ا حتساب سب کا ہو نا چا ہیے صرف سیاستدانوں کا نہیں، محمود خان اچکزئی

کوئٹہ ( آئی این پی )پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ا حتساب سب کا ہو نا چا ہئیے صرف سیاستدانوں کا نہیں، جب تک ملک میں آئین کی بالادستی نہیں ہو گی اس وقت تک درپیش مشکلات و چیلنجز کا خا تمہ ممکن نہ ہو گا ،سیاسی و جمہوری قوتیں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے کردارادا کرتی رہیں گی، پاکستان ہمارا ملک ہے کوئی ہمیں یہ نہ سکھائے کہ آزادی اور وطن کی محبت کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں آئین کی بالادستی ، جمہوریت کی مضبوطی کے لئے جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل تحسین ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے غیر ملکی خبر رساںادارے کے ساتھ ایک انٹر وویو میں کیا ۔محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ان قوتوں کے خلاف جدو جہد کر تی رہے گی جوملک میں آئین اور قانون کی بالادستی اور پاسداری سے انکا ری ہے، انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پا کستان میں مو جو دتمام اقوام یکساںحقوق رکھتے ہیں اس لئے ملک کو چلانے کے لئے عوام اور تما م اداروں کو آئین کی پاسداری کرنا ہوگی، انہوں نے کہا کہ ملک میں عوام اور اقوام کو آئین ہی نے یکجا کیا ہے اگر آئین نہ ہو تو عوام اور اقوام ایک ساتھ رہنے کو تیار نہ ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی ترقی یا فتہ ممالک کی تیز رفتار ترقی کی ضا من ان ممالک کے ہر ادارے کا ملک کی آئین و قانون کی پاسداری کرنا ہے مگر بدقسمتی سے یہاںآئین و قانون کی پاسداری نہیں کی جا رہی ۔انہوں نے کہا کہ ہرفو جی اور جرنیل سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کا حلف لیتا ہے مگر بدقسمتی سے سیاست میں مداخلت کا سلسلہ جاری ہے ۔ دنیا کا کوئی بھی ملک فوج اور اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا ہماری ایجنسیاں بھی دیگر ممالک کی ایجنسیوں کی طرح باصلاحیت ہونی چاہےے تاہم انہیں سیاست میں مداخلت نہیں کرنا چا ہیئے ۔ انہوں نے کہاکہ فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہےے آئین اس فیڈریشن کے قوموں کے بیچ ایک دستاویز ہے جس میں پشتون ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی و دیگر شامل ہیں ہم ایک دوسرے کے مادری زبانوں کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی ہماری تاریخ و ثقافت یکساں ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ جب ادارے آئین کی پاسداری نہیں کرے گی تو ملک کی بنیادیں کمزور ہوں گی ۔احتساب صرف سیاستدانوں کا نہیں بلکہ ان تمام طبقات کا ہونا چاہےے جنہوں نے کرپشن کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عدم مداخلت کی پالیسی اپنا تے ہو ئے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کو فروغ دینا ہو گا عدم مداخلت کی پا لیسی کو عملی کئے بغیر خطے میںامن و امان کا خواب، خواب ہی رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ 40سال سے افغانستان میںجنگ جاری ہے پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کہہ رہے ہیں کہ ہم مداخلت نہیں کررہے ہیں حا لا نکہ جنگ کسی پڑوسی ملک کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا راستہ پنائے بغیر خطے میں امن و خوشحالی نہیں آسکتی ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*