امرود،لذت بھرا پھل

امرود فروٹ چاٹ کی شکل میں کھایا جائے یا سادہ،لیموں یا چاٹ مصالحہ چھڑک کے یہ پھل بہت ذائقہ دیتا ہے۔ یہ ایک اہم سدا بہار پودا ہے جس کی کاشت گرم مرطوب اور معتدل آب و ہوا والے علاقوں میں ہو رہی ہے۔ سب سے پہلے یہ جنوبی امریکہ میں پایا گیا تھا۔ وہیں سے دنیا بھر میں پھیلا۔ یہ پودا ہر قسم کی زمین اور آب وہوا میں اگنے کی صلاحیت کی وجہ سے اہم تجارتی پھل کی حیثیت رکھتا ہے۔
امرود کی غذائی اہمیت۔غذائی اعتبار سے یہ پھل نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وٹامن Cکا بادشاہ اور قیمتاً سستا ماخذ تسلیم کیا جاتا ہے۔ 100امرود میں 91ملی گرام وٹامن Cموجود ہے۔اس کے علاوہ امرود میں اعلیٰ قسم کی Pectinبھی پائی جاتی ہے۔
امرود کی کاشت کاری۔اس پھل کا پودا ہر قسم کی زمین میں اگایا جا سکتا ہے۔اس کا درخت بھاری زمین سے لے کر ہلکی ریتیلی زمین تک اگایا جاتا ہے۔یہ نیم گرم مرطوب آب وہوا میں خوب پرورش پاتا ہے۔چھوٹے عمر کے پودوں کے لئے شدید سردی نقصان دہ ہوتی ہے اس لئے تین سے چار سال کی عمر تک کے پودوں کو سردی سے بچانے کے لئے ڈھانپ دیا جانا چاہئے۔ہوا روکنے والی باڑیں بھی پودوں کو گرم لو اور سرد ہوا¶ں کو روکنے میں کافی مدد دیتی ہیں زیادہ بارش بھی پھل کی خاصیت کو نقصان پہنچاتی ہے جس سے پھل پھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔
امرود کے پودے لگانے کا بہترین موسم اگست ستمبر ہے۔فروری مارچ میں لگائے گئے پودے جون کی گرمی میں سڑ جاتے ہیں۔پودا لگاتے ہی پانی دینا ضروری ہے اور ہر پودے کا درمیانی فاصلہ 6میٹر رکھنا نہایت ہی موزوں اور ضروری ہوتا ہے۔جو ان پودوں کو پھل لگنے پر زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پودے سال میں دو مرتبہ پھل دیتے ہیں۔ اس لئے ان کی صحت بر قرار رکھنے کے لئے نائٹروجن کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر آپ گوبر کی کھاد دینا چاہیں تو اس کے لئے دسمبر جنوری بہتر مہینے ہیں۔کیمیائی کھادوں میں ایمونیئم فاسفیٹ اور سیلفیٹ دونوں ہی موزوں ہیں۔
پاکستانی امرودوں کی اقسام۔ان قسموں کو گودے اور مخصوص علاقے جہاں یہ پیدا ہوں ان کے نام دئیے گئے ہیں۔مشہور قسم”سفیدہ“ ہے۔اس کے پھل گول،چھلکا صاف اور ذائقہ کافی لذیذ اور میٹھا ہوتا ہے۔
’چتی دار‘قسم کے امرود پر چھوٹے چھوٹے سرخ نشان ہوتے ہیں اور اس کا ذائقہ بھی شیریں ہوتا ہے۔’حفصی‘یہ گول امرود ہیں اور ان کا گودا سرخ ہوتا ہے۔یہ بہت زیادہ مٹھاس نہیں رکھتا۔’کریلا‘اس قسم کے پھل کی شکل ناشپاتی سے ملتی ہے۔ اس کا چھلکا کھردرا اور گودے کا رنگ سرخ یا سفید ہوتا ہے اور ایک قسم Seedlessبھی ہے جس میں بیج نہیں ہوتے۔
یہ فی الحال تجارتی پیمانے پر کاشت نہیں ہوتا خیبر پختون خوا میں خولا اور صراحی دو اقسام شامل ہیں۔امرود سال میں دو مرتبہ بار آور ہوتا ہے۔ایک فصل موسم گرما جولائی تا اگست اور دوسری موسم سرما جنوری فروری میں حاصل ہوتی ہے۔
امرود کی غذائیت اور فوائد۔یہ فرحت اور قوت بخش پھل ہے۔دل،معدے،جگر اور قوت ہاضمہ کے لئے مفید ہے۔
بھوک بڑھاتا ہے۔دماغ کو تر رکھتا ہے اس کے پتے دستوں اور زخموں میں مفید ہیں۔اس کی کونپل نمک لگا کر کھانے سے کالی کھانسی میں فائدہ ہوتا ہے۔اگر اس کے پتوں کے جوشاندے میں پھٹکری ڈال کر کلی کی جائے تو دانتوں کے درد میں آرام آتا ہے۔امرود میں وٹامن B،C،کیلشیم،آئرن، پوٹاشیم،پانی اور کاربوہائیڈریٹس جیسے عناصر شامل ہیں۔
امرود کی مصنوعات۔اس پھل کو سادہ انداز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً چاٹ بنا کر یا صرف نمک اور کالی مرچ پسی ہوئی چھڑک کر بھی کھایا جاتا ہے اور جیم، جیلی،جوس،نیکٹر ڈبوں میں بند کرنے اور مٹھائی بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جنہیں بچے اور بڑے سب ہی شوق سے کھاتے ہیں۔
٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*