ٹک ٹاک کاجنگل اور دنگل

اسد اللہ غالب
اس سال سات جولائی کو مصر میں پانچ خواتین کو دو سے لے کر پانچ سال تک قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ سزا انہیں ایک موبائل ایپ ٹک ٹاک کے غیر اخلاقی استعمال کی بنا پر دی گئی۔
پاکستان میں بھی یہ ایپ اپنے رنگ دکھا رہی تھی اور قریب تھا کہ یہ ہمارے معاشرے کو بھی لے ڈوبتی کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اسے بلاک کردیا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو عوام الناس کی جانب سے ایسی شکایات متواتر موصول ہو رہی تھیںجن میں نوجوانوں کی غیر اخلاقی حرکات کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔
ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں جرم کی تشہیر کی جا رہی تھی۔ٹک ٹاک کے ذریعے فحش ویڈیوز بنائی جاتی تھیں جن کی وجہ سے نوجوانوں اور بچوں کی مسلسل برین واشنگ ہو رہی تھی اور وہ پڑھائی سے دور ہو رہے تھے۔ اس سال پاکستان میں 46 لاکھ لوگوں نے ٹک ٹاک ایپ کو ڈاو¿ن لوڈ کیا۔اس کی ایک وجہ کرونا لاک ڈاو¿ن تھا جس دوران میں بچے اور نوجوان سکولوں اور کالجوں کی بجائے گھروں میں مقید تھے اور انہی بے کار چیزوں اور فتنوں کے ذریعے اپنا وقت گزارنے میں مصروف تھے۔ اس طرح کی قبیح مصروفیات سے بچوں اور نوجوانوں کو کئی طرح کے نقصانات ہو رہے تھے۔
ان کی آنکھوں پر غیر ضروری بوجھ پڑھ رہا تھا۔ان میں کئی کئی گھنٹے موبائل فون کو دیکھنے کی وجہ سے ویسے بھی بچوں کی آنکھوں پر برا اثر پڑ رہا ہے۔تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حکومت کو گھر بھیجا جائے:رانا ثنا اللہ
چھوٹے چھوٹے بچوں کو اب عینکیں لگ چکی ہیںاور اس کی وجہ موبائل فون کا بے جا استعمال ہے۔
اوپر سے انٹرنیٹ کے پیکج اتنے سستے کر دیے گئے ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کی عید ہو گئی ہے۔ وہ دس روپے میں چار چار گھنٹے مسلسل گیم کھیلتے ہیں لیکن ان کا دل پھر بھی نہیںبھرتا۔یہ مسلسل اپنا وقت اور پیسہ برباد کرنے میں لگے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گِل کے مطابق غیر اخلاقی ویڈیوز ٹک ٹاک ایپ کی بندش کی وجہ بنی۔
وزیراعظم سے کچھ والدین نے اس سے متعلق شکایت کی تھی اور ویڈیوز بھی بھیجی تھیں۔ ایسا ہی بیان وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ٹک ٹاک اور اس جیسی دیگر ایپس کے منفی استعمال اور معاشرتی بگاڑ کے حوالے سے فکر مند ہیں۔
امریکہ نے بھی ٹک ٹاک کو بین کرنے کے لیے متعلقہ فرم کو پیشگی مطلع کر دیا ہے۔ بنگلادیش اور دیگر چند ملکوں میں بھی یہ ایپ کچھ عرصے کیلئے بند کی جاتی رہی ہے۔
اب اس کے نقصانات اور افسوس ناک واقعات کی طرف آتے ہیں۔ابھی کل کی بات ہے ہے کہ گو جرانوالہ میں ایک طالب علم نہرکنارے ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران نہر میں جاگرا اور لاپتہ ہو گیا۔ تاحال اس نوجوان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ایک اور خبر کے مطابق کراچی میں ایک نوجوان اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ تیز گاڑی چلاتے ہوئے ایکسیڈنٹ میں جان کی بازی ہار گیا اور اس کی وجہ بھی ٹک ٹاک ویڈیو تھی جو تیز رفتار ڈرائیونگ کے دوران بنائی جا رہی تھی۔ دوسری خبر میں کراچی میں ہی تنویر نامی ایک نوجوان ٹک ٹاک کے دوران پستول صاف کر رہا تھا تھا کہ گولی چل گئی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی حرکتیں کی جاتی ہیں۔ لڑکے اپنے سر کے آدھے بال کٹوا کر عجیب و غریب مخلوق کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جیسے وہ زمین کی بجائے مریخ سے آئے ہوں۔ ڈانس‘ موسیقی اور بیہودہ ڈائیلاگ کے امتزاج سے بننے والی یہ چند سیکنڈ کی ویڈیوز نئی نسل کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں‘ جن کا سلسلہ بند کر کے وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف معاشرے کو اخلاقی تباہی سے بچا لیا ہے بلکہ کروڑوں والدین کا دل بھی جیت لیا ہے۔
اس ایپ کے ذریعے علما ،سیا ست دانوں اور ریاستی داروں کی تضحیک کی جاتی ہے۔ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کا مولوی بھی فرقہ پرستی کا زہر پھیلا کرخانہ جنگی کی فضا پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ مضحکہ خیز کارٹون نما فلموں سے ہر کسی کی پگڑی اچھالی جاتی ہے۔سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے خفیہ سیل بنا لئے ہیں جو ٹک ٹاک پر مخالف سیاست دانوں کی تحقیر اورتضحیک کرتے ہیں۔ بعض لوگ تو اپنے دوستوں تک کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں اور یوں پاکستانی معاشرہ بے لگام ہوتا جا رہا ہے۔
ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ایک طرف ملک میں شور برپا ہے کہ آزاریاظہار میسر نہیں ہے اور دوسری طرف اس قدر بے محابا اور شتر بے مہارآزادی میسر ہے کہ جس کسی کو چاہیں اس کی درگت بنا ڈالیں۔
آزادی اظہار پرپابندی کا رونا رونے ولا طبقہ اپنے اخباروں کو بھی مذموم مقاصد کے لئے استعما ل کرتا ہے، پھر انہیں اپنا چینل بھی میسر ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ ایک چینل سے اٹھتے ہیں اور دوسرے پر جا بیٹھتے ہیںا ور جو گالی گلوچ کرنی ہو بلا روک ٹوک کرتے ہیں۔اس پر بھی دل کی بھڑا س نہ نکلے تو بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،وائس آف امریکہ ڈاٹ کا م کاپلیٹ فارم مل جاتا ہے مگر انہیں چین پھر بھی نہیں آتا تو ٹک ٹاک کا ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور یو ٹیوب فیس بک اور ٹوئٹر یا انسٹا گرام پر دل کے پھپھولے پھوڑتے ہیں۔ آزادی اظہار کا توبس رونا ہے اصل میں وہ آزادی اظہارار کا حق مانگتے ہیں کہ جس کی چاہیں پگڑی اچھالیں آزادی اظہار،آزادی آزاراور آزادی عمل کی کوئی انتہا نہیں،بھوک ہے کہ مٹتی نہیں مگر حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ اسے آخر کا رقانون کی بالادستی کے لئے اقدام کرنا پڑا ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*