کاش وزیراعظم عمران خان یہ کر سکیں!!!!

محمد اکرم چودھری
میرے ملک کا عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہے بلکہ تنگ پلس ہو چکے ہیں۔ کہیں وسیم اکرم پلس عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہے تو کہیں پاکستان تحریک انصاف کے سب بڑے ماہر معاشیات کے غلط فیصلے عوام پر قہر بن کر نازل ہو رہے ہیں۔ کہیں خیبر پختونخوا کی تاریخ کا بہترین وزیر اعلیٰ عام آدمی کے مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہے تو کہیں تبدیلی کے نعرے لگانے والے نظام بدلنے کے بجائے خود ہی تبدیل ہو چکے ہیں۔ اسی گلے سڑے نظام کا حصہ بن کر پروٹوکولز کے مزے لے رہے ہیں۔ میرے ملک کا ووٹر کل رو رہا تھا تو آج چیخ رہا ہے کل دو وقت کی روٹی کھاتا تو آج ایک وقت پر آچکا ہے، کل موٹر سائیکل پر تھا تو آج سائیکل پر ہے، کل بڑی گاڑی میں تھا تو آج چھوٹی گاڑی میں سفر کرتا ہے، کل ہر موسم میں مختلف کپڑے پہنتا تھا تو آج اس پر بھی سمجھوتا کر چکا ہے، کل دو ائیر کنڈیشنر چلاتا تھا تو آج ایک استعمال کرتا ہے۔ آج کا پاکستانی زندہ رہنے کے لیے ہر چیز پر سمجھوتا کر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے منتخب حکومت عوامی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔
مسائل حل کرنا تو دور کی بات ہے ابھی تک تو مسائل سمجھنے میں بھی کامیابی نہیں مل سکی۔ گذرے دو برسوں میں کبھی کبھی وزیراعظم عمران خان کی نظر مہنگائی پر بات کرتے ہیں تو چند گھنٹوں کے لیے وفاق اور پنجاب میں کچھ میٹنگز ہوتی ہیں، رپورٹس طلب کی جاتی ہیں، کچھ احکامات جاری کیے جاتے ہیں، کچھ بیانات جاری ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا۔ ایک مرتبہ پھر تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ حکومت کل سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے لیے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے گی۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کی وجوہات جاننے اور مہنگائی کے عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ واقعی ملک میں اشیائے خورونوش کی قلت ہے یا پھر یہ مافیاز کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کی وجہ سے ہے۔ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ مہنگائی بین الاقوامی منڈی میں دالوں اور پام آئل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے تو نہیں ہے۔
منتخب وزیراعظم نے اشیاء خوردونوش کے حوالے سے آئندہ ہفتے اپنی پالیسی نافذ کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم ضرور ہے کہ پارلیمانی نظام میں دستیاب جمہوریت میں وہ ملک کے سب سے اہم اور طاقتور شخص مانے جاتے ہیں ہمیں ان کی نیت، عزم، سوچ اور فکر پر بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو قابو کرنے کے معاملے میں جتنی سستی، کاہلی اور غفلت حکومت برت چکی ہے اب اس میں معمولی اقدامات و بیانات سے کوئی فرق نہیں پڑ سکتا یہ مسئلہ سنجیدہ نشستوں اور عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔ اس مسئلہ حل کرنے کے لیے درست اعداد و شمار نہایت اہم ہے۔ درست معلومات کی اہمیت اس سے بھی زیادہ ہے۔ جب وزیراعظم کو ہر وقت یہ معلومات پہنچائی جائیں کہ سب کچھ مصنوعی ہے، مافیاز کی کارستانی ہے، مجبوری میں چیزیں باہر سے منگوائی جا رہی ہیں تو مسئلہ کیسے حل ہو گا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اب تک اس لیے مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے کیونکہ وزراء کو سمجھ نہیں، انہیں کام آتا نہیں ہے نا ہی وہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ کام نہ کرنے، مسائل حل نہ ہونے کا ان کے پاس سب سے آسان اور بہترین عذر یہی ہے کہ سب کچھ مافیاز کی وجہ سے ہے۔ ذخیرہ اندوزی ہے، قلت مصنوعی ہے اس مہنگائی اور قلت کے پیچھے اپوزیشن ہے۔ اپنا کام نہ کرنے اور ملبہ دوسروں پر گرانے کی یہی سوچ ہے جس کی وجہ سے آج کم استعمال ہونے والی سبزیاں بھی پہنچ سے باہر ہیں۔ گندم اور آٹے جیسی بنیادی اشیاء
کی ناصرف قلت ہے بلکہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی حکومت کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ چند ماہ کے دوران چینی کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آا ہے۔ ادرک آٹھ سو روپے کلو بکتا رہا ہے اب بھی چھ سات سو روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ گذشتہ چھ ماہ میں جتنی مہنگائی ہوئی ہے اتنی تو پانچ سال میں بھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس دوران حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ وفاقی حکومت غلط فیصلے کرتی رہی، صوبائی وزراء سوتے رہے اور آج مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دعا ہے کہ وزیراعظم اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ وہ جو کرنا چاہتے ہیں اس میں کامیابی ملے لیکن زمینی حقائق ان کے بیانات اور اقدامات کا ساتھ نہیں دیتے۔ ان کی ٹیم کی نالائقی و نااہلی کی وجہ سے آج تحریک انصاف کی حکومت کو اپوزیشن اتحاد سے زیادہ خطرہ اشیاء خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے۔ بدقسمتی سے کئی ماہ ہوئے ہیں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا لیکن حکومت کی طرف سے کسی بھی سطح پر اس اہم ترین مسئلے پر سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے اب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ سڑکوں پر نکلنے کو ہے تو حکومت کو بھی خیال آیا ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے۔
یہ مسئلہ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے پر اس انداز میں بھی پھرتی دکھائی گئی کہ وزیراعظم عمران خان نے موٹر وے پر مہنگائی کا نوٹس لے لیا۔ یہ کارروائی سٹیزن پورٹل پر شکایات کے بعد عمل میں آئی۔
وزیراعظم عمران خان نے سٹیزن پورٹل پر شہریوں کی شکایات پر وزارت مواصلات، این ایچ اے اور آئی جی موٹر وے کو ٹک شاپس پر اشیاء کی زائد قیمتوں پر سخت ایکشن کا حکم دے دیا۔ یہ بھی وزیراعظم کی مہربانی ہے کہ انہوں نے عوام کی شکایات پر ایکشن لیا ہے ورنہ ملک کو جتنے مسائل کا سامنا ہے عام آدمی کے بارے میں کسی کے پاس سوچنے یا اس کی بات سننے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ گذشتہ برس پنجاب سے کسی دیوانے نے حکومتی سطح پر مہنگائی کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ پی ٹی آئی کی اہم شخصیات نے برا منایا، وزیراعظم کو بتایا گیا یہ کوئی دشمن ہے، اسے برا بھلا بھی کہا گیا لیکن آج وقت ثابت کر رہا ہے کہ گذشتہ برس دیوانے کا نعرہ ٹھیک اور حق پر تھا۔ اگر اس وقت کام کیا ہوتا تو آج سٹیزن پورٹل کی شکایات پر کارروائی کی ضرورت پیش نہ آتی۔ آج بھی وفاق اور پنجاب کی متعلقہ وزارتوں سے رپورٹ طلب کی جائے کہ انہوں نے ایک سال کے دوران اشیائ خوردونوش کی آسان قیمتوں پر بلا تعطل فراہمی کے حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے ہیں تو حقیقت سامنے آ جائے گی کیونکہ دونوں جگہ ماسوائے مافیاز اور اپوزیشن کو الزام دینے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔پی ڈی ایم کو بھی اپنی تحریک چلانے کے لیے کسی عوامی مسئلے کی ضرورت تھی شروع میں اس تحریک کے قائدین نے ذاتی مسائل و اختلافات پر بات کی تو انہیں پذیرائی نہیں مل سکی لیکن کسی نے انہیں بتایا سمجھایا کہ آپ سب نیب زدہ ہیں، کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں، جیلوں میں ہیں کروڑوں اربوں کے مقدمات ہیں ان حالات میں اگر کوئی چیز عوام کو اشتعال دلا سکتی ہے کوئی چیز آپکے بیانیے کو مقبول بنا سکتی ہے تو وہ عوامی مسائل پر بات کرنا ہے۔ اب اپوزیشن نے مہنگائی پر بات کرنا شروع کر دی ہے روزانہ اس حوالے سے بات کی جاتی ہے اگر پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اپنے جلسوں میں اس مسئلے کو استعمال کرنے اور عوامی جذبات کو ابھارنے میں کامیاب رہے تو حکومت کے لیے مسائل بڑھیں گے۔ آنے والے دنوں میں آٹے کی قلت، گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوئی تو یہ عوامل اپوزیشن کو فائدہ ضرور پہنچائیں گے۔وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے نواز شریف پر غداری کے مقدمے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اچھا نہیں ہوا اسے ایشو بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سمیت کسی نے اس مقدمے کی حمایت نہیں کی۔ اسی مقدمے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کو بھی نامزد کیا گیا ہے ہم نے سائرن میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو سلام پیش کیا تھا جب کہ میاں نواز شریف پر ہونے والے مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی اسے غداری کے بجائے غیر ذمہ داری کا نام دیا تھا۔ ملک میں ایسی فضا افسوسناک ہے۔ اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے طرز عمل پر غور کرے ملکی سلامتی کے اداروں کو سیاسی جھگڑوں یا تنازعات میں الجھانے کے بجائے سیاسی میدان میں سیاسی لڑائی لڑیں انہیں کسی نے روکا نہیں ہے۔ البتہ اس سیاسی محاذ آرائی میں اداروں کو شامل کرنا کسی صورت درست عمل نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی اپوزیشن کو اس حوالے سے بہتر حکمت عملی کے تحت میدان میں نکلنا ہو گا۔ پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی دباﺅمیں لانے کے لیے مواد موجود ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خوشخبری سنائی ہے کہ ساتئیس میں سے اکیس نکات پر عمل کرنے سے پاکستان چند روز بعد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ اس قانون سازی پر ملک میں خاصی سیاست ہوئی ہے گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کی بڑی کامیابی ہو گی۔ وزیر خارجہ نے بھی اس حوالے سے خاصا کام کیا ہے۔ اپوزیشن نے کہیں ساتھ دیا تو کہیں مخالفت کی لیکن قومی مسائل پر سیاست دانوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حکومت کوئی بھی ہو قومی مفاد میں سب کو اتفاق رائے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاکستان کو اندرونی و بیرونی طور پر بیپناہ مسائل کا سامنا ہے ان مسائل کی بنیاد بھی آج کی اپوزیشن کی رکھی ہوئی ہے اور یہ عمارت بھی انہی کی تعمیر کردہ ہے اب اگر کہیں سے اصلاح ہو رہی ہے تو کم از کم ان معاملات میں تو سیاست سے گریز کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*