شبلی فراز کی غلط فہمی اور مہنگائی کا جن!!!

محمد اکرم چودھری
وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز بھی شاید وزارت کے رنگ میں رنگے گئے ہیں یا وہ یہ جان چکے ہیں کہ جھوٹ بولنے یا غلط بیانی میں ہی عافیت ہے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ سمجھتے ہوں کہ وزیر اطلاعات کے ذمہ صرف ڈی فوکس کرنا ہوتا ہے یا انہیں یہ بتایا گیا ہے کہ اتنا جھوٹ بولیں کہ سننے والے سچ سمجھنا شروع کر دیں لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ جھوٹ فطری اصولوں کے خلاف ہے اور جھوٹ بول کر یا مسلسل جھوٹ بول کر کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی نا ہی آج کے جدید دور میں کسی کو زیادہ دیر تک بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ آج کے تو بچے بھی اتنے تیز ہیں کہ وہ چکروں میں نہیں آتا الٹا آپکو چکر دے جاتے ہیں۔ یہ تو حقیقت ہے لیکن وزیر اطلاعات کے لیے حقیقت کی دنیا میں رہنا ممکن ہی نہیں ہوتا اس لیے وہ ہواﺅں میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور ہوائی باتیں کرتا رہتا ہے۔ ایسی ہی بات انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے وزیر موصوف نے مہنگائی کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے علاوہ تمام اشاریے ٹھیک ہیں۔
وزیر موصوف کو اس سے کچھ غرض نہیں کہ ستانوے فیصد عوام کا مسئلہ مہنگائی ہے۔ اگر ستانوے فیصد کے لیے زندگی تنگ ہوئی ہے تو وہ کون سے اشاریے درست بتا رہے ہیں۔ یہ کیسے اشاریے ہیں کہ درست ہیں اور لوگ بھوک سے تنگ ہیں۔ ایسے اشاریوں کی درستگی سے کا کوئی فائدہ نہیں کہ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہو چکی ہے اور وفاقی وزیر ایسے بیانات دے کر عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔
چینی ایک سو پندرہ روپے فی کلو پر پہنچ چکی ہے حکومت کی توجہ کا یہی عالم رہا تو ا?ٹا سو روپے فی کلو تک پہنچ جائے گا۔ ان حالات میں اگر ملک وزیر اطلاعات یہ بیان دے کہ مہنگائی کے علاوہ تمام اشاریے درست ہیں تو اس سے پہلی فرصت میں استعفیٰ لے لینا چاہیے۔ وزیر موصوف اپوزیشن کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں وہ کسی سمجھدار کے پاس بیٹھیں اور اگر وہ سمجھداری سے کام لیں تو یہ غلط فہمی دور ہق جائے گی کہ مہنگائی کی ذمہ دار اپوزیشن ہے یا پھر پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم آٹا اور چینی باہر سے منگوا رہے ہیں کیا یہ چینی اور آٹا بھی اپوزیشن کے حکم یا اپوزیشن لیڈر کی اجازت سے ایکسپورٹ یا سمگلنگ کی اجازت دی تھی، کیا قیمتوں میں اضافہ بھی اپوزیشن کی تجویز پر کیا جاتا ہے، کیا ہے یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاء خوردونوش مہنگی کرنے کی سمری بھی اپوزیشن کی مرضی سے تیار ہوئی ہے۔ کیا ڈاکٹر فیصل نے ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان بھی اپوزیشن سے مشاورت کے بعد کیا تھا۔ کیا ادرک کی قیمتیں اپوزیشن نے بڑھائی ہیں، کیا رمضان المبارک میں مہنگے لیموں اپوزیشن نے بیچے ہیں، کیا ان دنوں ادرک آٹھ سو روپے فی کلو تک اپوزیشن کے کہنے پر ہوا ہے۔ کیا ہری مرچوں کی قیمتیں بھی اپوزیشن نے بڑھائی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور میاں نواز شریف کی مسلم لیگ نے ملک کے اداروں کو تباہ کیا ہے۔ معیشت کو برے حال میں چھوڑا ہے، انہوں نے لوٹ مار کا بازار گرم رکھا ہے، ذاتی مفادات کے لیے ملک کی بنیادوں کو کمزور کیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اشیاء خوردونوش کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کی ذمہ دار بھی اپوزیشن ہے۔ مہنگائی کی سو فیصد ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ مہنگائی حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ذمہ دار وزراء ہیں۔ وزرا آج تک مارکیٹ میکنزم کو نہیں سمجھ سکے، ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے فارمولے کو نہیں سمجھ سکے، قیمتوں کے تعین کا کیا طریقہ کار ہونا چاہیے اس حوالے سے کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ نا کسی نے کام کیا ہے نہ سمجھنے کی کوشش کی ہے نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وزراء مہنگائی کو مسئلہ سمجھتے ہی نہیں ہیں کیونکہ اکثریت کا عوام سے براہ راست تعلق ہی نہیں ہے نا وہ عوامی مسائل سے واقفیت رکھتے ہیں نا انہیں پھل و سبزیوں کے مہنگے ہونے کا علم ہے نا انہیں کوئی فرق پڑتا ہے۔ یہی وجہ کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ وزراء کی ذمہ داری یا دلچسپی کا تو یہ عالم ہے کہ سب بیانات دیتے رہے کہ چینی مہنگی نہیں ہو گی اور ہم لکھتے رہے کہ چینی ایک سو بیس روپے فی کلو ہونے والی ہے حکومت مل کر تمام تر اختیارات اور طاقت کے باوجود چینی کو ایک سو بیس پر جانے سے نہیں روک سکی اور ہم اکیلے لکھتے لکھتے چینی کو ایک سو بیس روپے پر لے گئے ہیں۔ نالائقی و نااہلی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔ چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہی شبلی فراز کے بگڑے اشاریے کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی ہے۔
حکومت عوام کی بہتری کے لیے ہوتی ہے، عوامی مسائل کا حل اولین ترجیح ہے۔ جب تک عام آدمی کی زندگی آسان نہ ہو حکومت اس کی ضروریات پوری نہ کر سکے کسی قسم کی پالیسیوں میں استحکام ممکن نہیں ہے۔ شبلی فراز کو خبر ہو کہ لاہور کی تھوک مارکیٹ میں چینی کی قیمت پچانوے روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ چکیوں پر آٹے کی قیمت پچاسی روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق کے مطابق تھوک میں چاول باسمتی (سپر کرنل) ایک سو پینتیس روپے گڑ ایک سو بیس روپے، سفید چنے پچانوے روپے، سیاہ چنے ایک سو بیس روپے، دال چنا ایک سو تیرہ روپے، مونگ ثابت دو سو روپے ، دال مونگ دھلی ہوئی دو سو پانچ روپے،ماش ثابت دو سو روپے، دال ماش دھلی ہوئی ڈو سو دس روپے اور بیسن ایک سو بیس روپے فی کلو تک فروخت ہوا۔سرکاری طور پر جاری نرخوں کے مطابق سیب گاچہ ایک سو پانچ روپے ،جاپانی پھل بیاسی روپے،آڑو ایک سو روپے ،امرود پچپن روپے فی کلو اور کیلے کی فی درجن ستاسی روپے رہی۔
شبلی فراز اور ان کی کابینہ کی اصلاح کے لیے یہ قیمتیں پیش ہیں۔ یاد رہے ان قیمتوں میں ہر دکاندار اپنی مرضی کے مطابق اضافہ کرتا ہے کیونکہ ایک تو قیمتوں کے تعین کا نظام درست نہیں ہے دوسرا سرکاری نرخوں پر خود سرکار کوئی چیز نہیں خرید سکتی یہ سرکاری نرخنامے سوائے دھوکے اور غلط فہمی کے کچھ نہیں ہیں۔ بڑے سٹوروں پر ان قیمتوں میں سو فیصد تک اضافہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ حکومت کے دیکھتے دیکھتے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوئی ہیں۔ اس کا الزام اپوزیشن کو دے کر حکومت اپنی غلطیوں کو چھپا نہیں سکتی اس شعبے میں کوئی کام نہیں کیا گیا اور حکومت اب بھی اس طرف توجہ دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔ آنے والے دنوں میں حزب اختلاف کی جماعتیں سڑکوں پر ہوں گی تو یاد رکھیں حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہی مہنگائی ہو گا اگر حزب اختلاف نے حکومت کو دباﺅمیں لانے کے لیے اپنی توجہ مہنگائی پر رکھی تو اس وقت تمام ٹھیک اشاریے اس ایک مہنگائی کے نیچے دب جائیں گے پھر یہ بھی پتہ نہیں چلے گا کہ ان اشاریوں میں شبلی فراز اور ان جیسے دیگر وزراء بھی دب گئے تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا مہنگائی کا جن سب کو کھا جائے گا۔ جھنڈوں والی گاڑیاں بھی کھا جائے گا، پروٹوکول اور سرکاری سٹاف کو بھی کھا جائے گا پھر درست اشاریے کام نہیں آئیں گے اگر حکومت اپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنانا چاہتی ہے تو اس کے لیے صرف مہنگائی کا اشاریہ ٹھیک کرنا ہو گا۔ شبلی فراز کے پاس وقت ہو تو ضرور سوچیں کہ گذشتہ دو برس میں حکومت نے عوام کے لیے کچھ کیا بھی ہے یا نہیں۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ آمدن میں کمی ہوئی ہے اور جیسے جیسے مہنگائی بڑھ رہی ہے قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔
اس میں توازن پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کم از کم اشیاء خوردونوش کا پرانی قیمتوں پر واپس جانا ہی فوری سہولت فراہم کر سکتا ہے۔ حکومت کے لیے اچھی خبر نہیں کہ حزب اختلاف نے اشیاء خوردونوش پر گفتگو شروع کر دی ہے گذشتہ کچھ دنوں کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن کے سیاست دان مسلسل مہنگائی پر بات کر رہے ہیں گذشتہ روز بھی شاہد خاقان عباسی نے مہنگائی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ان سے پہلے مریم اورنگزیب نے اس حوالے سے تفصیلی گفتگو کی امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے عام آدمی کے مسائل پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہیں جبکہ اس موومنٹ میں شامل دیگر جماعتوں میں بھی قد آور سیاست دان شامل ہیں یہ ممکن نہیں ہے کہ احتجاجی تحریک میں عوامی مسائل کے بجائے دیگر موضوعات پر گفتگو کی جائے۔ اپوزیشن عوامی مسائل پر اپنے ووٹرز کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کرے گی۔ شاہد خاقان عباسی نے ن لیگ کی قیادت ہر درج ہونے والے غداری کے مقدمے کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔ اس معاملے میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو بھی الجھانے کی کوشش کی گئی۔ جس شہری کی درخواست پر ایف آئی آر درج ہوئی ہے اس کی گورنر پنجاب کے ساتھ تصاویر کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور ایک عوامی شخصیت ہیں وہ جہاں بھی جائیں لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں۔
انہوں نے اپنی جماعت کے اندر رہتے ہوئے بھی ہمیشہ ایسی سوچ، اقدامات اور فیصلوں کی مخالفت کی ہے۔ وہ سیاست دانوں کے ساتھ سیاسی بات چیت کے قائل ہیں۔ انتقامی سوچ نہیں رکھتے وہ سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتے ہیں ان جیسے سادے سیاست دان کو ایسے منفی کاموں میں الجھانا مناسب نہیں ہے ان کی طرف سے تردید جاری ہوئی ہے جبکہ پف آئی آر کروانے والے نوجوان کے ساتھ گورنر پنجاب کی تصاویر بھی سامنے ا?ئی ہیں۔ اب جھیل میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے لیے کوئی کشش نہیں ہے کیونکہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ صاف ستھری جھیلوں میں پتھر پھینکتے گذر گیا ہے۔ وہ ملکی سیاست میں مثبت کردار کے خواہشمند ہیں ان کی فاﺅنڈیشن بھی دکھی انسانیت کی خدمت کرتی رہتی ہے لیکن مستقبل میں انہیں تصاویر کے معاملے میں احتیاط ضرور کرنی چاہیے۔
غیر ملکی گندم پاکستان پہنچ چکی ہے۔ بیرون ملک سے آئی یہ گندم ہمارے کیے بہت بڑا سبق ہے ان فیصلہ سازوں کے لیے سبق ہے جو ملک کو اس نہج پر لے آئے ہیں کہ ہمیں گندم امپورٹ کرنا پڑ رہی ہے۔ یہ باعث شرم ہے۔ اللہ کرے ملک پر دوبارہ ایسا وقت کبھی نہ آئے اگر گندم امپورٹ کرنے کا یہ سلسلہ چلتا رہا تو حالات بے قابو ہو جائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*