پاک فوج کے خلاف بھارت کی ففتھ جنریشن وار

اسد اللہ غالب
ہم اکہتر میں واپس چلے گئے ہیں۔ کردار وہی ہیں، صرف نام بدلے ہیں۔اندرا گاندھی کی جگہ نریندر مودی ہے۔ شیخ مجیب ،مولانا بھاشانی،تاج الدین احمد، ٹائیگر عثمانی،نذر الاسلام ،منصور علی، ونگ کمانڈر خوندکر پاکستانی افواج کے خلاف بر سر پیکار تھے۔ ان میں سے کچھ تو کلکتہ جا پہنچے کہ جلاوطن حکومت کی تشکیل کر لیں، جنرل اروڑہ کے سٹاف افسر جنرل جیکب نے اپنی کتاب۔۔ ایک قوم کا جنم۔۔ کے صفحہ چالیس پر لکھا ہے کہ ہم نے بڑی کوشش کی کہ کچھ منتخب عوامی لیگی بھی وہاں آ جائیں مگر ہمیں اس میں کامیابی نہ ہوئی کہ عوامی لیگی ارکان کی اکثریت علیحدگی کے لئے تیار نہ تھی۔ اور وہ اپنی قیادت کے بیانیے کے ساتھ رضا مند نہ تھے۔
اداروں کیخلاف بولنے والے ملک و قوم سے مخلص نہیں ہو سکتے: وزیر اعلیٰ پنجاب
آج میدان میں نواز شریف ہے، بلاول بھٹو ہے، مولانا فضل الرحمن ہے اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کی ایک بڑی کھیپ پاک فوج کے خلاف زہر اگل رہی ہے۔ مگر ایک فرق کے ساتھ کہ ان کی کوئی مکتی باہنی میدان میںنہیں ہے اور نہ ابھی وہ سرحد پار کر کے امرتسر یاجالندھر جا پہنچے ہیں ایک فرق اور بھی ہے کوئی سپر پاور کھل کر ان کی پشت پرنہیں ہے۔
جیسا کہ اکہتر میں سویت روس مکمل پشت پناہی کر رہا تھا اور امریکہ نے خاموش رہ کر ان کے مذموم ارادوں کی تکمیل میں کردارا دا کیا تھا۔تب بھی الیکشن پر جھگڑا تھا اورا ٓج بھی الیکشن نشانے پر ہے اور اس کے لئے پاک فوج کو مطعون کیا جا رہا ہے۔
اکہتر میں جو الیکشن ہوا تھا، اس کے نتیجے میں مجیب کو مشرقی اور بھٹو کو مغربی صوبے میں اکثریت ملی تھی مگر یہ الیکشن آل پاکستان کی بنیاد پر ہوا تھا اس میں دو وزیرا عظم نہیںبن سکتے تھے جبکہ بھٹو نے واضح طور پر کہا کہ ادھر ہم اور ادھر تم۔
مشرقی پاکستان میں فوجی ا?پریشن جنرل ٹکا خان نے کیا،اس پر بھٹو نے کہا تھا کہ شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا۔اسی ٹکا خاں کو بھٹو نے آرمی چیف بنایا اور اس آرمی چیف گل حسن کو اغوا کے دوران برطرف کر دیا جس نے بھٹو کو مسند اقتدار پر بٹھایا تھا۔ ٹکا خان کو بعد میں گورنر بنایا گیا ا ور پارٹی کا سیکرٹری جنرل بھی بنایا،یہ کس احسان کا بدلہ اتاراگیا، کن خدمات کا صلہ دیا گیا۔
بھٹو کے لئے ڈیڈی ایوب خان اچھا تھا کہ ا سنے وزیر بنایا۔ بھٹو کو ضیا لحق بھی اچھا ہی لگا تھا کہ کئی جرنیلوںکوسپر سیڈ کیا۔ مگر ستتر کے الیکشن میں دھاندلی پر قوم سڑکوں پر آئی تو بھٹو کو گھر بھجوانے والے ضیاالحق کوپرسونا نان گریٹا قرار دے دیا گیا، بھٹو کی بیٹی محترمہ بے نظیر کو اسلم بیگ اچھا لگا کہ اس نے انہیں اقتدار دلوایا۔ اس خدمت کے عوض اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت بھی بے نظیر ہی نے عطا کیا۔ مگربے نظیر کو اسلم بیگ نے سیلوٹ نہ کیا تو اسلم بیگ برا ہو گیا۔ نواز شریف کو چوبرجی کا ایک ریٹائرڈ بریگیڈیر،گورنر جنرل جیلانی کی خدمت میںلے گیا جس نے اسے صوبائی کابینہ کا حصہ بنا لیا۔
جنرل حمید گل نے ا?ئی جے آئی بنا کر نواز شریف کو بے نظیر کی جگہ وزیراعظم بنایا تو حمیدگل اچھا اور ا سکا سیاست میں حصہ لینا بھی اچھا مگر آصف نواز برا ،جہانگیر کرامت برا اور پرویز مشرف بھی برا۔ صرف ضیاالحق آج بھی اچھا لگتا ہے کہ اس نے سیاست ا ور حکومت کا درس دیا۔ بیگم ضیا الحق اچھی کہ ماڈل ٹاﺅن میں آں تو میاں شریف نے انہیں ایک قیمتی ہار یہ کہہ کر دیا کہ بیٹیاں گھر آئیں تو انہیں تحفے تحائف دینا رسم دنیا ہے۔
ضیا الحق نے ا پنی عمر نوا ز شریف کو لگا دی ، وہ خود طیارہ حادثے میں شہید ہو گئے اور نواز شریف ان کی عمر لے کر آج بھی آکسفورڈ اسٹریٹ میں مٹر گشت کرتے ہیں اورسیاست میں سرگرم ہیں۔ یہ تو کل کی بات ہے کہ نواز شریف نے راحیل شریف کو خود ہی آرمی چیف بنایا اور پھر اس کے در پے ہو گئے۔
جنرل قمر جاوید کو بھی خود آرمی یچف بنایا مگر باجوہ کے ساتھ بھی ان کی ان بن جاری رہی اورا سکی وجہ اخباری لیکس تھیں جس کا دباﺅ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ورثے میں ملا۔
پوری فوج ان سے مطالبہ کر رہی تھی کہ وہ فوج کے وقار کو بحال کرائیں۔ پاکستان میں تو وکلا اور ینگ ڈاکٹرز تک اپنی تضحیک برداشت نہیں کرتے۔ فوج کے جوان تو قوم کے دفاع کی خاطر جانیں قربان کرتے ہیں۔ اور پھر بھی ان کے لئے طعنے۔
کہا یہ جارہا ہے کہ یہ سیاست دان فوج کے خلاف نہیں، سیاسی جرنیلوں کے خلاف ہیں لیکن ورکنگ باﺅنڈری پر احسن ا قبال اور خواجہ آصف کے حلقے میں بھارتی فوج کسی سویلین یا فوجی کو شہید کرتی ہے ۔
مگر یہ لیڈرز کسی شہید کے گھر اس کے یتیم بچوں کے سر پہ دست شفقت رکھنے نہیں گئے۔لائن ا ٓف کنٹرول تو ذرا دور ہے اور ن لیگی یا پی پی پی کے رکن کا وہاں قرب وجوار میں گھر نہیں۔ اس لئے وہاں ان لوگوں کے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو یہ بیانیہ بھی غلط ہوا کہ یہ لیڈرز فوج کے سچے ا ور کھرے یامخلص دوست ہیں۔ اگر دوستی کا حال یہ ہے تو دشمنی کا لیول کیا ہو گا۔بھارت کاا یجنڈہ انہیں اچھا لگتا ہے کہ پاک فوج کی تضحیک کرو۔ اس کے ایٹمی دانت توڑ ڈالو، مگر گیم شروع ہوئی ہے۔ذراا نتظار کریں کہ نواز شریف اور باقی اپو زیشن کیا گل کھلاتی ہے۔چھوٹا بھائی مفاہمت کی آڑ میں وہی کچھ کر رہا ہے جو بڑا بھائی محاذ آرائی کے ذریعے کرنا چاہتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*