ٹائیگر فورس کی لشکر کشی سے بغاوت کا خدشہ!!!!!

محمد اکرم چودھری
ٹائیگر فورس ایسی فورس ہے جسے کرکٹ کی زبان میں آدھا تیتر آدھا بٹیر ہی کہا جا سکتا ہے۔ کرکٹ میں ایسے کھلاڑیوں کی کوئی قدر نہیں ہوتی اور وہ ہر وقت تنقید کی زد میں رہتے ہیں کیونکہ ایسے کھلاڑیوں کے پلے کچھ نہیں ہوتا بس کسی خاص وجہ سے انہیں موقع مل جاتا ہے یہی حال ٹائیگر فورس کا ہے۔ نہ ان کی کوئی آئینی حیثیت ہے نہ قانونی طور پر وہ کچھ کر سکتے ہیں لیکن حکومت تمام محکموں، وزارتوں اور افرادی قوت کی موجودگی میں مہنگائی قابو کرنے کے لیے ٹائیگر فورس سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ یہ مشورہ ان خود ساختہ معاشی و انتظامی ماہرین کی طرف سے ہے جن کی وجہ سے آج پاکستان تحریک انصاف کے دیرینہ و نظریاتی کارکنوں اور پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والوں کا باہر نکلنا محال ہو چکا ہے۔ حکمراں جماعت کے خودساختہ معاشی جادوگروں اور پنجاب میں تکبرانہ صفات سے مالا مال وزراء نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وڑن کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا تو شاید پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ بھی نہیں پہنچا سکتی اب انہی نالائق و ناکام وزراء نے ٹائیگر فورس کے ذریعے مہنگائی کو قابو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ لشکر کشی ہے اور اس کا انجام سوائے حادثات، لڑائی جھگڑوں اور توڑ پھوڑ کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ یہ لشکر کشی حکومت کو بہت مہنگی پڑ سکتی ہے لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ جب حکومت بجلی، پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ، کھاد سب کی قیمت بڑھا چکی ہے پھر یومیہ اجرت اور ہر سطح کے اخراجات میں اضافہ ہو چکا ہے پھر حکومت ڈنڈے کے استعمال سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کیسے کروا سکتی ہے۔ جب چیزوں کی تیاری کے اخراجات بڑھ گئے ہیں تو پھر مہنگے داموں خریدنے والے دوکاندار سستی چیزیں کیسے فروخت کر سکتے ہیں۔ حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز ہر چینی چورانوے روپے فی کلو بیچ رہی ہے تو دوسروں کو ستر روپے بیچنے کے لیے کیسے قائل کر سکتی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کو چینی خریدنے کے لیے تو حکومت سبسڈی دیتی ہے یہ سہولت اور کتنی جگہ پر کتنے دوکانداروں کو میسر ہے۔ پنجاب میں جن کے ذمے خوراک کے شعبے ہیں، جن کے پاس متعلقہ وزارتیں ہیں ان کی کارکردگی شرمناک ہے۔ خود کچھ نہ کرنے والے آج ٹائیگر فورس سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اس فورس کی کارکردگی وہی ہو گی جو کرونا کے دنوں میں تھی۔ ستمبر دو ہزار اٹھارہ سے ستمبر دوہزار انیس اور اکتوبر دو ہزار انیس سے اکتوبر دو ہزار بیس کے دوران قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار، اشیائ خوردونوش کی مناسب قیمتوں پر دستیابی اور بلا تعطل فراہمی کا موازنہ ضروری ہے حکومت کے پہلے سال جب بیوروکریسی کے ساتھ تعلقات اچھے نہ تھے، اپوزیشن کے حمایتی بھی مسائل پیدا کر رہے تھے، معیشت کو بڑے مسائل کا سامنا تھا اس عرصے میں پنجاب میںاشیا ء خوردونوش کی قیمتوں کے تعین اور فراہمی کا طریقہ کار کیا تھا، مارکیٹ کی صورتحال کیا تھی، مارکیٹ کمیٹیاں کیا کام کر رہی تھیں اس کے بعد گذشتہ برس اکتوبر سے آج کی تاریخ تک گذشتہ ایک برس کے دوران اس حوالے سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کیا رہی ہے پرائس کنٹرول کمیٹی کی کارکردگی کیا رہی ہے اور مارکیٹ کمیٹیاں کتنا فعال کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ متعلقہ وزارتیں اور محکمے اسٹیک ہولڈرز سے کتنا رابطے میں رہتے ہیں کیا بات چیت ہوتی ہے اور عوامی مسائل حل کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ ان دو برسوں کی تفصیلی رپورٹ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ضرور تیار کروانی چاہیے اور پھر اس کا جائزہ بھی لینا چاہیے تاکہ دونوں شخصیات یہ جان سکیں کہ اشیائ خوردونوش کی مناسب قیمتوں پر دستیابی اور بلا تعطل فراہمی کے لیے ان کے مقرر کردہ افراد نے کتنا کام کیا ہے۔ گذشتہ ایک برس میں اس شعبے میں ہونے والی تباہی کے ذمہ دار نالائق اور متکبر وزراء ہیں اور اب انہوں نے اپنی نالائقی و ناکامی کو چھپانے کے لیے ٹائیگر فورس کے پیچھے چھپنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ یاد رکھیں مہنگائی سے ہونے والی تباہی کے بعد ٹائیگر فورس کی مداخلت سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو جائے گی۔ لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔ آٹا، چینی، دالیں، پھل و سبزیاں، گوشت سب کچھ تیزی کے ساتھ عام آدمی کی پہنچ سے نکلتا جا رہا ہے ان حالات میں ٹائیگر فورس کو مزاحمت کا سامنا ہو گا اور اس کے نتیجے میں حالات خراب ہوں گے۔ حالات سے تنگ لوگ الجھیں گے اور پھر امن و امان کی صورتحال خراب ہو گی اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔وزراء کہتے ہیں کہ مہنگائی مصنوعی ہے چلیں ان کی خوشی کے لیے کچھ حصہ مصنوعی مہنگائی کا بھی مان لیں لیکن اس کا تعین بھی تو کریں کہ مصنوعی مہنگائی ہوتی کیا ہے۔ صوبوں اور مرکز میں موجود تمام اہم افراد دو برس گذرنے کے باوجود آج تک قیمتوں کے تعین، اشیاء خوردونوش کی فراہمی کے طریقہ کار کو سمجھنے میں ہی ناکام رہے ہیں۔ مسائل حل کرنا تو دوسرے مرحلے میں آتا ہے پہلا مرحلہ تو مسائل سمجھنے کا ہے اگر یہ مرحلہ ہی طے نہ کیا جا سکے تو مسائل کے حل کا تو سوال ہی ہیدا نہیں ہوتا۔ مصنوعی مہنگائی تو ذخیرہ اندوزی کی صورت میں ہوتی یے اس وقت تو بات ذخیرہ اندوزی سے بھی آگے نکل چکی ہے اگر حکومت اپنے ادارے یوٹیلیٹی اسٹورز پر ہی اشیاء کی فراہمی کو یقینی نہ بنا سکے تو اس کا مطلب یہ کہ ملک میں اشیاء کی قلت ہے اس قلت کا ذمہ دار کوئی اور نہیں صرف فیصلہ کرنے والے ہیں۔ گذشتہ ڈیڑھ برس میں جن لوگوں نے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو ہی نہیں سمجھا ان سے مستقبل میں کسی بہتری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ اب حکومت کارروائی کرنا چاہتی ہے اس کارروائی کے نتیجے میں بھی ریڑھیوں والے پکڑے جائیں گے ان کا سامان ضبط ہو گا، قید ہو گی جرمانے ہوں گے لیکن کیا کوئی ان بڑے اسٹوروں پر جانے کی جرات بھی کرے گا جہاں سرکاری نرخوں کا سرعام مذاق بنایا جاتا ہے بلکہ سرکار کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے۔ سینکڑوں روپے روزانہ کمانے والوں کو جرمانے اور قید کی سزاﺅں سے کونسی مہنگائی کنٹرول ہو سکتی ہے۔ حکومت کوئی بھی کام کرنے سے پہلے مصنوعی اور حقیقی مہنگائی کا تعین ضرور کرے۔
جب منڈی سے چیزیں مہنگی ملیں گی تو پرچون میں سستی نہیں بیچی جا سکتیں، جب مارکیٹ کے لیے قیمتوں کا تعین غیر حقیقی کیا جائے گا تو اس پر بھی عملدرآمد ممکن نہیں ہو گا۔ جب ملک بھر اشیائ کی تیاری کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے تو اس سطح میں کمی کے بغیر کوئی مہم کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ حکومت چینی کے معاملے میں یہ تجربہ کر کے دیکھ چکی ہے ساٹھ پینسٹھ والی چینی ایک سو پندرہ بیس روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے اور آئندہ بھی یہی ہو گا۔ گندم اور آٹے کے معاملے میں حکومت نے کام شروع کیا اس کے نتیجے میں آے کی قلت اور مسلسل بڑھتی قیمتیں فیصلہ سازوں کا منہ چڑا رہی ہیں۔ اب تو آٹے کا مہنگا ہونا چھوٹا مسئلہ بن گیا ہے اب تو اصل مسئلہ بلا تعطل فراہمی کا ہے۔ لائنیں لگنا شروع ہو چکی ہیں آے والے دنوں میں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
حکومت فوری طور پر اشیائ خوردونوش کی درآمد پر پابندی لگائے جب تک ملک میں قلت ختم نہیں ہوتی، چیزیں وافر مقدار میں دستیاب نہیں ہوتیں، فراہمی کا مسئلہ ختم نہیں ہو جاتا اس وقت تک بارڈرز بند کر دینے چاہئیں اور اس معاملے میں کسی کو مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے اس سے پہلے کہ کام بڑھ جائے مسائل مہنگائی کی طرح بے قابو ہو جائیں حکومت درآمد و برآمد کی مربوط حکمت عملی تیار کرے اور شہریوں کو سہولت فراہم کرے۔ وزراء کی کارکردگی رپورٹ تیار کی جائے ویسے اب تک ہونے والی تقرریوں نے سوائے نقصان کے کچھ نہیں کیا، وزارتوں میں بھی میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں۔
خوراک سے منسلک تمام وزراء کی کارکردگی کا میرٹ پر جائزہ لے کر ن کے مستقبل کا فیصلہ بھی کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے۔ان تمام مسائل کے باوجود وزیراعظم عمران خان سے امید ضرور ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ملک و قوم کا درد رکھتے ہیں اور ملک و قوم کی ترقی دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ ان کے فیصلوں پر تنقید کی جگہ موجود ہے لیکن ان کی سوچ اور نیت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ یہی خوبی انہیں دیگر سیاست دانوں سے ممتاز بناتی ہے۔ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے عام آدمی کی بیبسی ناقابلِ برداشت ہے ان کی امیدیں عمران خان سے وابستہ ہیں اگر عمران خان اب بھی اپنی ٹیم پر نظر دوڑائیں تو بہت سے خود ساختہ ارسطو موجود ہیں ان کی جگہ کام سمجھنے اور کام کرنے والے افراد کی ضرورت ہے۔ بہت سے مخلص لوگ ا?ج بھی تحریک انصاف میں موجود ہیں وہ صرف مخلص ہی نہیں محنتی، قابل اور عاجز بھی ہیں۔ وہ عمران خان، پاکستان تحریکِ انصاف اور ملک و قوم کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان آنے والے دنوں میں عوامی مسائل حل کرنے کے لیے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں اور اپنے دیرینہ و نظریاتی کارکنوں کی خدمات حاصل کریں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*