یہ نیا طرزِ مسیحائی ہے

پروفیسر خالد محمود ہاشمی
عام پاکستان معاشی اپ ڈیٹ سے بے خبر ہے اسے مہنگائی کی شرح 8.86 فیصد ہونے کا علم نہیں وہ ترسیلات زر سے بھی ناواقف ہے۔ اسے اس سے بھی مطلب نہیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر 19.9 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ وہ تو بازارمیں اپنی جیب میں نقدی کا اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں سے موازنہ کرتا ہے جب ، جس تاجر یا دکاندار کا دل چاہتا ہے قیمتوں میں من چاہا اضافہ کر لیتا ہے۔ پرائس کنٹرولنگ والے ادارے انٹی کرپشن کی طرح کرپشن کے آگے بے بس ہیں۔ گھوسٹ پنشنروں ، سرکاری ملازموں ، سکولوں کی طرح مہنگائی بھی خودساختہ ہے۔ مہنگائی میںکمی کی توقع خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ سیاسی گرماگرمی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اکاﺅنٹس ہولڈرز کو جعل ساز بھی کہا جا سکتا ہے۔
اجتماعی استعفوں کی گونج بھی سنائی دے رہی ہے۔ سیاسی گرما گرمی معیشت کا جمود اورافراتفری کا ماحول کسی کے مفاد میں نہیں۔
قوم مارشل لاﺅں ، پابندیوں ، کوڑوں اور سانحوں کا مزہ کئی بار چکھ چکی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش ہو رہی ہے۔
امریکہ کسی صورت بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور سی پیک کی کامیابی نہیں چاہتا۔ گلگت بلتستان قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ کراچی صوبے کا مطالبہ دہرایا جا رہا ہے۔ اندرون سندھ زرداری کا راج ہے۔ کراچی پر متحدہ کا غلبہ ہے صرف اپوزیشن ملک کا مسئلہ نہیں۔
کوئی کسی کی اینٹ سے اینٹ نہیں بجا سکتا۔ سیاست دانوں نے بہت غلطیاں کی ہیں۔ ان کا ازالہ بھی وہ خود ہی کریں گے۔ چیف جسٹس کی آبزرویشن ہے کہ بلوچستان کو کھربوں روپے کا بجٹ ملتا ہے۔ 80 فیصد کھا لیا جاتا ہے۔ سکولوں میں باڑے بنے ہوئے ہیں۔
بلوچستان کا پیسہ پتہ نہیں کہاں استعمال ہوتا ہے۔ حکومت پابند ہے کہ منصف اعلیٰ کے ریمارکس کا جواب دے۔ حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ بروقت فیصلے نہیں کئے جاتے۔ حکومت کا کام بیانات دینے اور الزامات دھرنے سے آگے بھی کچھ ہے۔
کراچی اور لاہور میں صفائی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ ماضی میں ہر کام کے لئے کمپنیاں بنائی گئیں اور ٹھیکیداروں کے پیٹ بھرے گئے۔
کارکردگی کے لئے رپورٹیں چھاپنے کی ضرورت نہیں۔
وہ خود ہی دکھائی دیتی ہے۔ کبھی پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو کبھی ادویات 20 کلو آٹا تھیلا کی سرکاری قیمت 860 روپے مقرر ہے۔
کسی بازار میں اس ریٹ پر آٹا دستیاب نہیں۔ چکی پر تو آٹا 80 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ ادرک 800 روپے فی کلو ہے۔
سبزیاں اتنی مہنگی کہ پہنچ سے باہر ہیں۔ ناجائز منافع خور ذخیرہ اندوز مارکیٹ کمیٹیوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ خدا جانے مہنگائی سے ریلیف کب ملے گا؟ عام آدمی کو تو یہ بھی پتہ نہیں کہ مافیا کیا ہوتا ہے؟
آئی ایم ایف کا اصرار ہے ہم سبسڈیز ختم کریں۔ حکومت پہلے ہی غیر ضروری سبسڈیز کے خاتمے پر کام کر رہی ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز پر حکومت نے پہلے ہی سبسڈیز تقریباً ختم کر دی ہیں۔ اگر بجلی اور گیس سے سبسڈی بھی ختم کر دی گئی تو کم وسیلہ افراد پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
پاکستان کے لئے اس وقت دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنا اہم مسئلہ ہے۔ بھارت دہشت گردوں کی سہولت کاری کرنے اور منی لانڈرنگ کرنے والا ایسا ملک ہے جس نے 44 بینکوں کے ذریعے 1.53 کھرب ڈالر سے زیادہ کی منی لانڈرنگ سمیت کئی سنگین جرائم کئے ہیں۔ لیکن وہی ہمیں بلیک لسٹ میں ڈلوانے پر ت±لا ہوا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کا ایک کھرب ڈالر سرمایہ فرار ہو رہا ہے۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے معیارات کے مطابق کئی تنظیموں پر پابندیاں لگا چکا اور گرفتاریاں کر چکا ہے۔ پاکستان سرمائے کے فرار کے ہر طریقے کو اپنے قومی مفاد کے منافی سمجھتا ہے۔ شہباز شریف گرفتار زرداری پر فردِجرم عائد ہو چکی ہے۔ شہباز، حمزہ (باپ بیٹا) دونوں قائد حزب اختلاف دونوں ہی کرپشن الزامات میں گرفتار ہیں۔ شہباز شریف نے ہمیشہ اپنی برات میں یہی لفظ کہا کہ کسی کمیٹی سے ایک دھیلا میرے اکاﺅنٹ میں نہیں آیا جبکہ نیب کے نزدیک شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کے لئے جعلی کمپنیاں بنا رکھی تھیں ،اثاثوں میں 22 گنا اضافہ کیا۔ نیب کے پاس منی لانڈرنگ کی مکمل تفصیلات موجود ہیں لیکن شہباز شریف کا اصرار ہے کہ نیب والے 250 سال میں بھی کرپشن ثابت نہیں کر سکتے۔ موجودہ طرزِ سیاست کا نتیجہ نامعلوم ہے۔ 1954ءبھی کیا دور تھا۔ نومولود پاکستان کا بچپنا تھا۔ اکنامک گروتھ ریٹ 10.22 فیصد تھا۔ 1958ء سے 1969ء کے ایوبی آمریت کے دور میں مینوفیکچرنگ گروتھ 8.5 فیصد رہی۔ دوسرے بڑے آمر ضیاء الحق کے دور 1977ء تا 1988ء میں گروتھ ری 6.5 فیصد تک آ گیا۔ 2002ء سے 2007ء تک گروتھ ریٹ اوسطاً 7 فیصد رہا۔ 1952ء اور 2020 ء دو سال ایسے ہیں جب جی ڈی پی گروتھ ریٹ صفر رہا۔ 60 کی دہائی میں افراط زر کی شرح 3 فیصد رہی۔ 1957ء سے اب تک افراط زر کی شرح اوسطاً 7 فیصد رہی۔
اداروں کیخلاف بولنے والے ملک و قوم سے مخلص نہیں ہو سکتے: وزیر اعلیٰ پنجاب
پی آئی اے کو 73 ارب روپے کا خسارہ جمع کرنے میں 61 سال لگے۔ صرف 2008ء سے 2019ء تک پی آئی اے 400 ارب روپے کے نقصان میں چلا گیا۔ یہ سچ ہے کہ خطے میں ہمارے بجلی کے نرخ اور شرح سود سب سے زیادہ ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح تو دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔ سرکاری پیداواری ادارے سالانہ 700 ارب روپے کے قرضے پر چل رہے ہیں۔ حکومت 900 ارب سالانہ گرانٹس اور 200 ارب روپے سبسڈیز پر لٹا رہی ہے۔ سالانہ خسارہ 1800 ارب روپے ہے۔
پرائیویٹ سکول کالج یونیورسٹیاں ہسپتال قابلِ رشک ترقی کر رہے اور منافع کما رہے ہیں۔ سرکاری اداروں کو خسارے کی بیماری کیونکر لگی۔ اس بیماری کا علاج کسی شوکت خانم میں بھی ممکن نہیں۔
اس بیماری کی دوائیاں پیسہ اور صرف پیسہ ہے۔ ملکی درآمدی گندم کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ملکی گندم فی من سوا تین سو اور درآمدی گندم ساڑھے اکیس سو روپے تک جا پہنچی۔ وفاق نے جولائی میں گندم پر ساٹھ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور ٹیکس ختم کئے۔ موسم سرما میں ملک بھر میں گیس کی کمی 1.5 بی سی ایف ڈی ہونے کا امکان ہے۔ صنعتیں اس بحران کے حل کے لئے مختصر ، متوسط اور طویل مدتی حل پیش کر چکی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*