دنیا کروناکی عالمی وبا سے نمٹنے کےلئے برسرپیکار ہے ، شاہ محمود قریشی

Mehmood Shah Qureshi Foreign Minister

اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا کروناکی عالمی وبا سے نمٹنے کے لئے برسرپیکار ہے جبکہ جنوبی ایشیاءمیں ایک ریاست مخصوص مذہب اور نسلی گروہوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے، متنازعہ خطوں میں غیرقانونی طورپرآبادی کے تناسب میں تبدیلی کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے اور خطے میںمسلسل کشیدگی بڑھا رہی ہے، ہم خود کو خطرے میں ڈال کر اس کی جارحیت نظرانداز کررہے ہیں، پاکستان نسل پرستی پر دولت مشترکہ کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہے، گلوبل گرین ہاوس گیس کے اخراج میں پاکستان کا اگرچہ حصہ انتہائی محدودہے لیکن اس کے باوجود ماحولیاتی تغیر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں ہم بھی شامل ہیں، ترقی یافتہ ممالک کو عہد کرنا ہوگا کہ سالانہ 100 ارب ڈالر مہیاکریں تاکہ ماحولیاتی خطرات کے مقابلے کے لئے اقدامات کو پورا کیاجاسکے،صرف پاکستان کے لئے 2030 تک 20 فیصد گرین ہاوس گیس کے اخراج میں کمی کے ممکنہ ہدف کو پورا کرنے کے لئے 40 ارب ڈالر درکار ہوں گے، اپنے حصے کے طورپر پاکستان ماحولیاتی تغیر کے مسئلے سے نمٹنے اور پاکستان کو ”کلین اینڈ گرین“ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے،کرونا سے نمٹنے کے لئے قرض میں ٹھوس رعایت کے لئے مذاکرات کا آغازکیاجائے تاکہ معاشی بحالی موثر انداز میں ممکن ہوپائے، ”عوام کی ویکسین“ ایسا نظام جس میں تمام علاج اورتشخیص ’مفت ‘ فراہم کی جائے اور ویکسین ، زیادہ مقدار میں بنائی جائے تاکہ دنیا بھر کے عوام اور ممالک کو یہ مفت میسر آئے۔ بدھ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے دولت مشترکہ وزراءخارجہ کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کامن ویلتھ فورم، ہماری مشترکہ تاریخ سے رچا ہوا، مشترک اقدار میں بندھا ہوا اور مشترک خطرات سے نمٹنے کے لئے سرگرم عمل، فورم ہے۔ جن مشکلات کا ہمیں سامنا ہے، ان کے پیش نظر آج کے اجلاس کا ایجنڈا نہایت موزوں اور برمحل ہے۔ 2020 خاص طورپر ایک ہنگامہ خیز سال رہا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طورپر کورونا عالمی وباءنے ہمارے مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور عزم کا امتحان لیا ہے۔ ہم سب نے جدوجہد کی ہے اور اس کے اثرات پر قابوپانے میں ہم میں سے بعض نے دیگر کے مقابلے میں زیادہ کامیابی حاصل کی۔ عالمی تجارت تلپٹ ہوکر رہ گئی ہے۔ عالمی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔کمزوریاں اورناکافی اسباب کا معاملہ پوری طرح کھل کر سامنے آچکا ہے۔ عالمی سطح پر آنے والے گریٹ ڈپریشن کے بعد سے آج بدترین معاشی تنزلی کا سامنا، آج ہم سب کو ہے۔ کرونا وائرس نے امیر اور غریب میں کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ اس وائرس نے کمزور اور نادار طبقات کو قدرے زیادہ متاثر کیا ہے۔ان مسائل پر سرفہرست موسم سرما کا آغاز ہے جس سے اس وبا کے دوبارہ سراٹھانے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس عفریت کی بدترین تباہی سے وہ محفوظ رہا ہے۔ اس عالمی وبا سے بحالی کی ہماری شرح نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو۔ایچ۔او) سمیت بڑے عالمی اداروں سے داد تحسین اور پزیرائی پائی ہے۔ حکومت پاکستان کی اول دن سے یہ کوشش رہی کہ عوام کو وائرس کے ساتھ ساتھ بھوک سے مرنے سے بھی بچایاجائے۔ ان دونوں پہلووں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ حکومت پاکستان نے سماجی شعبے کے لئے وسائل کو بڑھایا، اشتراک عمل اور متعین اہداف کے حصول پر کاربند ہوئے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ’سمارٹ لاک ڈاون‘ متعارف کرایا گیا۔ ان اقدامات کے باعث ہم کورونا وبا کے بدترین اثرات سے بچنے میں کامیاب رہے۔ حکومت پاکستان نے آٹھ ارب ڈالر کا امدادی پیکج دیا تاکہ معاشی، کاروباری اور عوام کے روزگار کو تقویت اورسرگرمیوں کو سہارا دیاجائے۔ پاکستان اس محاذ پر بھی صف اول میں شامل رہا ہے کہ کورونا وبا سے نبردآزما ترقی پزیر ممالک کے لئے مالی گنجائش پیدا کی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے ترقی پزیر ،غریب اور چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک کے لئے ”قرض میں ریلیف کے عالمی اقدام“ کی اپیل کی جس پر مثبت ردعمل سامنے آنے پر ہم شکر گزار ہیں ۔جی 20 اور عالمی مالیاتی اداروں نے قرض معطل کرنے کی صورت میں ترقی پزیر ممالک کو جو ریلیف فراہم کیا ہے ، وہ خوش آئند اور قابل تحسین ہے۔ بلاشبہ اس ضمن میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن بجا طورپر اس ضمن میں ابھی بہت کچھ اور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری دانست میں دولت مشترکہ اقدامات سے اس ضمن میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔ پاکستان کے کامیاب تجربہ سے سیکھا جاسکتا ہے اور بہترین طریقوں کو استعمال کرکے اس ضمن میں مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔ پروٹیکشن ازم پر قابو پانے اور آزاد تجارت جاری رکھنے کے لئے قانونی اور انتظامی طریقہ ہائے کار کے مشترکات کو استعمال کیاجائے۔ قرض میں ٹھوس رعایت کے لئے مذاکرات کا آغازکیاجائے تاکہ معاشی بحالی موثر انداز میں ممکن ہوپائے۔ وزیراعظم عمران خان اور دنیا کے دیگر قائدین کی اس رائے کو وزن دیاجائے کہ ”عوام کی ویکسین“ ایسا نظام جس میں تمام علاج اورتشخیص ’مفت ‘ فراہم کی جائے اور ویکسین ، زیادہ مقدار میں بنائی جائے تاکہ دنیا بھر کے عوام اور ممالک کو یہ مفت میسر آئے۔ یہ امر باعث تشویش ہے کہ عالمی وبا کے ساتھ ہی عدم برداشت، تشدد اور نسلی امتیاز کے رویوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ امر مختلف نفرت انگیز تقاریر، اسلام اور غیرملکیوں سے نفرت وبیزاری کے رویوں کے اظہار سے عیاں ہے۔محض عوام میں مقبولیت پانے اور دیگر پر برتری کے نظریات کو استعمال کرکے ان منفی ریوں میں بتدریج اضافہ ہوتا دیکھاجاسکتا ہے۔ دولت مشترکہ اور جدید دنیا کی تعمیر جن کلیدی اصولوں کی بنیاد پر ہوئی ہے، وہ قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق اورآزادیاں، کثیرالقومیت کے نکات ہیں جو آج خطرات سے دوچار ہیں۔ دنیا عالمی وبا سے نمٹنے کے لئے برسرپیکار ہے جبکہ جنوبی ایشیاءمیں ایک ریاست مخصوص مذہب اور نسلی گروہوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے تاکہ معاشرے کے طبقات کو تقسیم کیاجائے ، ان میں رنجشیں اور نفرت پیدا کی جائے۔ اس ریاست نے لاکھوں لوگوں کی آزادی کا حق سلب کرلیا ہے، قومیت پرستی کی آگ کو ہوا دے رہی ہے، متازعہ خطوں میں غیرقانونی طورپرآبادی کے تناسب میں تبدیلی کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے اور خطے میںمسلسل کشیدگی بڑھا رہی ہے۔ ہم خود کو خطرے میں ڈال کر اس کی جارحیت نظرانداز کررہے ہیں۔ پاکستان نسل پرستی پر دولت مشترکہ کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ درست طورپر اس کے ذریعے دنیا کی توجہ اس بڑھتے ہوئے عفریت کی طرف دلائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ، ساتھ پاکستان دولت مشترکہ کی صنفی اور جنسی تشدد کے خلاف “’نو مور” کمپین‘ کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ کوئی ملک ماحولیاتی تغیر سے محفوظ نہیں۔ پھر بھی ترقی پزیر ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ گلوبل گرین ہاوس گیس کے اخراج میں پاکستان کا اگرچہ حصہ انتہائی محدودہے لیکن اس کے باوجود ماحولیاتی تغیر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ فوری طورپر ماحولیات سے متعلق اقدامات کئے جائیں، اس کے تدارک کے لئے سوچا جائے اور اس پر عمل کیاجائے۔مساوات اور مشترک نکات، متعین ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں کی بنیاد پر جب تک اقدامات نہیں ہوں گے،کوئی پائیدار نتیجہ ہرگز نہیں نکل سکتا جیساکہ پیرس معاہدہ میں بیان ہوا ہے۔ فوری اور جامع ماحولیاتی ایجنڈا پر موثر عمل اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب وہ ناگزیر ضروریات کے مطابق اور واضح اہداف کا بیان کرے جبکہ اس مقصد کے لئے ’نئے اور اضافی‘ ماحولیاتی وسائل بھی مہیا ہوں۔ ترقی یافتہ ممالک کو عہد کرنا ہوگا کہ سالانہ 100 ارب ڈالر مہیاکریں تاکہ ماحولیاتی خطرات کے مقابلے کے لئے اقدامات کو پورا کیاجاسکے۔ صرف پاکستان کے لئے 2030 تک 20 فیصد گرین ہاوس گیس کے اخراج میں کمی کے ممکنہ ہدف کو پورا کرنے کے لئے 40 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ پاکستان ’کلائمیٹ فنانس ایکشن حب‘ سمیت ماحولیات سے متعلق دیگر اقدامات پر دولت مشترکہ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ اس مرکز کی طرف سے پیش کردہ خدمات سے استفادہ کے لئے پاکستان پہلے ہی اپنی آمادگی ظاہر کرچکا ہے۔ پاکستان ”مینگرووز ایکو سسٹمز اینڈ لائیولی ہ±ڈ“ کے لئے دولت مشترکہ کے ’بلیو چارٹر ایکشن گروپ‘ میں بھی شامل ہوچکا ہے۔ اپنے حصے کے طورپر پاکستان ماحولیاتی تغیر کے مسئلے سے نمٹنے اور پاکستان کو ”کلین اینڈ گرین“ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ ہم نے قومی سطح پر ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لئے اقدام”ایکو سسٹم ریسٹوریشن اینی شی ایٹو“ کا آغاز کردیا ہے۔ دیگر سرگرمیوں کے علاوہ اس اقدام کا مقصد آنے والے تین سال میں پاکستان بھر میں10 ارب درخت لگانا ہے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں (ای۔وی) کی پالیسی کا مقصد2030 تک شاہراہوں پر رواں 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں سے تبدیل کرنا ہے۔ یہ دولت مشترکہ، ہماری دولت مشترکہ میں پوری صلاحیت ہے کہ وہ اپنی منفرد کارکردگی سے دنیا میں ایک فرق پیدا کرکے دکھا سکے۔ آئیں! ہم اپنی مشترک اقدار اور بنیادی اصولوں کو محونظر نہ ہونے دیں جو ہمارا فخر اور مشترک ورثہ ہیں۔ آئیے، ہم اپنے وسائل کو مل کر بروئے کار لائیں اور اپنی صلاحیت سے ایک بہتر مستقبل تشکیل دیں۔۔ایک زیادہ امید افزا کل بنائیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*