قوم کو منشیات کے زہر سے پاک کرنا وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہے

وفاقی وزیر انسداد منشیات اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ قوم کو منشیات کے زہر سے پاک کرنا وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہے افغانستان میں پیدا ہونے والی اسی فیصد منشیات بلوچستان کے زمینی راستوں سے آتی ہے منشیات کا زہر معاشرے اور تعلیمی اداروں میں پھیل چکا ہے، نواز شریف اور آصف زرداری نہلے پے دہلے ہیں سیاسی چوروں کو قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا سیاسی چوروں نے منشیات کی طرح ملک کو تباہی سے دوچار کیا ہے دونوں بڑے چور آپس میں ملے ہوئے ہیںبلوچستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرست جماعتےں ستر سالوں سے حکومت مےں شامل جماعتوں کے برابر شرےک ہےںصوبے کی پسماندگی کے ذمہ دار دو بڑی جماعتوں کے ساتھ قوم پرست جماعتےں بھی ہےں، مغربی روٹ سمےت بلوچستان مےں بڑے پروجےکٹ پر کام جاری ہے، جلد عوام استفادہ حاصل کرےنگے‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز کوئٹہ پرےس کلب مےں ڈپٹی سپےکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کے ہمراہ پرےس کانفرنس میں کیا۔
وفاقی وزیر انسداد منشیات اعظم خان سواتی کا مذکورہ بالابیان حقیقت پر مبنی ہے ،منشیات جو کہ قوم کی تباہی میں ایک زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے اس کی روک تھام اور خاتمے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کا وژن واضح ہے ۔اس معاشرتی برائی کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر ہو تا ہے آج کل چھوٹی عمر کے بچے بھی مختلف قسم کی منشیات کے عادی ہو تے جا رہے ہیں ان میں سیگریٹ ، چرس ، شیشہ اور آئس قابل ذکر ہیں جو کہ ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو برباد کر کے ان کو ذہنی معذور بناتی ہیں اور نوجوان جو کہ کسی بھی ملک و قوم کا سرمایہ ہو تے ہیں کی صلاحیتوں کو ختم کر کے ان کے مستقبل کو تاریک کر تی ہیں ۔
یہ ضروری ہے کہ منشیات کی روک تھام بلکہ خاتمے کیلئے افغانستان میں پیدا ہونے والی80 فیصد منشیات بلوچستان کے زمینی راستوں سے آتی ہے اس راستے کی کڑی نگرانی کر کے اسکی سمگلنگ کو روکا جائے تاکہ ہمارے ملک کے نوجوانوںکو اس کی پہنچ سے روک کیا جا سکے اور منشیات کا زہر جو کہ ہمارے معاشرے اور تعلیمی اداروں میں پھیل چکا ہے اس پر قابو پا کر ایک باوقار اور با صلاحیت نسل کو پروان چڑھایا جا سکے ۔ نو جوان جن میں ملک و قوم کا نام روشن کر نے کی بھرپور صلاحیت موجو د ہے ان کو اپنی تعلیمی سر گرمیوں پر توجہ دینی چاہئے اور ان معاشرتی برائیوں سے دور رہنا چاہئے تاکہ ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں وہ اپنا کردار ادا کر سکیں۔
اس معاشرتی لعنت کی روک تھام صرف فرد واحد کا کام نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن کو قومی مفاد میں اس کے خلاف ملکر کردار ادا کرنے اورسیاسی اختلاف کو پس پشت ڈال کر ملک و قوم کیلئے ایک پیج پر آ نے کی ضرورت ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*