سی پیک میں بلوچستا ن بارے منصو بوں کی تکمیل

تر جما ن حکومت بلوچستان لیا قت شا ہو انی نے اپنے ایک بیان میں سا بق وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخو ا اور اے این پی کے رہنما امیر حید رخان ہو تی کے بلوچستان سے متعلق سی پیک کے بیان کو حقا ئق کے منا فی قر ار دیتے ہوئے وا ضح کیا ہے کہ مو جو دہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کی قیا دت میں سی پیک میں شا مل بلوچستان کے تر قیا تی،تو انائی انفر ا سٹر کچر اشو ا کنا مک کے دیگر اہم منصو بوں کو عملی جا مہ پہنا رہی ہے جس کی نظیر گذ شتہ دو ر میں نہیں ملتی مو جو دہ حکومت سی پیک میں بلوچستان سے متعلق تمام منصو بوں کی تکمیل کو یقینی بنا ئے گی جس کو ما ضی میں نظر اند از کیا گیا 132 کے وی ٹر ا نسمیشن لائن ،مکر ان کا قو می گرڈ سیشن سے منسلک کرنا ،ژو ب کچلا ک 50-N رو ڈ کی اپ گر یڈ یشن ،خضدار بسیمہ رو ڈ کے منصو بوں پر فز یکل ور ک کا آغا ز کر دیا گیا ہے۔
سی پیک میں بلوچستان سے متعلق تما م منصو بوں کی تکمیل کو یقینی بنا نے کے حوالے سے تر جما ن حکومت بلوچستان لیا قت شا ہو انی کا مذکو رہ بیان قا بل تعر یف ہے کیو نکہ اس سلسلے میں اپو ز یشن اور دیگر حلقو ں کو تشو یش اور اس پر تحفظا ت ہیں ان کی نظر میں سی پیک میں بلوچستان کو منصو بوں کو انظر اند از کر دیا گیا ہے اس وجہ سے یہا ں کے عوا م میں تشو یش کی لہر دو ڑ گئی ہے جبکہ سی پیک کا آغا ز بلوچستان کے شہر گو ادر سے ہو اہے تو پھر اس کا بھر پو ر فا ئد ہ بھی یہا ں کے عو ام کو پہنچنا چا ہیئے جو کہ ان کا حق ہے لیکن پچھلی حکومتو ں میں کچھ ایسا تا ثر دیا گیا جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ شا ہد سی پیک میں بلوچستان کے منصوبوں کو نظر اند از کیا جا رہا ہے اس سے یہاں کے عو ام میں شد ید تحفظا ت پید ا ہوئے جو کہ یقینا ان کا حق ہے جس صو بے سے سی پیک کا آغا ز کیا جائے اس کو اور اس کے عو ام کو اس کا فا ئد ہ نہ ہو تو تشو یش کا ہونا قد ر تی با ت ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کی قیا دت میں قا ئم صو بائی مخلو ط حکومت کو اس سلسلے میں ٹھو س مو قف اپنا تے ہوئے سی پیک میں شا مل صو بے کے منصو بوں کو جلد ا ز جلد مکمل کر وانے چا ہئیں تا کہ ا س سے صو بہ پسما ند گی سے نکل کر ملک کے دیگر تر قیا تی یا فتہ صو بو ں کے بر ابر آسکے کیو نکہ ملک کے اس اہم صو بے کو ہر دور میں نظر اند از کیا جا تا رہا جس سے یہ پسما ند گی کی دلد ل میں پھنستا گیا حا لا نکہ یہ قد ر تی معد نیا ت سے ما لا ما ل صو بہ ہے اس کے وسائل اس پر خر چ نہیں کئے گئے جبکہ اس سے دوسر و ں نے بھر پو ر فا ئد ہ اٹھا یا یہ اقد ام یقینا قا بل مذمت ہے اس لیے ان زیا دتیو ں کا ازا لہ ہونا چا ہیئے اور اس صو بے کو پسماند گی سے نکا لتے ہوئے اس کو تر قی کی را ہ پر گا مزن کیا جا ئے اور یہ کا م وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان جو ایک سینئر پا ر لیمنٹر یز ہیں اور وہ نہ صر ف صو بے کے مسائل سے بخو بی وا قف ہیں بلکہ ا ن کو حل کرنے کی بھر پو ر صلا حیت بھی رکھتے ہیں بخو بی احسن سر انجا م دے سکتے ہیں اس لیے صو بے کی عو ام نے بھی مو جو د ہ صوبائی حکومت سے کا فی امید یں وا بستہ کر رکھی ہیں وہ سمجھتی ہے کہ مو جو دہ حکومت ہی صو بے کی تر قی کے لیے بھر پو ر اقد اما ت کرے گی اگر مو جو د ہ حکومت یہ اہم کا م سر انجام دے دیتی ہے تو پھر یہ ایک تا ریخی اقد ام ہو گا اور مو جو دہ صو بائی حکومت کے اس کا رنا مے کو سنہر ی حر وف سے لکھا جا ئے گا اسی طر ح 132 کے وی ٹر ا نسمیشن لائن مکر ان کا قو می گر ڈ سٹیشن سے منسلک کر نا ،ژو ب کچلا ک 50-N رو ڈ کی اپ گر یڈ یشن خضدا ر بسیمہ رو ڈ کے منصو بوں پر فز یکل ور ک کا آغا ز ہونا بھی قا بل تعر یف اقد ام ہے کیو نکہ ان اہم منصو بوں کو بھی ما ضی میں مسلسل نظر اند از کیا جا تا رہا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*