اپوزیشن استعفیٰ استعفیٰ کھیل رہی ہے اور کھیلتی رہے گی،ڈاکٹر بابر اعوان

اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعظم کے مشیر اور ماہر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے جاری ہے، ایکسٹرڈیشن پر متعلقہ حکام سے رابطے جلد منظر عام پر آ جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے حکومتی اقدامات میں تیزی آگئی، اس حوالے سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے جاری ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر اور ماہر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ نواز شریف کی ایکسٹرڈیشن کیلئے 3مراحل میں کام ہو رہا ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے باضابطہ ایکسٹرڈیشن کی درخواست کی گئی ہے،اسی ماہ ہندوستان کے ایک اور ٹیکس چور کی ایکسٹرڈیشن کاعمل مکمل ہوا ہے۔ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ میں متعلقہ حکام رابطے میں ہیں، ایکسٹرڈیشن پرمتعلقہ حکام سے رابطے جلد منظر عام پر آ جائیں گے، 8 سے 10 دن میں دو بڑی چوریاں سامنے آنے والی ہیں، قوم حیران ہو جائے گی کس قدر بڑی واردات کی گئی ہے، ایک چوری 25 ارب روپے تک کی بھی کی گئی ہے۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ چور اکٹھے ہو کر شور مچا رہے ہیں کہ ٹرپل پلس این آر او دیا جائے، جلسے جلوس وہ کر رہا ہے جو ڈکیتی نما چوریوں میں ملوث ہے، اداروں کے اوپر دباو¿ ڈال کر ماورائے آئین استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جلسوں کی فنڈنگ کرنے والا وہی ہے جس نے خلائی مخلوق کانعرہ لگایا تھا، اب بھی جلسوں کا نتیجہ کیوں نکالا والے جلسوں جیسا ہو گا، اپوزیشن استعفیٰ استعفیٰ کھیل رہی ہے اور کھیلتی رہے گی۔ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ اپوزیشن والے کبھی استعفی نہیں دیں گے، ان کو معلوم ہے مستعفی ہوئے تو پھرعوام کے پاس جانا پڑے گا، کرپشن، میگا منی لانڈرنگ کے داغ کیسے عوام کے پاس لے جا سکتے ہیں، یہ استعفے دینا چاہیں تو دو دن بعد پارلیمنٹ کا اجلاس ہو رہا ہے، اسپیکرقومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو استعفے جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ ماہر قانون کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات ملتوی ہونےکی صرف ایک صورت ہے، واحد راستہ سندھ اسمبلی کو سندھ کی حکومت توڑنی پڑے گی، الیکٹورل کالج کا پورا حصہ درمیان سے غائب ہو تو اسے پورا کرنا قانونی تقاضاہوگا، اس کے علاوہ کوئی آئینی راستہ نہیں ہے کہ سینیٹ انتخابات ملتوی ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سینیٹ کو توڑا ہی نہیں جا سکتا، سینیٹ ممبران کی تین تین سال کی الگ الگ مدت ہے ، آئینی ادارے کا تسلسل برقرار رہتا ہے تحلیل نہیں ہو سکے گا، حکومت اور اس کے اتحادی استعفیٰ نہیں دیں گے، یہ مستعفی ہوں تو الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کرا دے گا، ماضی میں ایک دن میں 21 ،21 انتخابات ہو چکے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*