماہ میں ہمیں بھی بہت کرکٹ کھیلنی ہے، لہٰذا باہمی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ میں ایک عہدہ سنبھالوں اور اسی پر مکمل توجہ دوں۔مصباح الحق نے کہا کہ وہ نئے چیف سلیکٹر کی آمد اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔پریس کانفرنس میں مصباح الحق کا کہنا تھا کہ زیادہ تر بیرون ملک ہونے کی وجہ سے دوہری ذمہ داری مشکل ہوتی ہے اس لئے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*