وفاقی حکومت کا اپوزیشن کو ملک بھر میں جلسوں کی اجازت دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (آئی این پی ) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ اجلاس کا مقصد قوم کو کورونا کی دوسری لہر اور مزید نقصانات سے بچانے کے لئے بر وقت فیصلہ سازی ہے ، مختلف ممالک کے اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرد موسم میں کورونا کی وبا ءکے پھیلا ﺅکا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ابھی سے اقدامات اور حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ حفاظتی اقدامات اور ماسک کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔پیر کویہاں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں کورونا وبا کی صورتحال ، ٹیسٹ ، ملک کے مختلف حصوں میں وبا کے پھیلا ﺅکی شرح اور عالمی سطح پر کورونا کیسز کی بڑھتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی طور پر کورونا کی دوسری لہر کے نتیجے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اللہ تعالی کی مہربانی اور حکومتی اقدامات اور حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان میں وبا کا پھیلا اور نقصان دیگر ملکوں کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہوا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ چھ ہفتوں میں سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق کورونا کا مرض دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وبا کے پھیلا ﺅسے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کیا جا رہا ہے۔ حالیہ اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہوئے اور آبادی کو کورونا کی دوسری لہر سے بچانے کے حوالے سے اجلاس کے سامنے تجویز پیش کی گئی کہ ایسی تمام غیر ضروری سرگرمیوں جن کا تعلق معیشت اور تعلیم وغیرہ جیسی بنیادی ضرورتوں سے نہیں ان کو محدود کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔ ان میں عوامی اجتماعات پر پابندی کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مقصد قوم کو کورونا کی دوسری لہر اور مزید نقصانات سے بچانے کے لئے بر وقت فیصلہ سازی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرد موسم میں کورونا کی وبا ءکے پھیلا ﺅکا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ابھی سے اقدامات اور حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ حفاظتی اقدامات اور ماسک کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔دریں اثناءوفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن ملک بھر میں جہاں جلسے کرے اجازت ہوگی، پی ڈی ایم کو جلسوں کے این او سی جاری کیے جائیں گے۔ پیر کووزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت سیاسی امور پر حکومتی رہنماﺅں کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء اور معاونین خصوصی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر غور ہوا اور اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک پر مشاورت کی گئی۔ حکومتی پولیٹیکل کمیٹی نے صورتحال سے متعلق تجاویز پیش کی۔ذرائع کے مطابق حکومتی اراکان نے تجویز دی کہ اپوزیشن کو جلسے کرنے کی اجازت دی جائے۔ اپوزیشن ملک بھر میں جہاں جلسہ کرنا چاہے، اجازت دی جائے۔ حکومتی اراکین اور مشیران نے تجویز دی کہ اپوزیشن کو جلسوں میں کورونا ایس او پیز کا پابند بنایا جائے۔ ضلعی انتظامیہ جلسوں میں ایس او پیز کی پابندی یقینی بنائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں اور ریلیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی اور اپوزیشن ملک بھر میں جہاں جلسے کرے اجازت ہوگی، پی ڈی ایم کو جلسوں کے این او سی جاری کیے جائیں گے، تاہم اپوزیشن کو جلسوں میں کورونا ایس او پیز کا پابند بنایا جائے گا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج اور جلسے کرنا اپوزیشن کا حق ہے، لیکن احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اپوزیشن کی تحریک عوام کی نہیں بلکہ سیاسی ایلیٹ کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہے، اپوزیشن حکومت پر دباﺅ ڈال کر کرپشن کیسز سے چھٹکارا چاہتی ہے، عوام کو سیاستدانوں کی کرپشن بچاو تحریک میں کوئی دلچسپی نہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*