عام آدمی ،کو ریلیف ،دینے کیلئے، تمام سرکاری مشینری کو متحرک کرینگے،عمران خان

PM Imran Khan

اسلام آباد(آئی این پی) وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے پی آئی اے بورڈ ممبران کی تعیناتی ، سی ڈی اے کے 2سالوں کے بجٹ تخمینوں، نائیجر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر پاکستان کی جانب سے امدادی سامان بھجوانے و دیگر فیصلوں کی منظوری دیدی۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ قوانین میں ترمیم کے بعدصدر اور وزیر اعظم صرف ایک کیمپ آفس رکھ سکیں گئے، کیمپ آفس کے اخراجات کی حد بھی مقرر کی جائے گی۔کابینہ اجلاس میں ملک میں بڑھتی مہنگائی پر وفاقی وزرا ءنے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہعام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے تمام سرکاری مشینری کو متحرک کریں گے، آنے والے دنوں میں ہماری پوری توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہوگی اور ساری صورتحال خود مانیٹر کررہا ہوں، دیکھتے ہیں اب مافیا کیا کرتا ہے، کورونا کیسز بڑھے تو اسکولز، شادی ہالز اور دیگر اجتماعات پر پابندی لگائی جاسکتی ہے،کابینہ اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کر ارکین نے اپنے خلاف درج بغاوت کے مقدمات واپس لینے کی درخواست کی جس پر وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کی درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ اور وزیرقانون کو معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی۔ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہحکومت کاروز ویلٹ ہوٹل کو فروخت کرنے کا کوئی پروگرام نہیں، اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے کوئی پریشانی نہیں، اپوزیشن انتشار پیدا کرنے کے لیے جمع ہورہی ہے ،یہ تمام لوگ اپنی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کے لیے جمع ہوئے ہیں،اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمان کو استعمال کررہی ہیں،اپوزیشن مولانا فضل الرحمان کے ساتھ گزشتہ سال کی طرح اس دفعہ بھی ہاتھ کرے گی ، نواز شریف اپنے بچوں کو لندن میں رکھیں اور ادھر ملک کے بچوں کو جلسے میں شرکت کے لیے دباو¿ ڈالے تو اس سے بڑی منافقت کیا ہوگی۔منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ کابینہ نے موٹروے سانحے کے مرکزی ملزم کی گرفتاری پر حکومت پنجاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا، کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ ریپ جیسے ہولناک جرائم کی موثر روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کو مزید موثر بنایا جائے۔ کابینہ کو ملک میں سردیوں میں گیس کی ضروریات اور موجودہ ٹرمینلز کی استعدادِ کار و نئے ٹرمینل لگانے کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے متعلقہ مالی اور قانونی معاملات پر غور کیا گیا اور اس حوالے سے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں۔ کابینہ نے این آئی ٹی بی کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے تجاویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوانے کی ہدایت کی۔ کابینہ کو ناجائز تجازوات ہٹانے کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ قانون کا اطلاق سب کے لئے برابر ہے اور گرین ایریاز پر کسی قسم کی تجاوزات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کابینہ نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کے بورڈ ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی۔کابینہ کو روزویلٹ ہوٹل کے مالی معاملات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ روز ویلٹ ہوٹل مسلسل مالی خسارے میں جا رہا تھا۔ اگر حکومت کی جانب سے بروقت فیصلے نہ لیے جاتے تو پاکستان اپنے اثاثے سے محروم ہو جاتا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے سو ملین ڈالر سے زائد قرضوںکی ادائیگی کی گئی۔ کابینہ نے ایکسپورٹ امپورٹ بنک آف پاکستان ایکٹ 2020 کی اصولی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز میں ڈائریکٹر جنرل (نیشنل سوشو اکنامک رجسٹری) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی شمولیت کی منظوری دی۔ اس کےساتھ ساتھ ظہیر بیگ جو کہ بطور آزاد ممبرتعینات تھے انکا استعفیٰ منظور کرنے کی بھی منظوری دی۔کابینہ کو یوٹیلیٹی اسٹورز کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ دنوںمیں یوٹیلیٹی اسٹورز کی سیل میں سات فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔ اسی طرح ادارے کے نقصانات میں کمی آئی ہے۔ پرافٹ اینڈ لاس (نفع نقصان) کے حوالے سے بتایا گیا کہ 8.7ارب سے خسارہ کم ہو کر 2.3ارب تک لایا گیا ہے۔ چئیرمین یوٹیلیٹی اسٹورز نے بتایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی 68روپے کلو کے حساب سے دی جا رہی ہے۔ اسی طرح دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ بھی مارکیٹ کے مقابلے میں سستے نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہیں۔کابینہ نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے بجٹ تخمینوں برائے مالی سال 2019-20اور2020-21کی منظوری دی۔ کابینہ نے نائیجر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر حکومت پاکستان کی جانب سے امدادی سامان بھجوانے کی تجویز کی منظوری دی۔ کابینہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بورڈ کے حوالے سے ممبران کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ مقرر کرنے کے حوالے سے تجویز کی منظوری دی۔ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 12مارچ2020اور 01اکتوبر2020میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔صدر اور وزیرِ اعظم کے کیمپ آفسز کے حوالے سے بتایا گیا کہ کابینہ کی جانب سے فیصلہ کیا گیا تھا کہ متعلقہ قوانین میں ترمیم کے نتیجے میں صدر اور وزیرِ اعظم کو صرف ایک کیمپ آفس رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اس حوالے سے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کیمپ آفس پر اٹھنے والے اخراجات کی بھی حد مقرر کی جائے تاکہ عوام کے پیسے کی ایک ایک پائی کا صحیح استعمال یقینی بنایا جا سکے اور سرکاری خزانے سے صرف اتنے ہی اخراجات ہوں جتنا کارِ سرکار چلانے کے حوالے سے ضرورت ہے۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ سابقہ صدور اور وزرائے اعظم پر اٹھنے والے اخراجات اور مراعات کا جائزہ لیا جائے۔اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 07اکتوبر 2020میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی ۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں ملک میں بڑھتی مہنگائی پر وفاقی وزرا نے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کابینہ ارکان نے وزیراعظم سے بڑھتی مہنگائی پر ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو اشیا کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی۔ اجلاس میں بجلی گیس اور ادویات کی بڑھتی قیمتوں پر بھی بحث ہوئی، وفاقی وزیر مراد سعید نے ندیم بابر اور عمر ایوب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں فیصلے کچھ ہوتے ہیں اور بجلی گیس میں ریلیف نہیں ملتا، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے ذمہ دار آپ لوگ ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت نے وزرا کو ادویات پر بریفنگ دی تو وزیرریلوے شیخ رشید نے کہا کہ ادویات مہنگی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی باتیں سننا پڑتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ مشاورت جاری ہے، حکومت جلد ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کرے گی، عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے تمام سرکاری مشینری کو متحرک کریں گے، آنے والے دنوں میں ہماری اب پوری توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہوگی اور ساری صورتحال خود مانیٹر کررہا ہوں، دیکھتے ہیں اب مافیا کیا کرتا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے این سی او سی کو کورونا کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کیسز بڑھے تو اسکولز، شادی ہالز اور دیگر اجتماعات پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے اراکین نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ جولائی 2015 میں قیادت پر بغاوت کے مقدمات قائم کیے گئے،ایم کیو ایم اراکین نے کہا کہ یوٹیوب پر سابق قائد کی تقریر دیکھ کر تالی بجانے پر یہ مقدمات درج کیے گئے تھے جس میں خالد مقبول صدیقی، عامر خان، کنور نوید، وسیم اختر اور موجودہ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نامزد کیا گیا، بغاوت کے حوالے سے درج کی جانے والی ایف آئی آرز میں علی رضا عابدی، کشور زہرہ سمیت دیگر کو بھی نامزد کیا گیا،حکومت جب اپنے حریف کے مقدمات واپس لے سکتی ہے تو حلیف پر درج ہونے والے مقدمات واپس کیوں نہیں لیے جاسکتے۔وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کی درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ، وزیرقانون کو معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر میرٹ کی بنیاد پر دیکھ کر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہکابینہ اجلاس میں اشیاءکی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا،مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں،حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں واضح کمی ہوگی،آنے والے دنوں میں مہنگائی کا مسئلہ حل ہوجائے گا،خیبر پختونخوا میں بارشوں سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچا،ملک میں ضرورت کے مطابق گندم کے ذخائر موجود ہیں،سندھ حکومت نے جان بوجھ کر گندم کی ریلیز روکے رکھی،سندھ حکومت کی جانب سے گندم بروقت جاری نہ کرنے سے بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا، بالآخر سندھ حکومت نے 15 یا 16 تاریخ سے گندم ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے سیاسی بدنیتی کرتے ہوئے گندم کی ترسیل روکی تھی۔ کراچی میں 20 کلو آٹے کی قیمت 13 سو سے 14سو روپے کے درمیان ہے جبکہ خیبرپختونخوا اتنی ہی مقدار میں آٹے کی قیمت 11 سو سے 12 سو روپے ہے۔مہنگائی کو کنٹرول رکھنے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی جائے گی وہ حقیقی ہے، ایسا نہیں کہ اس حکمت عملی کو روبہ عمل نہیں بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے امریکا میں روز ویلٹ ہوٹل کو فروخت کرنے کا کوئی پروگرام نہیں، حکومت نے تمام قرض ادا کردیا جس کے بعد اب روزویلٹ ہوٹل مکمل طور پر حکومت پاکستان کی ملکیت ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن اب جبکہ کووڈ 19 کے باوجود ملک میں معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اب اپوزیشن انتشار پیدا کرنے کے لیے جمع ہورہی ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کا کوئی مستقبل نہیں ہے، عوام انہیں رد کرچکے ہیں، یہ تمام لوگ اپنی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔اپوزیشن ارکان کی اکثریت پر کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں،اپنی لوٹی ہوئی دولت اور لیڈروں کو بچانے کیلئے سب اکٹھے ہوئے ہیں،اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمان کو استعمال کررہی ہیں،اپوزیشن مولانا فضل الرحمان کے ساتھ گزشتہ سال کی طرح اس دفعہ بھی ہاتھ کرے گی ،عوام نے اپوزیشن جماعتوں کو گزشتہ الیکشن میں مسترد کردیا تھا۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اپنے بچوں کو لندن میں رکھیں اور ادھر ملک کے بچوں کو جلسے میں شرکت کے لیے دباو¿ ڈالے تو اس سے بڑی منافقت کیا ہوگی۔ پیپلز پارٹی کورونا کی وجہ سے لاک ڈاو¿ن کی باتیں کرتے تھے لیکن وہ کراچی میں جلسہ کررہے ہیں۔کراچی میں بجلی کے ٹیرف میں اضافے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی کے ٹیرف گزشتہ 4 سال میں دیگر صوبوں کے شہروں کے مقابلے میں کم تھے۔ اس کو بیلنس میں لانے کے لیے مذکورہ فیصلہ کیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*