چیئرمین نیب کی مولانا فضل الرحمان کیخلاف انکوائری کی منظوری

اسلام آ باد (آئی این پی ) چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری کی منظوری دے دی،کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، امیر مقام کے علاوہ شیراعظم وزیر کے خلاف انکوائری کی منظوری بھی دی، مالم جبہ کیس کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ پیر کو قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جنا ب جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا ۔اجلاس میںڈپٹی چئیرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅ نٹبلٹی نیب ،ڈی جی آپریشن نیب، ڈی جی نیب خیبر پختونخوا نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ۔ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کاروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں مالم جبہ سوات کیس میں معزز پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی مصدقہ نقول کی روشنی میںقانون کے مطابق کیس پر کارروائی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میںآفیسرز/آفیشلزآف بنک آ ف خیبر پشاور اور دیگر کے خلاف قواعد و ضوابط کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پربھرتیاں کرنے کے الزام میں انوسٹی گیشن کی منظوری دی گئی۔اس کے علاوہ انجینئر امیر مقام ،مولانا فضل الرحمان، کیپٹن ریٹائرڈمحمد صفدراورشیراعظم وزیر کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں انکوائریوں اوربلین ٹری سونامی کیس،نوابزادہ محمود زیب ودیگر،عثمان سیف اللہ اور دیگر کے خلاف جاری انویسٹگیشنز پر اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تما م انکوائریاںانویسٹگیشنز قانون کے مطابق آزادانہ ،منصفانہ، شفافیت،میرٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پرمکمل کی جائیں اور متعلقہ تمام افراد سے قانو ن کے مطابق ان کا موقف حاصل کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جنا ب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور کرپشن فری پاکستان کے لئے انتہائی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے کیونکہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی نہ صرف اولین ترجیح ہے بلکہ اس کیلئے تمام وسائل بروئے کارلائے جا رہے ہیں۔نیب نے احتساب سب کےلئے کی پالیسی کے تحت 466 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کےلئے اعزازکی بات ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت ،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے قانو ن کے مطابق اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے جہاں قانون اپنا راستہ خودبنائے گا۔ چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں اور تمام انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکوٹرز پوری تےاری ، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*