لاہورسیالکوٹ ،موٹر وے زیادتی کیس ،پولیس نے مرکزی ملزم عابد ملہی کو گرفتار کر لیا

لاہور( این این آئی)پولیس نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو گرفتار کر لیا ، صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اوروزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے ، اس کیس کا ایک ملزم شفقت پہلے ہی گرفتار اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پولیس اورحساس اداروں کی دن رات کی کوششوں کے بعد لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر دوران ڈکیتی خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعہ کا مرکزی ملزم عابد ملہی ایک ماہ تین روز بعد فیصل آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس ، سی آئی اے ، سی ٹی ڈی اور دیگر حساس اداروں نے بھرپو رمنصوبہ بندی اور جال بچھا کر ملزم کو گرفتار کیا ۔بتایا گیا ہے کہ ملزم بھیس بدل کر رہائش پذیر تھا۔ عابد ملہی اس سے قبل دو بار پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ ملزم کا ایک ساتھی شفقت پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہے جسے انسداد دہشتگردی کی عدالت نے شناخت پریڈ کے لئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا کھا ہے ۔ ملزم عابد اور اس کے ساتھی شفقت نے 9ستمبر کو لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر پیٹرول ختم ہونے پر مدد کے لئے انتظار کرنے والی خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جبکہ اس سے نقدی طلائی زیورات بھی لوٹ لئے تھے ۔ملزمان کی گرفتاری کے لئے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں اور ملزمان کی شناخت ہونے کے بعد ان کے متعدد رشتہ داروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے مرکزی ملزم عابد ملہی کے ساتھی شفقت کو ساہیوال سے گرفتار کر لیا جسے بعد ازاں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے اسے شناخت پریڈ کے لئے جیل بھجوا رکھا ہے۔ ایک نجی ٹی وی نے ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملزم عابد ملہی کو ما نگا منڈی سے گرفتار کیا گیا ہے ۔ وزیرا عظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ٹوئٹ کے ذریعے ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کی تصدیق کی اور کہا کہ انشا اللہ اسے قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بھی ملزم عابد ملہی کی گرفتار ی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے چند روز سے حکمت عملی کے تحت خاموشی اختیار کر رکھی تھی منصوبہ بندی کا حصہ تھا اور بالآخر درندے کو گرفتا رکر لیا گیا ہے اور اسے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نشان عبرت بنایا جائے گا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*