ہندوستانی ائیر چیف کا چین اور پاکستان کیساتھ جنگ سے متعلق بیان غیر زمہ دارانہ ہے ،پاکستان

FO-spokesperson-Zahid-Hafeez-Chaudhri

اسلام آ باد (آئی این پی) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی ائیر چیف کا چین اور پاکستان کے ساتھ جنگ سے متعلق بیان غیر زمہ دارانہ ہے ، ہندوتوا سوچ کا عکاس اور اشتعال انگیزی ہے ، بھارتی ائر چیف یاد رکھیں ان کی تیاری حال ہی میں لداخ میں بے نقاب ہوچکی ہیں، بھارت پاکستان قوم کے عزم اور مسلح افواج کی تیاری کا غلظ اندازہ مت لگائے ،کسی کی جانب سے بھی مس ایڈونچر سے پاکستان کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، بھارتی کی ریاستی دہشت گردی روزانہ بے نقاب ہورہی ہے ، بھارت خطے میں دہشت گردی کا سپانسر ہے، 431 روز گزرنے کے باوجود بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں، بھارت کے تمام ادارے ہندوانتہا پسندی کا شکار ہیں،سری نگرمیں قتل کیے جانےوالے وکیل بابرقادری کے قتل کی بھی جوڈیشل انکوائری کی جائے،18 جولائی میں بھارتی افواج نے 3 کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا، پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ ان تینوں کشمیریوں کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کی جائے۔جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صدرمملکت نے کویتی امیرشیخ الصباح کے انتقال پر تعزیت کیلئے کویت کا دورہ کیا، نئے کویتی امیرکے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے فروغ پربات چیت کی گئی،وزیرخارجہ نے اماراتی اور ترک وزیرخارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، وزیرخارجہ نے سعودی عرب، ملائیشیا، انڈونیشیا کے ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، پاکستان نے اقوام متحدہ کے 75ویں اجلاس میں شرکت کی،پاکستان کی شرکت اقوام متحدہ کے چارٹر پرہمارے عملدرآمد کی عکاس ہے ، سری نگرمیں قتل کیے جانےوالے وکیل بابرقادری کے قتل کی بھی جوڈیشل انکوائری کی جائے،18 جولائی میں بھارتی افواج نے 3 کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل کیا، پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ ان تینوں کشمیریوں کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کی جائے،بھارتی افواج نے خود ان ماورائے عدالت قتل کا اعتراف کیا، حالیہ تشدد میں شوپیاں میں مزید 2 کشمیریوں کو شہید کیا گیا، بھارتی افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کا سلسلہ جاری ہے، مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری 431 روزسے غیر قانونی محاصر ے میں ہیں، وزیراعظم نے جموں وکشمیر پرترک موقف کا شکریہ ادا کیا اور دورہ پاکستان کی دعوت دی، وزیراعظم نے سربراہ اجلاس سے خطاب کے علاوہ 4 فورمز پرشرکت کی، دفاع معاشی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا،ٹیلیفونک رابطوں میں باہمی تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا گیا، پاکستان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے عالمی برادری کو آگاہ کرتا رہتا ہے، بھارتی فوج محاصرے اور تلاشی کے دوران نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنارہی ہے، اقوام متحدہ کے تمام فارمز پر پاکستان فعال کردار ادا کررہا ہے،بھارت کی ریاستی دہشتگردی میں مزید 2 کشمیری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری 5 اگست کےغیر قانونی اقدامات کے 431 روز گزرنے کے باوجود بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں، بھارت کے تمام ادارے ہندوانتہا پسندی کا شکار ہیں، پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ مزدوروں کی ہلاکت پر وار کرائم کے تحت عالمی نگرانی میں تحقیقات کی جائیں، انہوں نے کہاکہ بھارتی کی ریاستی دہشت گردی روزانہ بے نقاب ہورہی ہے ، اس کا نام نہاد سیکولرازم کا چہرہ نے نقاب ہو رہا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بھارتی ائرفورس چیف کا چین اور پاکستان کے ساتھ جنگ سے متعلق بیان غیر زمہ دارانہ ہے اور ہندوتوا سوچ کا عکاس اور اشتعال انگیزیہے ، ان کو اپنے ملک کی دفاعی حدود کو زہن میں رکھنا چاہیے، بھارتی ائر چیف یاد رکھیں ان کی تیاری حال ہی میں لداخ میں بے نقاب ہوچکی ہیں، بھارت پاکستان قوم کے عزم اور مسلح افواج کی تیاری کا غلظ اندازہ مت لگائے ، پاکستان کسی بھی مس ایڈاوانچر کے لئے مکمل تیا رہے ، انہوں نے کہا کہ کلبھوشن سے متعلق تمام عدالتی احکامات پر عمل ہوتا ہے اور رپورٹ عدالت میں پیش کر دی جاتی ہے، کلبھوشن کیس میں بھارت بیوقوفانہ مطالبات کے باعث اپنی ساکھ کھو چکا ہے، بھارت کو بارہا بتایا گیا کہ پاکستانی قانون کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں رجسٹر وکیل ہی عدالتوں میں پیش ہوسکتا ہے، بھارت کا مقرر کردہ وکیل اٹارنی جنرل آفس سے کلبھوشن سے متعلق تمام داستاویزات حاصل کرسکتا ہے، کلبھوشن یادیو تک کسی بھی مداخلت کے بغیر قونصلر رسائی پہلے بھی دی گئی اب بھی دینے کو تیار ہیں، بھارت بار بار ایکسپوز ہوتا ہے،اسے چاہیے وہ ایسی حرکات سے باز رہے جس سے خطہ کا امن خطرہ میں پڑتا ہے،کسی کی جانب سے بھی مس ایڈونچر سے ریاست پاکستان کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، سیاسی اور عسکری قیادت کے رابطے پاکستان کو کسی بھی جارحیت سے بچانے کے لیے ہی ہوتے ہیں، انہوں نے کہاکہ روزویلٹ حکومت پاکستان کا اثاثہ ہے، روز ویلٹ ہوٹل بند ہونے سے متعلق پی آئی اے حکام ہی بتا سکتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*